ایک ہی ملک میں تین صدر اور تین وزیراعظم

خبر کا کوڈ: 1194609 خدمت: پاکستان
گلگت بلتستان

گلگت بلتستان کی عوام کا مطالبہ ہے کہ اس علاقے کو کشمیر طرز کے سیٹ اپ کے بجائے مکمل طور پر آئینی صوبہ بنایا جائے کیوںکہ آزاد کشمیر میں پہلے سے ہی صدر اور وزیراعظم موجود ہیں اب گلگت بلتستان میں صدر اور وزیراعظم کی تقرری سے ایک ہی ملک میں تین صدور اور تین وزراء اعظم بن جائیں گے۔

تسنیم خبررساں ادارے نے علاقائی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اسپیکر قانون ساز اسمبلی حاجی فدا محمد ناشاد کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی نے کئی بار جی بی کو مکمل آئینی صوبہ بنانے کی قراردادیں منظور کی ہیں۔

ناشاد کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کو مکمل آئینی صوبہ بنانے کی قانون ساز اسمبلی کی قراردادوں کی تقریباً 21 سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے حمایت کی ہے اس کے باوجود علاقے کو آزاد کشمیر طرز کاسیٹ اپ دینے کی افواہیں سمجھ  سے بالاتر ہیں۔

کے پی این سے بات چیت کرتے ہوئے فدا ناشاد کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے مستقبل کا فیصلہ صوبائی اسمبلی کی قراردادوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کرنا چاہئے کیونکہ اسمبلی کی قراردادیں 20 لاکھ عوام کی آواز ہے۔ اسمبلی کی قراردادوں کو کسی صورت میں بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے حکومت پاکستان پر زور دیتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے 20 لاکھ عوام کی دل آزاری اور مایوسی کو دور کیا جائے۔

انہوں نے اقتصادی راہداری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے سے گلگت بلتستان کے عوام مایوس ہیں لہٰذا اس علاقے کو بھی برابری کی بنیاد پر حصہ ملنا چاہئے۔

ان کا کہنا تھا کہ سی پیک کی آخری منزل (گوادر) کو حصہ دینے کی باتیں کی جارہی ہیں لیکن جہاں سے اس منصوبے کی شروعات ہیں اس کو نظر انداز کیا جارہا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ گوادر کو جو حصہ مل رہا ہے وہ ہمیں بھی ملے۔

انہوں نے علاقے میں موجود بجلی بحران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جب ناران، کاغان کے چھوٹے چھوٹے بجلی کے منصوبوں کو سی پیک میں شامل کیا گیا ہے تو روندو، بونجی کے سات ہزار دوسو میگاواٹ بجلی پیدا کرنے والے اتنے بڑے ڈیم کو کیوں نظر انداز کیا جارہا ہے؟

فدا ناشاد نے گلگت - اسکردو روڈ کی ابتر صورتحال کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا: روڈ کی تعمیر کے لئے کوششیں تیز کردی گئی ہیں اور یہ بات درست نہیں ہے کہ ہم روڈ کی تعمیر میں سنجیدہ نہیں ہیں۔

یاد رہے کہ گلگت - اسکردو روڈ اور آئینی حقوق علاقے کے عوام کے لئے موضوع بحث بنے ہوئے ہیں اور لوگوں کا شکوہ ہے کہ گلگت قانون ساز اسمبلی میں موجود عوامی نمائندے وفاقی حکومت کے سامنے اپنے مطالبات منوانے میں ناکام نظر آرہے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری