خصوصی رپورٹ/

پاک روس مشترکہ جنگی مشقوں پر ہندوستان سیخ پا

خبر کا کوڈ: 1193814 خدمت: پاکستان
پرچم هند و پاکستان

روسی فوج کا دستہ پاک فوج کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقوں میں حصہ لینے کے لئے پاکستان پہنچ گیا ہے۔ یہ ایسے موقع پر ہے کہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ سرحدوں پر فوجی نقل و حرکت میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کی رپورٹ کے مطابق، روسی فوجی دستہ جنگی مشقوں میں حصہ لینے کے لئے پاکستان پہنچ گیا ہے ہے۔

ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بتایا ہے کہ پاکستان اور روس کی بری افواج تاریخ میں پہلی مرتبہ مشترکہ جنگی مشقوں میں حصہ لے رہی ہیں۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق، پاک روس مشترکہ جنگی مشقوں کا سلسلہ 24 ستمبر سے 10 اکتوبر تک جاری رہے گا۔

پاک روس مشترکہ جنگی مشقوں میں دونوں ممالک کی اسپیشل سروسز (ایس ایس جی) حصہ لیں گی اور یہ مشقیں اسپیشل سروسز کے تربیتی علاقے میں ہی ہوں گی۔ مشترکہ مشقوں کا نام “دورزبہ” رکھا گیا ہے جو روسی زبان کا لفظ ہے اور اس کا مطلب دوستی کے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ مشقیں ایک ایسی حالت میں منعقد ہونے جا رہی ہیں کہ پاک بھارت کشیدگیاں اپنی عروج پر ہیں۔

گزشتہ روز پاک میڈیا نے خبر دی تھی کہ بھارتی جنگی جہاز دونوں ممالک کے سرحدوں علاقوں پر پروازیں کر رہی ہیں جبکہ دوسری جانب، پاکستان نے بھی ہائی مارک 2016ء نامی جنگی مشقوں کا آغاز کرتے ہوئے موٹر ویز کو رن ویز کے لئے استعمال کرنا شروع کیا ہے۔

جہاں بھارت نے اپنی فوج کو پاکستان کے ساتھ مشترکہ سرحد پر چاک و چوبند رہنے کا حکم دیا ہے وہیں پاک فوج بھی بھاری ہتھیار کے ہمراہ سرحدی علاقوں کی جانب گامزن ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاک بھارت کشیدگیوں میں اضافہ اور بالخصوص ماسکو – اسلام آباد کے درمیان بڑھتی نزدیکیوں نے نئی دہلی کے خدشات میں مزید اضافہ کر دیا ہے جس کی وجہ سے اس ملک کے حکام کی نیندیں اڑ گئی ہیں۔

پاکستان اور روس جو گزشتہ کئی سالوں سے سرد جنگ کے دوران ایک دوسرے کے حریف سمجھے جاتے تھے، آج علاقائی مسائل میں تعاون کے علاوہ، فوجی اور اقتصادی تعاون بڑھانے میں گہری دلچسپیاں لے رہے ہیں۔ 

دوسری جانب، بھارت نے امریکہ اور صہیونی حکومت کے ساتھ اپنے روابط میں خاطر خواہ اضافہ کر دیا ہے جبکہ پاکستان گزشتہ کی نسبت چین کے مزید نزدیک آگیا ہے۔

مشاہدہ کیا جا رہا ہے کہ روس بھی یوکرائن بحران کی وجہ سے امریکہ اور یورپ کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا کر رہا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے تعاون کو پاکستان اور چین کے ساتھ مزید مستحکم کرنا چاہتا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری