ڈاکٹر علی لاریجانی کے انکار کے بعد؛

جرمن ڈپٹی چانسلر کی ظریف کے ساتھ بھی ملاقات نہ ہوسکی

خبر کا کوڈ: 1205282 خدمت: ایران
ظریف جدی

جرمن حکام کی طرف سے ایران کے داخلی مسائل میں واضح مداخلت کے پیش نظر تہران کے دورے پر آئے ہوئے جرمن کے ڈپٹی چانسلر اور وزیر اقتصاد سے ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بھی اپنی ملاقات منسوخ کردی ہے۔

تسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، جرمن حکام کی طرف سے اسلامی جمہوری ایران کے داخلی مسائل میں واضح مداخلت اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کی سفارش کے پیش نظر تہران کے دورے پر آئے ہوئے جرمن چانسلر کے معاون سے ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے  بھی اپنی ملاقات منسوخ کردی ہے۔

واضح رہے کہ جرمن ڈپٹی چانسلر جو اس ملک کے وزیر اقتصاد بھی ہیں، دو اکتوبر بروز اتوار تہران پہنچ گئے تھے اور دونوں ممالک کے مشترکہ کمیشن کے اجلاس میں شرکت کی تھی۔

جرمن وزیر نے ایران کے دورے سے قبل اشپیگل جریدے کے ساتھ انٹرویو میں قابل اعتراض بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک ایران اسرئیل کو تسلیم نہیں کرتا تب تک ایران کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنا مشکل ہے۔

اسی طرح انہوں نے اسلامی جمہوری ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور شام کے بحران میں ایران کے کردار پر نقطہ چینی کی تھی۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے بھی جرمنی کے ڈپٹی چانسلر سے ملاقات کرنے سے انکار کردیا ہے۔

جرمن راہنما کا دورہ تہران کا مقصد دونوں ملکوں کے سیاسی تعلقات کو آگے بڑھانا اور علاقے کی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال بالخصوص شام بحران جیسے اہم مسائل پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔

جرمن روزنامے اسٹینڈرڈ نے خبر دی ہے کہ گابریل کا تہران دورے کا اہم مقصد علی لاریجانی سے ملاقات کرنا تھا جس میں وہ ناکام رہے ہیں۔

جرمن وزیر اقتصاد کا کہنا ہے کہ دونوں راہنماوں کے درمیان ملاقات منسوخ کردی گئی ہے تاہم اس کے وجوہات  ظاہر نہیں کئے گئے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری