مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ کا محرم الحرام کے سلسلے میں قوم کے نام اہم پیغام

خبر کا کوڈ: 1204666 خدمت: اسلامی بیداری
راجا ناصر عباس در دفتر منطقه‌ای تسنیم

مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس نے محرم الحرام کی مناسبت سے قوم کے نام اہم پیغام کے متن کا مشاہدہ فرمائیے۔

تسنیم نیوز کے مطابق، مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس نے ماہ محرم الحرام کی مناسبت سے پاکستانی قوم کے نام ایک پیغام جاری کیا ہے جس کا متن شیعت نیوز کے حوالے سے پیش کیا جاتا ہے:

عزاداران امام حسین علیہ السلام اور تمام پاکستانی بھائیوں السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

سرتاج انبیا، خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی رسالت کا کوئی اجر اپنی امت سے طلب نہ کیا مگر یہ کہ امت انکی آل پاکؑ سے مودت اور محبت کرے۔

بلا شبہ نواسہ رسول، سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام، حضرت رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قرابت دار بھی ہیں اور آل عباء کے ایک اہم رکن بھی اور آیۃ مباہلہ قلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَاءنَا وَأَبْنَاءكُمْ وَنِسَاءنَا وَنِسَاءكُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَكُمْ ۔۔۔۔۔۔ کی رو سے فرزند رسول اللہ بھی ہیں لہذا ہر کلمہ گو مسلمان پرامام حسین علیہ السلام کی محبت اور ان کے دشمنوں سے نفرت فرض ہے۔

ماہ محرم وہ مہینہ ہے جس میں نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام نے یزید جیسے فاسق و فاجر اور بد عقیدہ انسان کی بیعت سے اس لئے انکار کیا کہ وہ جس مسند پر بیٹھا تھا وہ انبیاؑ اور انکے معصوم اوصیاء کا منصب تھا۔

امام حسین علیہ السلام جو وارث خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں وہ کیسے اتنے بڑے انحراف اور غصب کو برداشت کرتے کہ جسکی بنا پر پورے اسلامی معاشرے کی بنیادیں متزلزل ہو رہی تھیں اور جسکا اثر صرف اس زمانے تک محدود نہ تھا بلکہ تا قیامت بشر، دین مبین اسلام جیسی ابدی نعمت سے محروم ہو جاتا۔

اسی لئے امام حسین علیہ السلام نے یزید کی بیعت کو ٹھکرا تے ہوئے فرمایا کہ وعلی الاسلام السّلام اذ قد بلیت الامة براع مثل یزید؛ کہ اسلام پر فاتحہ پڑھ لینی چاہئے اگر یزید جیسا پلید انسان اس امت کا خلیفہ بن بیٹھے۔

پس ماہ محرم الحرام، محمدی اسلام کے خلاف بر سر پیکار قوتوں کی بیعت کے انکار کا نام ہے۔ ہر دور کی یزیدیت کے خلاف حسینیت کے قیام کا مہینہ ہے۔ عزاداری سید الشہداء امام حسین علیہ السلام سے تجدید عہد، مودت، محبت اور اظہار و فاداری کا مہینہ ہے۔

مادر وطن کے تمام مسلم اور غیر مسلم بھی ماہ محرم کا احترام کرتے ہیں۔ یہ مہینہ امن اور آشتی کا مہینہ ہے۔ یہ مہینہ مادر وطن کے تمام بیٹوں کے درمیان ہم آہنگی، محبت اور بھائی چارے کا مہینہ ہے لہذا امید ہے کہ تمام شیعہ اور سنی بھائی ملکر نواسہ رسول کا غم پوری عقیدت و احترام سے منائیں گے۔

اس سال کا ماہ محرم ان حالات میں آرہا ہے جب ایک جانب ہندوستان کی طرف سے نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔

ہماری سرحد پر مسلسل جارحیت اور جنگی جنون کے اظہار کے ساتھ ساتھ گولہ باری اور فائرنگ کا سلسلہ دشمن کی طرف سے جاری ہے اور دشمن کی یہ کوشش ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی ماننے والی پاکستانی قوم کو اپنی بزدلانہ کاروائیوں سے ڈرا دے لیکن ہمارا جواب دشمن کو وہی ہے جو امام حسین علیہ السلام کا یزید کو تھا کہ "ھیھات منا الذلۃ"؛ کہ ذلت و رسوائی ہم سے دور ہے، ہم جان تو دے سکتے ہیں لیکن اپنے ملک کی سالمیت پر کو ئی سمجھوتا نہیں کر سکتے۔

دوسری جانب ملک دشمن تکفیری دہشت گرد اور کالعدم جماعتیں اس ملک کو اندرونی طور پر کمزور کرنے کی اپنی مذموم کوششوں میں مصروف ہیں اور یہ منحوس یزیدی قوتیں ملک کی سالمیت سے کھیل رہی ہیں لیکن پاکستان کا ہر محب وطن شہری ان تکفیری دہشت گردوں سے نفرت کرتا رہا ہے۔ اس ملک میں شدت پسندوں اور کالعدم تکفیری جماعتوں کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

ہم پاک فوج کے ضرب عضب اور نیشنل ایکش پلان کی بھر پور حمایت کرتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ ایسی قوتیں جو نیشنل ایکشن پلان کو منحرف کرنا چاہتی ہیں اسکی بھی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔

ہم تمام عزاداروں، ماتمی دستوں، بانیان مجالس، ذاکرین عظام اور علماء کرام کے ساتھ ملکر ان شاءاللہ عزاداری سید الشہدا علیہ السلام کو پوری قوت اور طاقت کے ساتھ منائیں گے اور اس راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو پوری طاقت کے ساتھ دور کریں گے۔ (ان شاءاللہ)

میں تمام عزاداروں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ نظم و ضبط، وحدت اور سیکیورٹی کے بھرپور انتظامات کے ساتھ عزاداری کو انجام دیں۔

امید ہے کہ حکومت نے جو وعدے اس ماہ محرم کےحوالے سے کیے ہیں جس میں امن و امان کی بحالی، بےجا پابندیوں کےاٹھانے اور ذاکرین اور بانیان مجالس کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی شامل ہے، پر عمل کرے گی۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری