اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر:

تہران فضائی آلودگی سے نمٹنے سے متعلق بین الاقوامی سربراہی اجلاس کے لئے کوشاں

خبر کا کوڈ: 1204351 خدمت: ایران
غلامعلی خوشرو

اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے کہا ہے کہ تہران نے ایجنڈا 2030 کا نفاذ کر کے پائیدار ترقی کے لئے قدم اٹھایا ہے اور فضائی آلودگی سے نمٹنے سے متعلق اقوام متحدہ کے ساتھ مشترکہ طور پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کے لئے کوشش کر رہا ہے.

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق، اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندے غلامعلی خوشرو نے پیر کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی دوسری کمیٹی کے ایک اجلاس سے خطاب میں کہا: تہران نے ایجنڈا 2030 کا نفاذ کرکے پائیدار ترقی کے لئے قدم اٹھایا ہے اور فضائی آلودگی سے نمٹنے سے متعلق اقوام متحدہ کے ساتھ مشترکہ طور پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کے لیے کوشاں ہے.

اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے اسلامی جمہوریہ ایران کی پالیسیوں کی وضاحت کرتے ہوئے خاص طور پر اقتصادی شعبے اور ماحولیاتی پالیسیوں کا ذکر کیا اور کہا: یہ قوانین اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ماحولیات، پر رونق معیشت اور جنگلوں کی حفاظت، حمایت اور اسی طرح ماحولیاتی تبدیلی اور فضائی آلودگی سے نمٹنے سمیت بہت سے چیلنجوں کی طرف خصوصی توجہ کے لئے ضروری ہیں۔

انہوں نے 2030 ایجنڈے کے نفاذ کے لئے علاقائی مسائل بیان کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ایشیا کو بنیادی چیلنجز جیسے غربت، زمین کے کٹاؤ، ریگستان، پانی کی کمی، موسمیاتی تبدیلی اور مٹی اور دھول اور دوسری طرف دہشت گردی اور انتہاپسندی جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے.

ایران کے سفیرکے بقول، دہشت گردی اور انتہاپسندی ماحولیاتی آلودگی اور خطے میں غربت کے ساتھ ساتھ ایک ایسا چیلنج ابھرا ہے کہ جس کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک نے ترقیاتی منصوبوں پر نہایت کم مالی وسائل بروئے کار لائے ہیں۔

جمہوری اسلامی ایران کے سفیر نے غربت، گلوبل وارمنگ، دہشت گردی، تشدد، انتہا پسندی اور دیگر انسانی بحرانوں اور بڑے بڑے عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے درمیان تعاون کے ذریعے مؤثر حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور اقوام متحدہ سے پائیدار ترقی کے حصول کے لئے عالمی شراکت داری کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ایک مربوط اور مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے تاکید کی کہ تشدد آمیز اقدامات اور دیگر ملکوں کے اقتصادی اور مالیاتی کاروبار کے خلاف یکطرفہ پابندیاں لگانے کی بجائے صلاحیتوں کے اجاگر کرنے، ٹیکنالوجی کی منتقلی، تجارت میں سہولت کے ذریعے ایجنڈا 2030 کے نفاذ کے لئے ترقی پذیر ممالک کی موثر بین الاقوامی حمایت کی جائے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری