خصوصی دستاویزی رپورٹ/ "سانحہ منیٰ کو فراموش نہیں کیا جانا چاہئے- 2"

سانحہ منا محض حادثہ نہیں ہوسکتا

خبر کا کوڈ: 1202622 خدمت: دنیا
فاجعه منا

اسلامی قیادت پر ناظر ماہرین کونسل (مجلس خبرگان رہبری) کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ اتنا بڑا سانحہ محض حادثہ ہو ہی نہیں سکتا ہے جبکہ اس واقعے کے پیچھے سعودی حکام کا ہاتھ ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، اس معاملے میں ایران کے خارجہ امور کے عہدہ داروں کا فریضہ نہایت سنگین ہے انہیں حقائق سامنے لانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

تسنیم خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے آیت‌الله حسن عالمی کا کہنا ہےکہ رہبر معظم نے ایرانی وزارت خارجہ سے کہا ہے کہ سانحہ منا کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر حقائق سامنے لانے کی ہر ممکن کوشش کرے۔ لہٰذا خارجہ امور کے عہدہ داروں کی ذمہ داری نہایت سنگین ہے انہیں چاہئے کہ سانحہ منا کے بارے میں اپنا فریضہ احسن طریقے سے نبھائیں۔

انہوں نے سانحہ منا میں بڑی تعداد میں ایرانی باشندوں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ہم منا سانحے میں بہت بڑی شخصیات کھو بیٹھے ہیں۔ یہ واقعہ ایک نہایت سنگین جرم تھا جس کا سعودی حکام مرتکب ہوئے ہیں۔

عالمی کا کہنا تھا کہ منا میں اتنی مقدار میں حاجیوں کا شہید ہونا حادثاتی معاملہ نہیں ہے بلکہ اس سانحے کے پیچھے سعودی حکام کا ہاتھ ہے، اس سانحے کے اصلی ذمہ دار سعودی حکام ہی ہیں۔

انہوں نے ایرانی وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے بین الاقوامی سطح پر اٹھائے اور آل سعود سے شہدا کا حق چھین لے۔

انہوں نے اسلامی ممالک کے حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ مسلم امہ متحد ہو کر آل سعود کو حج کے انتظام سے دور کرے اور عالم اسلام کے حوالے کرے۔

مسلم امہ کو چاہئے کہ حج کے انتظامات سنبھالنے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دے تاکہ مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر پوری آزادی کے ساتھ اپنے عقیدے کے مطابق فریضہ حج بجا لا سکیں۔

عالمی کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں آل سعودی وہابی عقیدے کو تمام مکاتب فکر پر مسلط کرنے کی کوشش کرتی ہے جس کی وجہ سے بہت سارے اسلامی فرقے تشویش کا شکارہیں۔

آل سعود حج کے ایام میں بہت سے مستحب اعمال انجام دینے سے روکتی ہے جس کی وجہ سے مسلم امہ صرف واجبات ادا کرکے واپس جانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

عالمی نے تاکید کرتے ہوئے کہا: اسلامی جمہوری ایران کے اعلیٰ حکام کو چاہئے کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے بین الاقوامی سطح پر اٹھائیں اور شہدا کے وارثین کو ان کا حق دلوائیں۔

یاد رہے کہ انقلاب اسلامی کے سپریم لیڈر حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے ایرانی حکام پر زور دیا ہے کہ عالمی سطح پر سانحہ منا کے حقائق سامنے لانے کے لئے ہر ممکن کوششیں کریں۔

امام خامنہ ای نے پچھلے سال سانحہ منیٰ کے بعد 7 اکتوبر کو حج امور کے ذمہ داروں سے ملاقات کے دوران اس سانحے کوبہت کڑوا، ڈرامائی اور اللہ کی آزمائش قرار دیتے ہوئے اس عظیم مصیبت پرخاص طور پر مغربی حکومتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی خاموشی  پر تنقید کی تھی اور فرمایا تھا کہ "سانحہ منیٰ کوخاموشی اور گمنامی میں نہیں جانا چاہئے" جسے سالوں تک بین الاقوامی سطح پر بیان کرنا ضروری ہے اور اس سلسلے میں مرکز تنقید بھی مغربی حکومتیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ہونی چاہئے۔


 

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری