مسئلہ کشمیر، بھارت کے خلاف اور پاک فوج کی حمایت میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے

خبر کا کوڈ: 1204439 خدمت: پاکستان
پاکستان سیاسی جماعتیں

پاک بھارت حالیہ کشیدگی پر وزیراعظم نواز شریف نے گذشتہ روز ایک کل جماعتی کانفرنس بلائی تھی جس میں تمام سیاسی پارٹیوں نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد سیاسی رہنماؤں کی صحافیوں سے بات چیت پیش خدمت ہے۔

خبررساں ادارے تسنیم نیوز کے مطابق، اجلاس میں  تمام سیاسی جماعتوں  نے مسئلہ کشمیر کے جلد از جلد  حل  پر اتفاق رائے کیا۔

جیو نیوز نے خبر دی ہے کہ مختلف سیاسی اکابرین نے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت کی۔

پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ کشمیر کےمسئلے کا فوجی حل نہیں، ہر سیاسی جماعت اس مسئلہ پر ایک ساتھ کھڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر متحد ہو کر بھارت کو جواب نہیں دیا تو ہماری پوزیشن کمزور ہو جائے گی۔

انہوں نے بھارتی جارحیت کے خلاف متحد ہوکر جواب دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

پاکستان تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی نے بیان دیا کہ بھارت کے پانی روکنے کے فیصلے کو جارحیت تصور کیا جائے گا۔

انہوں نے وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ اجلاس کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا تھا کہ پاکستان کی سلامتی پر جارحیت کی گئی تو پوری قوم افواج پاکستان کے ساتھ متحد اور ایک ہے۔

شاہ محمودقریشی نے کہا کہ اجلاس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ مقبوضہ کشمیر اور بلوچستان کی صورتحال کو کسی صورت جوڑ نہیں سکتے۔

فاروق ستار نے کہا کہ بھارت آزمانا چاہتا ہے تو سوچ لے کہ منہ کی کھائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اپنے عوام اور دنیا کے سامنے بھارت کو ہی ندامت کا سامنا ہو گا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما غلام احمد بلور نے کہا کہ وزیراعظم کے اقوام متحدہ میں خطاب سے مسئلہ کشمیر کو سفارتی سطح پر نئی زندگی ملی۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ بھارتی جارحیت کے مقابلے کے لئے قومی اتحاد ضروری ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز ہونے والے کل جماعتی اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کو مدعو نہیں کیا تھا تاہم ان کی جانب سے بھی بیان سامنے آیا ہے کہ وقت پڑا تو وزیراعظم نوازشریف کے شانہ بشانہ دشمن کا مقابلہ کریں گے لیکن پاناما لیکس کے معاملے پر کوئی سمجھوتا کرنے کو تیار نہیں۔

واضح رہے کہ پچھلے چند روز سے ایل او سی پر بھارتی جارحیت کے واقعات نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کافی بڑھا دیا ہے۔

وزیراعظم پاکستان نے پاک بھارت کے درمیان دن بدن بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سرحد پر آئے روز بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ پر بحث کے لئے  تمام سیاسی قائدین کا اجلاس بلایا تھا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری