صدر روحانی:

پاک ایران کی سلامتی اور ترقی ایک دوسرے سے منسلک ہیں/ گوادر کو چابہار کا حریف نہیں سمجھتے

خبر کا کوڈ: 1192926 خدمت: ایران
نواز و روحانی

ایرانی صدر حسن روحانی نے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے دوران اقتصادی اور دفاعی تعاون بڑھانے پر زور دیتے ہوئے دونوں ممالک کی سلامتی اور ترقی کو ایک دوسرے سے منسلک قرار دیا اور کہا کہ تہران گوادر بندرگاہ کو چابہار کا حریف نہیں سمجھتا۔

خبررساں ادارے تسنیم کی رپورٹ کے مطابق، حجت‌الاسلام والمسلمین حسن روحانی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقعے پر پاکستان کے وزیراعظم سے ملاقات کی اور اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان باہمی تعلقات روز بروز ترقی کر رہے ہیں،کہا کہ ایرانی عوام پاکستان کے ساتھ تعلقات کی ترقی کے لئے ایک خاص اہمیت کے قائل ہیں اور یہ پاکستان کے عوام کے ساتھ تاریخی اور ثقافتی رشتوں کا نتیجہ ہے۔

ایران کے صدر نے کہا کہ  تاریخی، ثقافتی اور علاقائی حالات کا تقاضا ہےکہ دونوں ممالک کی عوام کے مفادات کے پیش نظر تہران اور اسلام آباد کے درمیان تعلقات مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خوش قسمتی سے آج پابندیوں کے خاتمے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کو گہرا کرنے کے لئے خاص طور پر اقتصادی شعبے میں بہترین مواقع فراہم ہوئے ہیں۔

حسن روحانی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران پاکستان کی توانائی کی ضروریات کی فراہمی کے لئے آمادہ ہے اور دونوں ملک تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں بھی مزید تعاون کر سکتے ہیں.

ایرانی صدر نے بیان کیا کہ بینکنگ تعلقات معاشی روابط کی بنیاد ہیں لہذا بینکنگ معاہدوں کے اجرا کا عمل تیز کرنے خصوصی تقجہ کی ضرورت ہے۔

حسن روحانی نے پاکستان کی سلامتی اور ترقی کو ایران کی سلامتی اور ترقی قرار دیا اور کہا کہ گوادر بندرگاہ کو چابہار کا حریف نہیں سمجھتے ہیں بلکہ پاکستان کا کوئی بھی حصہ ترقی کر رہا ہو تو اس کو ہم اپنی ترقی سمجھتے ہیں۔

ایرانی صدر نے مزید کہا کہ ایران نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ ایران اور پاکستان کی سرحدیں سلامتی اور دوستی کی سرحدیں ہوں۔ آج اس علاقے میں کافی ترقی ہوئی ہے اور اس سلسلے مزید اپنی کوششوں کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔

ایرانی صدر روحانی نے وزیر اعظم نواز شریف کو دورہ ایران کی دعوت دیتے ہوئے پاکستان سے اقتصادی اور دفاعی تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔

اس موقع پر دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام من جملہ وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز، معاون خصوصی طارق فاطمی اور ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف بھی موجود تھے۔

ملاقات کے دوران وزیراعظم نواز شریف نے ایرانی صدر کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے بھی آگاہ کیا جب کہ دونوں رہنماؤں نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر پیش رفت کے حوالے سے اطمینان کا اظہار کیا اور دو طرفہ تجارت بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے منسلک ہے اور پاکستان کی ترقی کو اپنی ترقی سمجھتے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون میں اضافے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی دونوں ممالک میں دفاعی تعاون ہوتا رہا ہے۔

ایرانی صدر نے پاک چین اقتصادی راہداری میں شریک ہونے کی بھی خواہش کی اور کہا گوادر اور چاہ بہار بندرگاہ منصوبوں سے تجارت میں اضافہ ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں شریک ہونے کا خواہشمند ہے۔

اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف نے یاد دلایا کہ 1967ء سے ایران جارہا ہوں، ایرانی عوام سے محبت ہے، ایران پرعالمی پابندیوں کے خاتمے کے بعد دوطرفہ تجارتی حجم دگنا کریں گے اور اقتصادی شعبے میں تعاون کو وسعت دینے کے لئے ہر قسم کی رکاوٹیں دور کریں گے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری