تجزیہ/

محرم ایک عظیم سرمایہ ہے

خبر کا کوڈ: 1208510 خدمت: مقالات
تجمع بزرگ لبیک یا حسین(ع) ارومیه

آج محرم و عاشورہ سے فائدہ اٹھاکر عراق، شام، فلسطین اور افغانستان سمیت دنیا کے دیگر علاقوں میں وقت کے یزیدیوں کے ظلم کے خلاف سب کو آواز بلند کرنا ہوگا اسی صورت میں عزاداری اور محرم کاحق اداہوسکے گا کیونکہ عزاداری نام ہے ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے اور مظلوم کی مظلومیت کوعام کرنے کا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطبق، محرم ایک عظیم سرمایہ ہے جسے خداوندعالم نے اپنے بندوں کے حوالے کیاہے تاکہ اس سے استفادہ کرکے انسان ہمیشہ اچھے اور برے کی تمیزکر نے کے ساتھ ساتھ حادثات زمانہ کے دوران وہ فتنوں کے سینوں کوچاک کرکے انھیں ناکام بناسکے اور یوں وہ ان فتنوں کے ہولناک گرداب میں غرق ہونےسے بچ جائے۔

سرکارسید الشہداء امام حسین علیہ السلام کے بارے میں رسول اکرم حضرت محمد مصطفی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ معروف حدیث جس میں آپ نے فرمایا کہ؛ ان الحسین مصباح الہدی وسفینۃ النجاۃ۔۔۔ فقط امام حسین کی تعریف و تمجید نہیں ہے بلکہ سرکار دوعالم نے یہ حدیث اس لئے ارشاد فرمائی تھی کہ سب کو قیامت تک کے لئے یہ معلوم ہونا چاہئے کہ امام حسین علیہ السلام راہ ہدایت کے مشعل فروزاں ہیں اور سب لوگ ان کی اتباع و پیروی کرکے دین خدا کی نصرت کریں تاکہ گمراہی اور ضلالت کے گڑھوں میں گرنے سے خود کو بچاسکیں ۔

پیغمبراسلام کے پیش نظر جو چیز تھی وہ یہ کہ محرم اور تحریک عاشورہ سے زندگی گذارنے کا درس حاصل کرو اور اس طرح سے امام حسین علیہ السلام کے مقصد کو آگے بڑھاؤ تاکہ درس کربلا انسانی معاشرے کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں عملی شکل اختیار کرسکے۔ اور پھر اس طرح صحیح معنوں میں ہم امام حسین علیہ السلام کے پیروکاران کے عزادار کہلائیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران میں یہ کام امام خمینی (رہ) نے بہترین شکل میں انجام دیا امام خمینی (رہ) کا یہ معروف جملہ جس میں آپ نے فرمایا تھا کہ؛ محرم شمشیر پر خون کی فتح کا مہینہ ہے ان انقلابی تحریک میں عملی طور پر متجلی ہے اور اسی سبق نے ایران کے اسلامی انقلاب کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔

ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی کو یقینی طور پر واقعہ کے عاشور کے درس سے الہام لینے اور اس واقعہ کے پرتو میں ہی دیکھا جانا چاہئے کیونکہ اسلامی انقلاب نے واقعہ عاشورہ سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور اسی کو اپنے لئے نمونہ قرار دیا اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے اور آئندہ بھی ایران کا اسلامی انقلاب واقعہ عاشورہ کے ہی پرتو میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے گا۔

ایران کے عوام نے اسلامی انقلاب کو آسانی سے کامیاب نہیں بنایا ہے یا اس نے اپنے ملک میں جو اسلامی نظام قائم کیاہے وہ آسانی سے ممکن نہیں ہوا ہے۔

گذشتہ تیس برسوں میں ایران کے عوام نے اسلامی انقلاب اور اسلامی نظام کی حفاظت کے لئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور آئندہ بھی اس کے ثمرات کے تحفظ کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ان کے سامنے واقعہ عاشورہ ہے۔

حضرت امام حسین علیہ السلام نے جو انقلاب میدان کربلا میں بپا کیا تھا اس کی حفاظت میں امام زین العابدین اور جناب زینب کبریٰ سلام اللہ علیھما نے جو قربانیاں دی ہیں وہ کربلا کے میدان میں قربانی دینے والوں کی قربانیوں سے کہیں زیادہ سخت و دشوار تھیں اور آج ایران کے عوام بھی اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ انقلاب بپا کرنے سے زیادہ سخت اس کی حفاظت اور اس کے ثمرات کا تحفظ ہے اسی لئے ایران کے عوام محرم اور صفر کو انقلاب کے ثمرات کے تحفظ کے تعلق سے بہت ہی اہم موقع کے طور پر دیکھتے ہیں اور ان ایام سے پوری طرح استفادہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

امام خمینی (رہ) کے نقطہ نگاہ سے اسلام ایک انسان ساز مکتب ہے اور اسلامی انقلاب بھی اصل اسلام کے نام پرہی برپا ہوا ہے اور ایران کا اسلامی نظام بھی ملت ایران کے لئے ایک سعادت بخش نظام ہے اور ملت ایران نے اس کے حق میں ووٹ دے کر اسے قائم کیا اور گذشتہ تیس برسوں سے اس کی حفاظت بھی کررہی ہے۔

ایران کے عوام آج اپنی عزت و سربلندی کو امام خمینی (رہ) کی قیادت کا مرہون منت سمجھتے ہیں جنھوں نے اس قوم کو استکبار کے چنگل سے آزاد کرایا اور استبدادی حکومتوں سے نجات دلائی۔ امام خمینی نے اس قوم کو جس کی اپنی قدیم تہذیب اور درخشاں ماضی ہے اور جس پر استبداد کا تسلط تھا آزادی و خودمختاری کی نعمت سے سرفراز کیا چنانچہ گذشتہ سالوں بالخصوص محرم الحرام کے موقع پر پورے ملک میں پیر و جوان، خورد و بزرگ، بچوں اور بوڑھوں نے جس طرح سے سڑکوں پرنکل کر اپنے رہبر کبیر کے اصولوں اور ان کے بتائے ہوئے راستوں پر چلنے کا عہد کرتے آئے ہیں وہ اس بات کو دنیا پر واضح کردیتا ہے کہ ایران کے عاشورائی عوام اپنے قائد و رہبر کے اصولوں کو کربلا کے ہی درس سے عبارت سمجھتے ہیں جنھیں وہ کبھی بھی فراموش نہیں کرسکتے اور نہ ہی ان کے احسانات کو کبھی بھول سکتے ہیں۔

بعض ناعاقبت اندیش اور احسان فراموش عناصر کے ذریعہ گزشتہ سالوں کے دوران امام خمینی (رہ) کی شان میں کی گئی اہانت کے بعد ایران کے تمام شہروں میں ہر طبقے سے تعلق رکھنے والوں نے اس مذموم اور منافقانہ اقدام کی مذمت کرتے ہوئے امام خمینی سے اپنی عقیدت اور محبت کا اسی طرح سے اظہار کیا جس طرح اسلامی انقلاب کی تحریک کے دوران اور اس سے پہلے و بعد کے برسوں میں کیا کرتے تھے۔

محرم الھرام کے ایام میں ایران کے عاشورائی عوام کربلا والوں کے درس سے الہام لیتے ہوئے یہ ثابت کرتے ہیں کہ جو قوم اپنے نیک و صالح رہبر کی احسان مند رہتی اور ان کے اصولوں کی پاسداری کرتی ہے اس کا دنیا کی کوئی بھی طاقت کچھ بھی نہیں بگاڑسکتی اور یہی پیغام عاشورہ کا ایک بہت بڑا جزء بھی ہے۔

اس کے علاوہ محرم دشمن کو پہچاننے کا بھی ایک بہترین موقع ہے یزید، شمر، ابن زیاد و عمرسعد صرف وہی نہیں تھے جو سن اکسٹھ ہجری میں کربلا میں امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب پر ظلم کرنے کے لئے موجود تھے بلکہ آج بھی یزید، شمر، حرملہ، ابن زیاد اور عمرسعد پائے جاتے ہیں جو اسلام کو مٹانے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لئے طاقت کے ہر حربے کا استعمال کررہے ہیں آج بھی وقت کے یزید عاشورہ کے پیغام کو مٹانے کے درپے رہتے ہیں آج بھی وقت کے ابن زیاد ہر اس تحریک اور انقلاب کو نابود کرنےکی پوری کوشش کرتے ہیں جو عاشورہ سے درس لے کر آگے بڑھ رہی ہو۔

یہ اور بات ہے کہ اس وقت کا بھی یزید وشمر و حرملہ و ابن زیاد پیغام حسینیت کونہیں روک سکا تھا اور آج کے  یزید بھی عاشورہ کے آفاقی پیغام کو نہیں روک پارہے ہیں اگرچہ پیغام عاشورہ پر عمل کرنے والوں کو اس کے لئے بھاری تاوان اداکرنا پڑرہاہے۔

فوجی سیاسی اور اقتصادی طور پر سامراجی طاقتوں کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن مصباح الہدی وسفینۃ النجات کی نصرت و مدد کے زیرسایہ حسینیت کے پیرو بڑی سے بڑی مشکلات کا بہت ہی بے جگری سے سامنا کرتے ہیں اور تمام مسائل و مصائب کا ہنس کر اور ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں۔

آج کون نہیں جانتا کہ اگر کل یزید اور اس کے کارندے ابن زیاد و حرملہ، شمر جیسے فاسق و فاجر و بدشعار عناصر اسلام کے دشمن تھے تو آج امریکہ اور اس کے اتحادی جن میں فرانس برطانیہ اور صہیونی حکومت شامل ہیں، دین اسلام کے کھلے دشمن ہیں اور اگر آج ایران کے اسلامی نظام اور انقلاب سے ان کی کھلی دشمنی ہے تو اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ ایران کا اسلامی انقلاب کربلا کے آفاقی انقلاب کا ہی ایک پرتو ہے آج ان دشمنوں اور ان کی سازشوں کو سمجھنا تمام مسلمانوں پر فرض و لازم ہے اور اگر اس سلسلے میں کسی بھی طرح کی کوتاہی کی گئی تو رسول اسلام امام حسین اور سب سے بڑھ کر خدا کے حضور سب کو جواب دینا ہوگا۔

آج محرم اور عاشورہ جب سب کو ظلم کے سامنے ڈٹ جانے کا درس دے رہا ہے اور دشمنوں کے چہروں پر پڑی ہوئی نقاب کو اتار پھینکنے کے لئے آگے قدم بڑھانے کا حکم دے رہا ہے تو ایسے میں اگر ہم امام عالی مقام کے عاشق ہونے کا دم بھرتے ہیں تو عملی طور پر اپنے آپ کو بہرحال ثابت کرنا ہوگا۔

آج محرم وعاشورہ سے فائدہ اٹھاکر عراق، شام، فلسطین اور افغانستان سمیت دنیا کے دیگر علاقوں میں وقت کے یزیدیوں کے ظلم کے خلاف سب کو آواز بلند کرنا ہوگا اسی صورت میں عزاداری اور محرم کاحق ادا ہوسکے گا کیونکہ عزاداری نام ہے ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے اور مظلوم کی مظلومیت کوعام کرنے کا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری