امریکہ کا شام سے متعلق «پلان-B» بے نقاب ہو گیا


سی این این کے فوجی تجزیہ کار نے شام میں امریکہ کے سب سے اہم منصوبہ بندی کے حصے «پلان-B» کا انکشاف کیا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم نے العالم کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ایسی حالت میں جبکہ مسلح دہشت گرد گروہ اور ان کی سرپرست عالمی طاقتیں شامی حکومت کو امریکہ کی جانب سے تشکیل شدہ پلان-B کی منصوبہ بندی سے خوف زدہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، امریکی ریٹائرڈ کرنل ریک فرانکونا نے کہا ہےکہ امریکہ نے شام کے صدر بشار الاسد کی اقتدار سے برطرفی کے موقف سے پیچھے ہٹنے کے لئے پلان-B تشکیل دیا ہے۔

فرانکونا نے نشاندہی کی کہ شام میں امریکہ کے مقاصد کی اصل فہرست میں ہمیشہ القاعدہ، داعش کی شاخ النصرہ فرنٹ کو ختم کرنا اور سیاسی حل کے ذریعے سے بشار الاسد کا تختہ الٹنا تھا۔

انہوں نے مزید کہا: میری نظر میں اب امریکہ کا متبادل منصوبہ بشار الاسد کے تختہ الٹانے کے بجائے داعش اور النصرہ فرنٹ سے نمٹنا ہوگا۔

پلان-B کی اصطلاح اس وقت سے عام ہوئی ہے جب امریکہ اور روس شام کے بحران کو حل کرنے کے معاہدے تک پہنچنے میں ناکام ہوئے اور واشنگٹن نے شام میں موثر کردار ادا کرنے کے لئے متبادل منصوبہ بندی پر غور کرنےکا فیصلہ کیا۔

سیاسی مبصرین نےمشرق وسطی میں امریکی فوجی کارروائیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہوائی حملے صرف اور صرف امریکہ میں ہتھیار بنانے والوں کے مفاد میں تھے۔

واضح رہے کہ شام میں امریکی اتحادیوں کے حملے کئی بار شہریوں کی  ہلاکتوں کے باعث بنے ہیں۔

ان میں سے ایک حملہ رواں سال جولائی کے مہینے میں شام کے شمالی شہر منبج میں ہوا جس میں کم از کم 70 عام شہری ہلاک وئے جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل تھے۔