مصر کی شام حکومت سے متعلق سعودی موقف کی سخت مخالفت

خبر کا کوڈ: 1195214 خدمت: اسلامی بیداری
شکری

مصری وزیرخارجہ نے بشارالاسد کے بارے میں سعودی عرب کے ساتھ شدید اختلافات کی خبر دی ہے۔

تسنیم خبررساں ادارے نے العالم کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ مصرکے وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران الاھرام، الاخبار اور الوطن روزناموں کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب شام میں بشار حکومت کا خاتمہ چاہتا ہے لیکن مصر اس بات کو شدت سے مسترد کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا: قاہرہ کا خیال ہے کہ شام میں وہاں کے عوام کی امنگوں کے مطابق حالات تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

مصری وزیر خارجہ سے سوال کیا گیا کہ کیا شام میں بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شام بھی عراق اور لیبیا کی طرح مشکلات سے دوچار ہوگا؟ جس طرح عراق میں صدام کے بعد اور لیبیا میں قذافی کے بعد زیادہ مشکلات پیدا ہوئیں اسی طرح شام میں بھی امکان ہے یا نہیں؟

جواب میں شکری کا کہنا تھا کہ یہ شامی عوام پر منحصر ایک مسئلہ ہے جسے ایک فرد کے ساتھ مختص نہیں کیا جا سکتا۔ شام میں تمام گروہوں کو متحد ہو کر ملک کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے شام کی پیچیدہ صورت حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: روس امریکہ جنگ بندی معاہدے سے امید پیدا ہوگئی تھی کہ اب شام میں امن قائم ہوگا لیکن امریکہ کے توسیع پسندانہ رویوں، شامی حکومت کے مخالف گرہوں کی بغیر کسی شرط کے امداد، داعش اور النصرہ جیسے گروہوں سے ہمدردی، انسانی بنیادوں پر مدد کرنے والے کاروان پر حملے اور دہشت گردوں کے بجائے شامی فوج پر حملوں نے اس معاہدے کو ناکارہ بنادیا ہے جس کی وجہ سے امید کی کرن ختم ہوگئی۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری