سرور دانش کی بان کی مون سے ملاقات؛

افغانستان کے چارجانبہ امن اجلاس کی ناکامی کا ذمہ دار پاکستان ہے

خبر کا کوڈ: 1195243 خدمت: پاکستان
سرور دانش و بان کی مون

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات کے دوران افغانستان کے دوسرے نائب صدر نے تاکید کی ہےکہ اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں پاکستان کی عدم دلچسپی افغانستان کے چارجانبہ امن اجلاس کی ناکامی کی اہم وجہ ہے.

خبر رساں ادارے تسنیم کے کی رپورٹ کے مطابق، افغانستان کے دوسرے نائب صدر محمد سرور دانش نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون سے ملاقات اور گفتگو کی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے افغانستان کے دوسرے نائب صدر سرور دانش سے ملاقات میں افغانستان کے اندر بے گھر افراد کے بارے میں اعداد و شمار میں تیزی سے اضافے اور دس لاکھ سے زائد فقر و فاقہ کے شکار بچوں کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا اور افغان حکومت پر زور دیا کہ ان مسائل سے نمٹنے کے لئے اقدامات کرے.

اس ملاقات میں دانش نے افغانستان کے حوالے سے اقوام متحدہ کے قومی اور بین الاقوامی تعاون کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ قومی اتحاد کی حکومت اور بین الاقوامی برادری کے نمائندے باہمی ذمہ داریوں کو برسلز اجلاس کے سلسلے میں  ٹھوس اور موثر طور پر نبھائیں گے.

واضح رہے کہ بان کی مون نے افغانستان کے دوسرے نائب صدر سے برسلز اجلاس میں شرکت کرنے کا وعدہ کیا۔

افغان صدر اشرف غنی کےنائب دوئم نے افغانستان میں امن عمل کے بارے میں کہا کہ حکمت یار کے ساتھ ایک امن معاہدے پر دستخط، امن اور سلامتی کو یقینی بنانے کی جانب ایک مثبت قدم ہے.

انہوں نے افغانستان سے متعلق چار جانبہ امن گروہ، پاکستان، افغانستان، چین اور امریکہ کے نمائندوں کی شرکت کے ساتھ سرگرمیوں کو مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس عمل میں ناکامی کا اہم عنصر پاکستان کی جانب سے ذمہ داریوں کو نبھانے میں عدم ایمانداری اور عدم سنجیدگی ہے۔

پاکستانی حکام نے اس سے پہلے کئی بار کہا ہے کہ اسلام آباد میں افغانستان، پاکستان، چین اور امریکہ کے اجلاس کا مقصد طالبان کو مذاکرات کے لئے راضی کرنا ہے اور افغانستان میں امن صرف اور صرف تعمیری مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے.

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری