قطر، سعودیہ اور ترکی دہشت گردی کی حمایت کر رہے ہیں/ واشنگٹن کی داعش کے ساتھ ملی بھگت

خبر کا کوڈ: 1195484 خدمت: دنیا
ولید المعلم

شامی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ غیرممالک کی جانب سے شام بحران کے حل کے لئے جو تجاویز آرہی ہیں، وہ غیر قابل قبول ہیں۔

تسنیم خبررساں ادارے نے روسیا الیوم کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ شامی وزیرخارجہ ولید المعلم نے اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیرالزور کے مقام پر امریکی حملوں کے نتیجے میں دسیوں شامی فوجی جاں بحق ہوگئے ہیں، امریکی پالیسیوں سے صاف ظاہر ہے کہ وہ دہشت گردوں کے ساتھ تعاون کررہا ہے۔

انہوں نے دیر الزور میں کئے گئے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے یہ حملہ جان بوجھ کر کیا ہے۔

شامی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ غیرممالک کی طرف سے شام بحران کے حل کے لئے مختلف قسم کی تجاویز مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہیں جو شامی عوام کے لئے غیر قابل قبول ہیں۔

شامی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ہم بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں اس شرط کے ساتھ کہ یہ تمام تر کوششیں شامی حکومت کے ساتھ مشاورت اور تعاون کے بعد کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ شامی حکومت کے ساتھ عدم مشاورت اقوام متحدہ کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے اور کسی بھی ملک کے اندرونی مسائل میں دخالت کے زمرے میں آتی ہیں۔

شامی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ دمشق حکومت کو اعتماد میں لئے بغیر ہر قسم کی کوشش شامی بحران کے حل میں مدد گار ثابت نہیں ہوگی بلکہ اس سے حالات مزید خراب ہوجائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ جن گروہوں کو اعتدال پسند کہا جارہا ہے وہ داعش اور النصرہ کے خونخوار درندوں سے کم نہیں ہیں۔

شامی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ انقرہ دہشت گردوں کی حمایت کررہا ہے اور ترک انٹیلی جنس ادارے دہشت گردوں کو اطلاعات فراہم کررہے ہیں۔

معلم کا مزید کہنا تھا کہ ہم شام میں پوری بین الاقوامی برادری کی نمایندگی میں دہشت گردوں کے خلاف برسر پیکار ہیں، شامی فوج نے بے گناہ شہریوں کا بھر پور دفاع کیا ہے جو لوگ غلط تبلیغات کرکے شامی فوج کو بد نام کرنے کی کوشش کررہے ہیں وہی شام میں خون خرابے کے ذمہ دار ہیں کیوںکہ وہ دہشت گرد عناصر کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری