ماسکو نے شام میں اپنے مقاصد حاصل کر لئے ہیں، جرمن ماہر

خبر کا کوڈ: 1202192 خدمت: دنیا
اشتفان مایستر

روسی امور اور خارجہ تعلقات پر نظر رکھنے والے ایک جرمن ماہر کا کہنا ہے کہ جب تک صدر بشارالاسد ملک کے تمام حصوں کو دہشت گردوں سے واپس نہیں لیتا تب تک روس شام کی حمایت جاری رکھے گا کیونکہ ماسکو شام کے صدر کی جیت چاہتا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، خارجہ سیاسی امور کی جرمن تنظیم (DGAP) کے روس سے متعلقہ امور کے ماہر شٹیفان مائسٹر کہتے ہیں: روسی حکام شام میں تین قسم کے اہداف حاصل کرنا چاہتے تھے؛ صدر اسد کے اقتدار کی حفاظت کرنا، خطے میں روسی کردار کو بہتر بنانا اور امریکہ کے نزدیک روس کو خطے میں ایک اہم اور موثر ملک کے طور پر تسلیم کروانا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اب روس یہ تمام اہداف حاصل کرچکا ہے۔

جرمنی کے سیاسی امور کے ماہر کا کہنا ہے کہ روس بین الاقوامی سطح پر یوکرائن کے مسئلے میں تنہائی کا شکار ہوگیا تھا تاہم شام کے مسئلے میں ایسا نہیں ہوگا۔

اب امریکہ کو یقین ہوگیا ہے کہ شام کا بحران صدر اسد اور ماسکو کے بغیر حل کرنا ناممکن ہے۔ یہ روس کے لئے ایک بڑی کامیابی ہے۔

سیاسی امور کے ماہر نے روس پر تنقید کرتے ہوئے کہا: روس دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کو بھی حملوں کا نشانہ بناتا رہا ہے۔

اس نے سوال کیا کہ جب روس شام میں اپنے اہداف حاصل کرچکا ہے تو پھر وہاں بمباری کرنے کا کیا جواز ہے؟

جواب میں سیاسی ماہر کا کہنا تھا: شام میں روس کو اب بھی بہت کچھ کرنا  باقی ہے کیونکہ روسی حکام کے نزدیک بشار الاسد کے خلاف لڑنے والے تمام گروہ دہشت گرد ہیں لہٰذا جب تک شام میں حکومت مخالف گروہوں کا خاتمہ نہیں ہو جاتا تب تک روس اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔

روس سے متعلقہ امور کے ماہر شٹیفان مائسٹر کا مزید کہنا ہے کہ روس کا یہ موقف یورپی ممالک کے لئے قابل قبول نہیں ہے جس کی وجہ سے شام میں سیاسی بحران کا خاتمہ ناممکن نظر آرہا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری