ماہ محرم کا آغاز؛

پنجاب بھر میں محرم الحرام سے قبل شدت پسندوں اور شر پسند عناصر کے خلاف کاروائیوں کا آغاز

خبر کا کوڈ: 1196005 خدمت: پاکستان

محرم الحرام میں امن و امان کو برقرار رکھنے کے لئے صوبے بھر میں سیکیورٹی کے انتظامات کے جائزے کے ساتھ ساتھ حساس اضلاع کی کڑی نگرانی شروع ہو گئی ہے

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق، محرم الحرام کی مناسبت سے تمام چھوٹے بڑے اضلاع کی تفصیلی نگرانی شروع کی جارہی ہے۔

پنجاب میں محرم الحرام کے دوران امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے پیشگی اقدامات شروع کر دئیے گئے ہیں جن کے تحت شدت پسندوں اور شر پسندوں کے خلاف کاروائیوں کا  آغاز کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، پنجاب میں گزشتہ 20دنوں میں پنجاب آرمز آرڈیننس کی خلاف ورزی کرنے پر 60691 مقدمات درج کر کے 60674 افراد کو گرفتار کیا گیا، 53953 چالان عدالت میں پیش ہوئے جس میں سے 4245 مقدمات کے فیصلے ہوچکے ہیں اور 3676 افراد کو سزا ئیں بھی سنائی گئی ہیں۔

سکیورٹی آرڈیننس کی خلاف ورزی کرنے پر 4148 مقدمات درج کئے گئے جبکہ 3818 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

عدالتوں میں 2960 چالان پیش کئے گئے جس میں سے 442کے فیصلے سنا دئے گئے اور 316 افراد کو سزا ئیں بھی دی گئیں۔

پنجاب میں شدت پسندی کے خلاف رواں سال 5ستمبر تک 97 ہزار 608 مقدمات درج کئے گئے۔

ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، اسلحہ کی نمائش اور فرقہ وارانہ وال چاکنگ کرنے پر ایک لاکھ پانچ ہزار 131 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

پنجاب ساؤنڈ سسٹم ریگولیشن آرڈیننس کے تحت 10691 مقدمات درج کئے جاچکے ہیں، جس کے نتیجے میں 11399 ملزمان گرفتا ر ہوئے جبکہ 9788 چالان عدالت میں پیش ہوئے ہیں، 4007 مقدمات کے فیصلے ہوچکے ہیں اور 3448 مجرموں کو جرمانے اور قید کی سزا ہو چکی ہے۔

نفرت انگیز مواد کی نشرواشاعت پر 981 مقدمات درج ہوئے اور 1191 ملزمان کو گرفتار کیا گیا جبکہ عدالتوں میں 790 چالان پیش کئے گئے۔ 511 مقدمات کے فیصلے ہوچکے ہیں اور 157 افراد کو قید اور جرمانے کی سزا ہوچکی ہے۔

ذرائع کے مطابق، محرم الحرام میں اپنی شعلہ بیانی کے ذریعے امن و امان کیلئے خطرے کا باعث بننے والے مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام کی زبان بندی کے احکامات بھی جاری کئے گئے ہیں۔

اسی طرح بعض علمائے کرام کی کسی مخصوص ضلعے میں داخلے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے لیکن گھن کے ساتھ گیہوں بھی پس جاتا ہے کے مصداق، امن کے علمبردار اور غیر متنازعہ شخصیت مولانا امین شہیدی کی بھی جنوبی پنجاب کے ضلع خانیوال میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری