منہاج القرآن علماء کونسل کے ضلعی صدر کا تسنیم نیوز کے ساتھ خصوصی مکالمہ؛

سعودی حکومت ایرانیوں پر حج پابندی فی الفور اٹھائے/ ایرانی ہمارے بھائی ہیں

خبر کا کوڈ: 1193724 خدمت: انٹرویو
علامہ محمود احمد تبسم

تحریک منہاج القرآن علماء کونسل کے ضلعی صدر نے کہا ہے کہ سعودی حکومت کو ایرانیوں پر عائد حج پابندی کو فی الفور اٹھانی چاہئے، ایرانی ہمارے بھائی ہیں، انہیں حج کی سعادت اور روضہ رسول ﷺ پر حاضری کا موقع ملنا چاہئے۔

تحریک منہاج القرآن علماء کونسل کے ضلعی صدر علامہ محمود احمد تبسم کا خبر رساں ادارے تسنیم کے نمائندے کے ساتھ خصوصی انٹرویو قارئین و صارفین کے پیش خدمت ہے۔

تسنیم نیوز: گزشتہ دنوں ڈاکٹر علامہ طاہر القادری نے راولپنڈی میں احتجاجی جلسہ کیا، اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟ رائیونڈ کی جانب مارچ کیا جائے گا؟ پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دیا جائے گا؟ قصاص کس طرح حاصل کیا جائے گا؟

علامہ محمود احمد تبسم: میں سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹر علامہ طاہر القادری نے اپنی تقریر کے اندر یہ بات کہہ دی تھی کہ آج ہمارے احتجاج کا پہلا فیز مکمل ہو چکا ہے۔ احتجاج کا تسلسل جاری رہے گا۔ انہوں نے کارکنان سے یہ رائے لی تھی کہ ہمیں اسلام آباد جانا چاہئے یا لاہور تو اکثریت کی رائے یہی تھی کہ لاہور جانا چاہئے۔ صرف رائے لی تھی تاہم فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ مرکزی قیادت سے فیصلہ کرنے کے بعد موجود حالات کے پیش نظر قبلہ ڈاکٹر صاحب نے یہی بہتر سمجھا۔

چونکہ پاکستان کے اندر انہیں اس طرح کا انصاف نہیں مل سکا ہے۔ گزشتہ دو سال سے یہ کیس عدالتوں میں پڑا ہوا ہے۔ بہت سی کوشش کے باجود انصاف نہیں ملا۔

جنرل راحیل شریف نے ایف آئی آر درج کرائی تھی تو اس کے بعد ڈاکٹر صاحب نے یہ سوچا کہ اتنا عرصہ ہو گیا یہاں انصاف نہیں ملا اس وجہ سے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا جائے۔

ڈاکٹر صاحب اسی سلسلے میں یورپی یونین اور دیگر انصاف کے عالمی اداروں سے رجوع کرنے برطانیہ تشریف لے گئے ہیں۔ اسی ماہ کے آخر میں واپس آئیں گے اور احتجاجی سلسلے کے دوسرے فیز کا اعلان کریں گے۔

ہم ان کے منتظر ہیں، جیسے مرکزی قیادت کا فیصلہ ہوگا وہی کام انجام پائے گا تاہم ابھی فیصلہ نہیں ہوا کہ رائیونڈ جانا ہے یا اسلام آباد جانا ہے۔ لیکن ہم قصاص کے حصول کے لئے آخری حد تک جائیں گے، چودہ شہداء اور زخمیوں کو انصاف دلانے کے لئے ہر اقدام اٹھائیں گے۔

تسنیم نیوز: پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ گزشتہ دھرنے میں آپ کے اچھے تعلقات رہے، پاکستان عوامی تحریک اور پی ٹی آئی نے ملکر حکومت کو ٹف ٹائم دیا، کیا وجہ ہے کہ اس مرتبہ راستے جدا جدا ہیں؟

علامہ محمود احمد تبسم: دراصل پی ٹی آئی کی اپنی حکمت عملی ہے اور ہماری بھی اسی طرح حکمت عملی جدا ہے۔ وہ انصاف کی اور ہم قصاص کی تحریک چلا رہے ہیں اور اس سلسلے میں میں سمجھتا ہوں کہ پی ٹی آئی نے عجلت سے کام لیا ہے، مشاورت نہیں کی ہے۔ اگر وہ مشاورت کر لیتے تو صرف عوامی تحریک ہی نہیں بلکہ بہت ساری دیگر جماعتیں بھی ان کے ساتھ ہوتیں۔

تسنیم نیوز: اسلامی طرز زندگی اور اسلامک لائف اسٹائل اس وقت کس حد تک ضروری ہے؟

علامہ محمود احمد تبسم: نبی پاک ﷺ کا اسوہ ہمارے لئے بہترین نمونہ ہے۔ اس وقت ہمارا پورا معاشرہ مغربی تہذیب کا دلدادہ ہو چکا ہے اور ضرورت ہے کہ ہم اپنی کھوئی ہوئی بساط کو بحال کرنے کے لئے اسلامی طرز عمل اپنائیں، اسی میں فلاح و کامیابی ہے۔

تسنیم نیوز:  محرم کا پر برکت مہینہ سر پر ہے اور ملک بھر میں سیکیورٹی خدشات سے بھی سب واقف ہیں۔ اس سلسلے میں حکومت پاکستان اور ملک بھر میں مسلمانوں کا کیا فریضہ بنتا ہے؟

علامہ محمود احمد تبسم: عاشورہ کا دن اور امام حسین علیہ السلام کی شہادت پورے عالم اسلام کے لئے اہم دن ہے چونکہ اس دن امام عالی مقام علیہ السلام نے امت مسلمہ کی خاطر عظیم قربانی پیش کی اور اسلام کو بچایا ہے، ہم سجھتے ہیں اس مہینے میں پوری امت مسلمہ کو جتنا ہو سکے امام حسین علیہ کو خراج عقیدت پیش کرنا چاہئے، حکومت وقت کو چاہئے کہ سیکیورٹی کا بھرپور طریقے سے انتظام کرے، امن عامہ کی صورتحال کو باقاعدہ طور پر کنٹرول کیا جائے اور اسے برقرار رکھا جائے۔ چونکہ امام حسین علیہ السلام نے اپنی اور اپنے جانثاروں کی جو قربانی پیش کی، وہ پوری ملت اسلامیہ کے لئے تھی۔ انہوں نے اپنا گھر بار سب کچھ لٹایا۔ اسلام کی سربلندی اور بچانے کے لئے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ جس بھی فرقے سے تعلق رکھتا ہو، کسی بھی مسلک سے ہو، عاشورہ کے دن کو نہایت عقیدت و احترام سے منائے۔

امام حسین علیہ السلام چونکہ نواسۂ رسول ﷺ ہیں اور یم سب مسلمان نبی پاک ﷺ کے کلمہ گو ہیں اور پیغمبر اکرم ﷺ کے بقول وہ اور امام حسین علیہ السلام ایک ہی ہیں تو اس حدیث سے واضح ہے کہ امام علیہ السلام سب مسلمانوں کے لئے محترم ہیں۔

تسنیم نیوز: ہم نے دیکھا کہ اس مرتبہ حج کے موقع پر سعودی عرب نے ایرانی قوم پر پابندی عائد کی اور ایک ایرانی کو بھی حج کی سعادت سے ہہرہ مند ہونے کا موقع نہیں مل سکا، اس اقدام کو امت مسلمہ کی وحدت کے تناظر میں کیسے دیکھتے ہیں؟

علامہ محمود احمد تبسم: میں سمجھتا ہوں کہ سعودی حکومت کو یہ پابندی فی الفور اٹھانی چاہئے، ایرانی ہمارے بھائی ہیں، انہیں حج کی سعادت اور روضہ رسول ﷺ پر حاضری کا موقع ملنا چاہئے۔

تسنیم نیوز: آل سعود بحرین میں بھی ظلم و جبر کے ذمہ دار ہیں، جہاں آل خلیفہ نے علماء کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے، اپنے ہی عوام کے حقوق سلب کئے جارہے ہیں، انہیں جیلوں میں ڈالا جارہا ہے، جید عالم دین شیخ عیسیٰ قاسم کی شہریت منسوخ کرنے کے بعد انہیں ملک بدر کرنے کی تیاری کی جارہی ہے، جمعہ نماز سے گزشتہ دو ماہ سے روکے رکھا گیا ہے، ایسے اقدامات کو کیسے دیکھتے ہیں؟

علامہ محمود احمد تبسم: ہم ان تمام اقدامات کی پرزور مذمت کرتے ہیں، اپنے ہی مسلمانوں پر ظلم ڈھانا کہاں کی عقلمندی ہے، عرب شہنشاہوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں، اس سے قبل کہ عوام ان کے سروں سے تاج نوش کر انہیں تخت سے محروم کر دیں۔

عرب حکمرانوں کی جانب سے یمن، شام، عراق اور دیگر تمام مسلمان ممالک میں کارروائیوں کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری