آئی ایس او کے زیر اہتمام "اسلامی طرز زندگی پر ایک نظر" سیمنار کا انعقاد/ تصویری رپورٹ

خبر کا کوڈ: 1191159 خدمت: پاکستان
آئی ایس او سیمنار8

امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن راولپنڈی (شعبہ طالبات) اور خانہ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران کے تعاون سے سیمنار بعنوان "اسلامی طرز زندگی پر ایک نظر" کا انعقاد پریس کلب راولپنڈی میں کیا گیا جس میں خواتین اور امامیہ طالبات کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق، سیمینار سے ڈائریکٹر جنرل خانہ فرہنگ راولپنڈی علی آقا نوری، علامہ حیدر علوی، منہاج القرآن علماء کونسل کے ضلعی صدر علامہ محمود احمد تبسم، رہنما مجلس وحدت مسلمین نثار علی فیضی، انجمن عالمی تحریک پنجتن پاک کے صدر پیر عظمت اللہ سلطان قادری سروری، ذکیہ نجفی، سیدہ گل زہراء، سیدہ نایاب زہراء، معصومہ بتول اور دیگر نے خطاب کیا۔

سیدہ گل زہراء نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسلمانوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے لیکن اسلام بحیثیت مذہب تنزلی کا شکار ہے۔ اسلامی طرز زندگی کو نہیں اپنایا جارہا۔ اسلام کو دہشت گردی اور وحشی پن کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ حالانکہ کہ اسلام امن و سلامی کا مذہب اور بہترین ضابطۂ حیات ہے۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ریڈیو پاکستان کے براڈکاسٹر نعیم قریشی کا کہنا تھا کہ دین اور تعلیمات رسول (ص) سے دوری کا نتیجہ ہے کہ آج مسلمان تنزلی کا شکار ہیں۔ ثقافتی، سماجی، معاشی اور دفاعی میدانوں میں کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ اسلامی طرز زندگی اپنایا جائے۔

مجلس وحدت مسلمین کے رہنما نثار فیضی کا کہنا تھا کہ اسلام انسانیت کی کامیابی اور سربلندی کا مذہب ہے۔ دین اسلام خالق حقیقی کی جانب سے مرحلہ وار بھیجا ہوا دین ہے۔ آج دنیا دو واضح بلاکس میں تبدیل ہو چکی ہے، ایک بلاک انسانیت جبکہ دوسرا درندگی اور وحشی پن کا پرچار کر رہا ہے۔ بعض نام نہاد مسلمان بھی درندگی اور وحشت کو فروغ دے رہے ہیں۔ انقلاب اسلامی کو انفجار اسلامی کا نام دیا گیا۔ اس نور سے روشنی لینے والوں نے فتح اور سرفرازی پائی، آج عرب دنیا کے اندر انقلاب اسلامی کی بدولت بیداری کی لہر دوڑ گئی ہے۔ رہبر کبیر بانی انقلاب آیت اللہ امام خمینی (رہ) کے مطابق، دو طرح کے اسلام ہیں، ایک اسلامی ناب محمدی اور دوسرا اسلام امریکائی، رہبر معظم سید علی خامنہ ای کے قریب اسلامی معاشرے کی بنیادی اکائی خاندان جبکہ مغرب کے نزدیک فرد ہے۔ آج ہمیں سوشل میڈیا کی بجائے خاندان کو وقت دینا چاہئے۔ طرز حکمرانی سمیت تمام امور اسلامی طرز زندگی میں بتائے گئے ہیں۔ حجاب عورت کو نہیں بلکہ مرد کی نظروں کو محدود کرنے کے لئے لازم قرار دیا گیا ہے۔

علامہ حیدر علوی نے کہا کہ تعلیم کے شعبے سے اسلامیات کو لارڈ میکالے نے نکالنے کا سلسلہ شروع کیا جو آج تک جاری ہے۔ انسان سازی کے لئے لکھی گئی کتاب آج تعلیم کے شعبے میں نہیں ملتی۔  خاتون کا کردار معاشرے میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ سیدہ خدیجۃ الکبری(س) اسلام کی سب سے بڑی معاون تھیں۔ آپ کی وفات پر سرکار ختمی مرتبت ﷺ نے پورا ایک سال عام الحزن غم کا سال منایا۔

رہنما تحریک منہاج القرآن محمود تبسم نے اس دوران کہا کہ اسلام جامد مذہب نہیں، اسی لئے اس کے مقاصد بھی متحرک رہ کر ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ تعلیم و تربیت کے لئے صراط مستقیم سے بہتر کوئی راستہ نہیں۔ دیندار لوگ آج بے حسی اور جمود کا شکار ہیں۔ اسلامی طرز زندگی اپنانے کے لئے ایمان، علم و عمل اور روحانیت ضروری ہیں۔

ذکیہ نجفی کا کہنا تھا کہ اسلام ظواہر کی بجائے باطنی امور پر زور دیتا ہے۔ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا عورتوں کے ساتھ ساتھ پوری انسانیت کے لئے آئیڈیل ہیں۔ انہوں نے مال دیکر دارین خریدی۔ آج دین اسلام کا دیا ہوا لائف اسٹائل اپنانا ضروری ہے۔ مومن کی شان ہے کہ مباح کام کو بھی اپنی عبادت میں بدل کر رکھ دیتا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل خانہ فرہنگ اسلامی جمہوری ایران راولپنڈی کا کہنا تھا کہ اسلامی طرز زندگی کے خلاف مغرب نے باقاعدہ اقدامات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے ایسے اقدامات کئے جن کے باعث اسلامی معاشرے پر اثرات مرتب ہوئے اور اسلامی معاشرے کو بے راہ روی کی طرف لیجانے کی سازش کی گئی۔ آج ہماری ذمہ داری ہے کہ اسلامی معاشرے کے قیام کے لئے ہر ضروری قدم اٹھائیں اور اسے مضبوط اور محکم بنیادوں پر قائم کریں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری