پاکستان اور ہندوستان کے درمیان گھمسان کا رن پڑنے والا ہے؟ حقائق و محرکات ہوا کا رخ کیا بتاتے ہیں؟

پاکستان اور ہندوستان دونوں نیوکلیئر طاقتیں ہے اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ڈیڑھ ارب لوگوں کو اپنے سائے میں لئے ہوئے ہے۔ دونوں ہی ممالک کبھی جنگ اور کبھی امن کا دور اپنی سرحدوں کے ساتھ لئے رہتے ہیں اور لیکن یہ حالیہ کشیدگی کا اونٹ کس کروٹ بیٹھنے جا رہا ہے آئیے تجزیہ کرتے ہیں۔

پاکستان اور ہندوستان کے درمیان گھمسان کا رن پڑنے والا ہے؟ حقائق و محرکات ہوا کا رخ کیا بتاتے ہیں؟

تجزیہ کار مسعود چوہدری نے تسنیم نیوز کو ارسال کئے گئے اپنے مقالے کو پاک و ہند کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس سلسلے میں حقائق و محرکات پر روشنی ڈالتے ہوئے کچھ یوں تحریر کیا ہے:

ہماری آنے والی نسلیں اس بات پر شاید ہمیں کبھی معاف نہ کریں کہ کس طرح ہم صرف ذاتی مفادات کی خاطر سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرتے ہوئے تاریک راہداریوں کے مسافر بننے چل پڑے ہیں. آج جھوٹ اتنے تواتر اور یقین محکم کے ساتھ بولا جا رہا ہے کہ عام انسان تو درکنار بڑے بڑے زعماء بھی نفرت کے اس گرداب میں دھنستے ہی چلے جا رہے ہیں۔

اڑی سیکٹر میں ہندوستان کے اٹھارہ فوجی مر گئے!  مجھے اس پورے واقعے پر شکوک و شبہات کو ایک جانب رکھتے ہوئے سب سے پہلا سوال جو ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ ہماری نسل انسانی کی ترجیحات کیا ہیں؟ خون ناحق جس کا بھی بہے وہ ظلم عظیم ہے۔

کیا یہ فوجی چھاؤنی نہتے بچوں، اور معصوم خواتین کی فوجی چھاؤنی تھی؟

کیا یہ فوجی حضرات اپنا دفاع کرنے کی اہلیت، قابلیت،  اور ضروری ساز و سامان نہیں رکھتے تھے؟

پچھلے دو ماہ میں جب سے وانی کی شہادت ہوئی ہے ایک سو سولہ نہتے بےچارے بے یار و مددگار بچے، مرد و خواتین شہید اور چھ ہزار سے زائد زخمی ہو چکے لیکن آج اس قرطاس ابیض پر کہ پاکستان دہشت گردی کا ایکسپورٹر ہے تو امریکی سینٹ میں ایک دہشت گرد ملک قرار دینے کے لئے بھاگ دوڑ شروع ہو گئی ہے لیکن پچھلے ستر سالوں سے جو خون کی ہولی دن رات کشمیر میں کھیلی جا رہی ہے اس پر تو کوئی دہشت گردی کا نام تک نہیں لیا گیا۔

ہندوستان کی اندرونی صورتحال کیا ہے؟

نریندر مودی نے خود کو ہمیشہ گریٹر انڈیا کے خواب کا پیرو قرار دیا ہے اور بہت بڑھ چڑھ کر اپنی مردانگی اور جنگی جنون کی نہ صرف ترویج کی ہے بلکہ اپنے ارد گرد کے لوگوں کو اس بات کا پورا پورا یقین بھی دلایا ہے. اب تک وہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ وہ ہندوستان کی عوام کے وہ مسیحا ہیں جس کا خواب انہیں گجرات کے فسادات کے وقت سے دکھایا جاتا رہا ہے. اب جبکہ الیکشن سر پر ہیں اور عوامی حمایت میں کمی آ رہی ہے تو ایک ایسی مہم جوئی کی بجا طور پر ضرورت درپیش تھی جو ایک تیر سے کئی ایک شکار کرنے میں کامیاب رہے۔

انکی ٹیم کی خواہشات بھی بہت معصومانہ ہیں جیسے کہ؛ پاکستان ایک دہشت گرد ملک ہے، اس کی نشاندہی اور اسے اکیلا کر دیا جانا چاہئے.  راج ناتھ سنگھ صاحب جو کہ ہندوستان کے ہوم منسٹر ہیں۔

بھارتی جنتا پارٹی حزب اقتدار کی جماعت ہے، نے سیکریٹری جنرل رام مادھو کا فرمان عالی شان ہے کہ " ایک دانت کے بدلے پورا جبڑا "

دوسری جانب وار ہسٹیریا یعنی جنگی جنون اس زور سے سر چڑھ کر بول رہا ہے کہ ہندوستان کے تقریباً تمام ٹی وی چینلز ہی طبل جنگ بجا رہے ہیں. کہ ابھی حملہ ہوا کہ ہوا۔

ارناب گوسوامی جن کا پروگرام ہندوستان میں سب سے زیادہ دیکھا جاتا ہے پاکستان کی جانب حوالہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں "ہمیں انہیں مروڑ دینا چاہئے، ہمیں انہیں گھٹنوں کے بل ہونے پر مجبور کر دینا چاہئے۔"

ان باتوں سے سوامی صاحب کو ٹی آر پی تو بہت زیادہ اور بہترین ملی ہو گی لیکن حقیقت حال اس سے بہت دور ہی ہو سکتی ۔

قصہ مختصر یہ کہ ہر شخص خواہ عام ہو یا خواص میں سے جنگ ہوتی دیکھ رہا ہے لیکن ہندوستان کی سرکار ایسا بالکل نہیں چاہتی. مودی سرکار کے ذہن میں ایک اہم سوال ہے کہ؛

لیکن تیار پڑے جوہری ہتھیاروں کا کیا؟ پاکستان کا کتنا نقصان ہندوستان کرنا چاہے گا؟ اس کے نتیجے میں ہندوستان کا کتنا نقصان ہو گا؟

میجر جنرل ڈی جے بخشی صاحب گویا ہوئے اور کہا کہ "اگر ہم پاکستان پر جوہری ہتھیار استعمال کرتے ہیں تو آٹھ سو سال تک کوئی فصل نہیں ہو گی! ہمیں ایک مخصوص وقت کے لئے خود کو بچانے کی پالیسی ترک کر دینی چاہئے۔ "

اگر پاکستان کا اتنا نقصان ہو گا تو جس مملکت خداداد کو ہندوستان پر اس معاملہ میں برتری لینے کا شوق ہے اور پانچ ایٹمی دھماکوں کا جواب چھ ایٹمی دھماکوں سے دینے کا اعزاز رکھتی ہے اور پوری مسلم دنیا کی واحد جوہری طاقت ہے کیا ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہے گی؟  اگر ایسا ہوتا ہے جیسا جنرل بخشی کا خیال ہے تو یہ یقیناً ہندوستان اور خطے دونوں کے لئے ایک خودکشی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہو گی۔

پاکستان کا جواب کیا ہے؟

سرتاج عزیز  وزیراعظم نواز شریف کے ایڈوائزر فارن افیئرز نے بیان جاری کیا اور کہا کہ "پاکستان واضح طور پر نفی کرتا ہے ان تمام غیر سنجیدہ اور بلا سر پیر الزامات کی جو کہ وزیراعظم مودی سرکار کے سینئر لوگ لگا رہے ہیں. " انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر سے ہٹانے کے لئے یہ سب کچھ کر رہا ہے ۔"

وزیر اعظم نواز شریف نے سکیورٹی کونسل میں اپنی تقریر کے دوران بھی یہ ہی موقف اختیار کیا ہے۔

جبکہ حامد میر صاحب جو کہ جیو ٹی وی کے اینکر پرسن ہیں انہوں نے مطالبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ "اگر ہندوستان سچا ہے تو اقوام متحدہ سے تحقیقات کیوں نہیں کروا لیتا "

دوسری جانب عسکری قیادت مکمل طور پر تیار ہے چاہے جس طرح کے حالات کا بھی سامنہ کرنا پڑ جائے.

لیکن زمینی حقائق کیا ہیں؟

اڑی واقعہ کوئی پہلا حملہ نہیں ہے جو ہندوستان کی سرزمین پر ہوا ہو اور یہ کوئی پہلا الزام بھی نہیں ہے جس کے بعد انگلیاں پاکستان کی جانب اٹھائی گئی ہوں. عوام کی داد وصولنے کی خاطر سیاستدان اس طرح کی حرکات و سکنات کیا کرتے ہیں جن کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے. اکثر اوقات یہ گیدڑ بھَپکیاں ہی ہوا کرتی ہیں۔

جنوری میں پٹھان کوٹ ایئر بیس واقعہ ہو یا دوہزار آٹھ میں ہونے والا ممبئ حملہ. پاکستان ہمیشہ الزامات کی زد میں ہی رہا ہے اور پاکستان ہمیشہ ہی ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے. دوسری جانب ہندوستانی وزیراعظم برملا بلوچستان میں مداخلت کا اقرار کر چکے ہیں اور اپنے ووٹر حضرات کی ہمدردیاں بھی سمیٹ چکے ہیں۔

کلبھوشن کے بارے میں ہندوستان اقرار کر چکا ہے کہ یہ انہی کا بندر ہے اور یہ ریاستی دہشتگردی کی ایک واضح مثال کے طور پر کئی صدیوں تک پیش کی جاتی رہے گی۔

لیکن یہ بات بھی ذہن میں رکھی جانی چاہئے کہ عوام کی امنگوں کے مطابق اکثر فیصلہ سازی نہیں کی جاتی.

ہندوستان کو سکیورٹی ایڈوائزرز یہ مشورہ دے چکے ہیں کہ اگر پاکستان پر حملہ کیا جاتا ہے تو یہ پاکستان کے حق میں تو جا سکتا ہے لیکن ہندوستان کو اس کا نقصان ہی ہو گا۔

ہندوستان کی یہ منصوبہ بندی کی ناکامی ہی ہے کہ اس نے ایک پیدائشی طور پر مردہ طرز کی حملہ آور تکنیک کو زبردستی قابل عمل بنانے کی کوشش کی ہے. اسرائل کی مدد سے تیار کردہ کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرن کا اطلاق پاکستان پر نہیں ہوتا.

ہائی مارک جنگی مشقوں سے جنرل راحیل شریف صاحب کے اس بیان کو بھی تقویت حاصل ہو جاتی ہے کہ "کولڈ اسٹارٹ ہو یا کوئی اور پاکستان ہر ڈاکٹرن کے مقابلہ میں مکمل تیار ہے"...، " ہمارا دفاع نا قابل تسخیر اور ہماری مسلح افواج ہر دم تیار ہیں۔"

مودی سرکار اس بات سے بھی بخوبی آگاہ ہے کہ پاکستان دنیا کی چھٹی سب سے بڑی اسٹینڈنگ آرمی ہے جس کے پیچھے بیس کروڑ عوام کھڑی ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ شیر دل پاکستانی کبھی پیچھے نہیں ہٹتے.

میدان جنگ میں تعداد کا بہت عمل دخل ہوتا ہے. کہنے میں اور کرنے میں بہت فرق ہے. کیا دنیا چاہے گی کہ دنیا کی دو جوہری ہتیھیاروں سے لیس افواج آپس میں ٹکرا جائیں اور ایک نہ ختم ہونے والی انسانی تاریخی غلطی کی جانب چل نکلیں. پھر ہندوستانی افواج کا مورال کیا ہو گا؟ جنگ جتنا ہندوستان اور ہندوستانی عوام آسان سمجھ رہے ہیں اتنا ہے نہیں.

پاکستان ایک حقیقت ہے اور اسے تسلیم کیا جانا چاہئے۔

پاک بھارت تعلقات میں کبھی سرد مہری رہی ہے، کبھی کشیدگی اور کبھی نزدیکیاں بڑھی بھی ہیں. یہ بہت نپے تلے تعلقات ہیں اور کسی بھی طرح کی جنگ کے نتائج اس سے کئی گنا زیادہ خطرناک ہو جائیں گے جتنا آپ اور میں تصور کرتے ہیں. ہاں دونوں ممالک کی آرمی کا ہیڈ ٹو ہیڈ ایک دوسرے کے مد مقابل کھڑا ہو جانا ایک الگ بات ہے۔

جنرل مشرف صاحب کو جب پاکستان میں سیاسی مشکلات کا سامنا تھا مارشل لاء کے نتیجے میں تو اس وقت بھی کمال مہارت سے دونوں ممالک کی سیاسی قیادت عوام کو بیوقوف بنا کر اپنے مفادات کو حاصل کرنے میں کامیاب رہی تھی اور آج بھی جس انداز میں نوازشریف حکومت اندرونی پریشر کا شکار تھی اسے مودی سرکار کا شکریہ ادا کرنا چاہئے جس نے اسے موقع فراہم کیا کہ پورا پاکستان اس وقت حکومت وقت کے ساتھ کھڑا ہو گیا. یہاں تک کہ شیریں مزاری صاحبہ جیسی حکومتی نقاد نے بھی کہا کہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کےمطالبہ کے بیان کی پزیرائی کرتے ہیں۔

میرا حالات و واقعات و معاملات پر تجزیہ کہتا ہے کہ جنگ نہیں ہو گی لیکن پاکستان جنگ کے لئے تیار ہے اور ہندوستان کے لئے یہ ہی سب سے خطرناک بات ہے.

سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری