پاکستان عوامی تحریک کے رہنما کا تسنیم نیوز کے ساتھ خصوصی انٹرویو؛

ایران مستقبل میں ایک قائدانہ کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے

خبر کا کوڈ: 1208808 خدمت: انٹرویو
عمر ریاض عباسی

رہنما پاکستان عوامی تحریک نے اپنے حالیہ ایران دورے کا ذکر کرتے ہوئے اس ملک کی مختلف شعبوں میں ترقی کی تعریف کی اور کہا کہ مجھے ایران مستقبل میں ایک قائدانہ کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے ساتھ رہنما پاکستان عوامی تحریک عمر ریاض عباسی کا خصوصی انٹرویو پیش خدمت ہے: 

تسنیم نیوز: آپ حال ہی میں ایران سے پیرغلامان و خادمان حسینی کے اجلاس میں شرکت کرکے واپس آئے ہیں، اسلامی جمہوریہ ایران کے اس تازہ دورے کے بارے میں کیا تاثرات ہیں؟

عمرریاض عباسی: سب سے پہلے تو میں کلچر قونصلیٹ اسلامی جمہوریہ ایران اسلام آباد اور ثقافتی قونصلر آقای شہاب الدین دارائی، ڈپٹی قونصلر آقای مرادی ابوتراب صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں جن کی وساطت سے پیر غلامان و خادمان حسینی کے بندر عباس میں منعقد ہونے والے چودہویں اجلاس میں شرکت کرنے کا موقع ملا، ویسے تو یہ پیرغلامان و خادمان حسینی کے اجلاس کی حدتک ایک وزٹ تھا۔ 

سحر اردو ٹی وی اور ان کے نیٹ ورکس، تہران انسٹیٹوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز کا دورہ ہوا، بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا اور بالخصوص اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے انسٹیٹیوٹ میں تکفیریت کے خلاف پاکستان میں چلنے والے آپریشن ضرب عضب کی تازہ ترین معلومات فراہم کی گئیں اور ڈاکٹر قادری کے دہشت گردی کے خلا ف فتوے پر بات ہوئی۔ انہوں نے پوچھا کہ آپ کی یونیورسٹیز میں سلیبس کیسے پڑھایا جارہا ہے، اور پھر آپریشن ضرب عضب کے بعد یہ آپریشن یہاں ہی تک رہے گا یا آگے بھی اس کو جاری رکھا جائے گا، میں نے انہیں بتایا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کی یونیورسٹیز میں ڈاکٹر طاہرالقادری کا سلیبس پڑھایا جائے، اس کورس کو پالیسی اسٹڈیز کا حصہ بنایا جائے تاکہ دہشت گردی کی بنیادی وجوہات کا خاتمہ ہو اور نئی نسل کو امن اور برداشت کی طرف لایا جا سکے اور جب تک آپ نئی نسل کو صوفی ازم کا درس نہیں دیں گے، دہشت گردی منطقی انجام تک نہیں پہنچے گی۔ اس کے علاوہ تہران یونیورسٹی کا وزٹ ہوا، وہاں انہوں نے وحدت کے حوالے سے لیکچر رکھا جبکہ وہاں پر دیگر ڈیپارٹمنٹس کا وزٹ بھی کیا۔

پاک ایران تعلقات کے لئے کچھ سفارشات دی ہیں جنہیں اسٹریٹیجک اسٹڈیز میں بھی رکھا ہے کہ دونوں ممالک کے طلباء کا آپس میں تبادلہ ہونا چاہیے تاکہ دونوں ممالک کی ثقافت، نظریے اور فکر و فلسفے کو سمجھنے کا موقع ملے، تب جا کے قربتیں بڑھیں گی۔ دوسرا دونوں ممالک کے دانشوروں کا آپس میں تبادلہ خیال  ہو، پہلی دفعہ تفصیلی دورے کے دوران ایران کے بہترین انفراسٹرکچر کا مطالعہ کیا ہے۔ میں پاکستانی ہوں، اسلام آباد میں رہتا ہوں، اسلام آباد کا اتنامضبوط انفراسٹرکچر نہیں ہے۔ زیرزمین میٹرو میں سفر کیا ہے، ایران ترقی کر رہا ہے۔ وہاں زندگی کی مسکراہٹیں آپ کو سڑکوں پر نظر آتی ہیں اور سب سے اچھا مجھے یہ لگا کہ ینگ اور ٹیلنٹڈ خواتین اداروں کے اندر اور میڈیا سیکٹر کے اندر خدمات انجام دے رہی ہیں۔  ایم فلز، پی ایچ ڈیز اور پھر کئی پاکستانی اسکالرز ملے جو وہاں یونیورسٹیز میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کر رہے ہیں تو وہاں پر ایک اجتماعی تاثر یہ ملا کہ ایران آگے کی طرف جارہا ہے۔ ان کا وژن کلیئر ہے۔ وہ  امام خمینی (رہ) کے فلسفہ پر گامزن ہیں۔ دوستوں نے اس موقع پر امام خمینی کے فکر و فلسفہ پر چند کتابیں بھی دیں جن میں معاد ہے، چند ریسرچ پیپرز ہیں، تو مجھے لگا کہ امام خمینی (رہ) نے دنیا میں بیداری کے لئے راستہ دکھا دیا تھا۔ اسی لئے اب وہ بیداری پوری دنیا میں نظر آرہی ہے۔ ایرانی بھی اسی وژن کو فالو کر رہے ہیں۔ جب آپ کی لیڈرشپ اور وژن کلیئر ہو تو آپ کا ینگ ٹیلنٹ سامنے آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اتنی پابندیاں جھیلنے کے باوجود ایران ثابت قدم رہا۔ بندرعباس جانے سے پہلے میں سوچ رہا تھا کہ ہمارے جنوبی پنجاب کی طرح یہاں بھی غربت کے آثار نظر آئیں گے لیکن مجھے وہاں بھی زندگی ہنستی مسکراتی نظر آئی۔ وہاں کا انفراسٹرکچر بھی مضبوط نظر آیا۔ چابہار کے بارے میں وہاں بریفنگ دی گئی۔ ایران مجھے مستقبل میں ایک قائدانہ کردار ادا  کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ سب سے بڑی بات کہ ایران میں ہم نے لوگوں کی طبیعیت میں ٹھراؤ دیکھا ہے۔ جب ہم نے تعارف کرایا کہ ہم پاکستانی ہیں اور اہل سنت ہیں تو وہ بہت پیار سے ملے، ہم نے انہیں بتایا کہ تکفیریت اور وہابی ازم الگ ہیں۔ ہم اہل سنت صوفی ازم پر یقین رکھتے ہیں،  میں نے انہیں اپنی مثال دی کہ میرا اپنا نام عمر ہے، بیٹی کا نام فاطمہ اور بیٹے کا نام باقر حسین ہے۔ یہ ایک تبدیلی ہے جو ڈاکٹر قادری نے معاشرے میں لائی، جس کے بعد لوگ اہل بیت علیہ السلام کے نام پر نام رکھتے ہیں۔

میں نے وہاں کلچر قونصلیٹ اسلام آباد کے کردار کے بارے میں بتایا کہ مختلف مواقع پر اہل سنت کو مدعو کرتے ہیں اور جناب شہاب الدین دارائی، قاسم مرادی، مہدی ہنر دوست اور شاکری صاحب جو بھی لوگ یہاں آئے، ان کا کردار بہت اچھا رہا ہے اور اگر اسی طرح یہ تسلسل برقرار رہا تو پاک ایران تعلقات مزید بہتری کی طرف جائیں گے۔

تسنیم نیوز: آپ نے تعلیمی و تحقیقی اداروں کی بات کی، ہمارے علم میں یہ بات آئی ہے کہ منہاج یونیورسٹی، آستان قدس رضوی کے تحقیقی ادارے کے ساتھ مل کر امام رضا علیہ السلام چیئر اور یوم امام رضا علیہ السلام منانا چاہتی ہے، اس حوالہ سے اب تک کیا پیش رفت ہوئی ہے؟

عمر ریاض عباسی: دیکھیں ڈاکٹر طاہر القادری نے اسلامی جمہوریہ ایران کا دورہ کیا تھا اور پھر ان کے بیٹے حسین محی الدین قادری بھی گئے تھے تو اس وقت یہ بات چیت چلی تھی۔ ابھی دونوں اداروں اور فیکلٹی ممبرز اور ہیڈز کے درمیان تبادلہ خیالات ہو رہا ہے۔ ہماری دیرینہ خواہش ہے کہ یہ چیئر قائم ہو۔ اس سلسلے میں کچھ پیپر ورک رہتا ہے،  وہ مکمل ہوجائے تو امید ہے کہ دونوں بین الاقوامی اداروں کے درمیان باہمی تعاون کا سلسلہ قائم ہو جائے گا اور منہاج القرآن یونیورسٹی میں یوم امام رضا علیہ السلام بھی منایا جائے۔

تسنیم نیوز: گزشتہ دنوں راولپنڈی میں پاکستان عوامی تحریک کے جلسے نے نہایت گہرا اثر چھوڑا، حکومت کو ایک واضح پیغام گیا، تاہم اس کے بعد پی ٹی آئی اور پیٹ نے راہیں الگ الگ کر لیں، عوام دونوں جماعتوں کو یکجا دیکھنا چاہتی ہے تاکہ یہ حکومت کے مقابل ایک مضبوط اپوزیشن کے طور پر دکھائی دیں، دراڑ کی وجہ کیا بنی؟

عمر ریاض عباسی: اس دراڑ کا باعث ہم نہیں تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے تین تاریخ کو کہا تھا کہ ہم احتجاج کی  سیکنڈ اور تھرڈ فیس کا اعلان کریں گے۔ اس کے بعد عمران خان صاحب نے چار دفعہ ڈاکٹرطاہر القادری کو کال کی کہ پانچ کو آؤنگا، پھر پانچ کو کال کی کہ چھ کو آؤنگا، پھر آٹھ کو انہوں نے کہا کہ آج میں آرہا ہوں، وہ نہیں آئے، انہوں نے کراچی میں جلسے کا اعلان کر دیا، کوئی مشورہ نہیں کیا۔ ٹھیک ہے ان کا حق ہے لیکن جب آپ کسی کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں تو باہم مشورہ ضروری ہوتا ہے، چاہے آپ ہمیں بلا لیں یا ادارہ منہاج القرآن آجائیں، ملکر کر اپنا اپنا مطمع نظر بیان کریں، جوائنٹ اپوزیشن بنیں، وہ دراصل اس سلسلہ میں مخلص نہیں تھے۔ ہمارے دروازے آج بھی ان کے لئے کھلے ہیں۔

تسنیم نیوز: ماڈل ٹاون کا سانحہ ہوا، سانحات رکنے کا نام نہیں لے رہے، گزشتہ دنوں کوئٹہ میں زائرین خواتین کو بسوں سے اتار کر شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد گولیوں کا نشانہ بنایا گیا، واہ کینٹ کے حساس ترین علاقے میں محرم الحرام کے مہینے میں جب ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے انتہائی چوکس ہوتے ہیں، پیش آیا، کیا کہنا چاہیں گے؟

عمر ریاض عباسی: کوئٹہ سانحہ جس میں معصوم خواتین شہید ہوئیں اور محرم الحرام کے مہینے میں جو مہینہ ہمیں اخوت کا درس دیتا ہے، اتحاد و وحدت کا درس دیتا ہے۔ امام عالی مقام علیہ السلام نے انسانیت کے لئے قربانی دی، ہمارا سر شرم سے جھک جاتا ہے کہ جس مہینے میں نواسہ رسول علیہ السلام کی لازوال قربانی ہمارے سامنے ہے، بجائے انسانیت کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے، ہم دست و گریباں ہوتے ہیں، آج سنی شیعہ ایک ہیں۔ عزاداری کے سلسلہ میں میرے اٹھارہ پروگرام شیڈولڈ ہیں۔ پنڈی اسلام آباد کی دو امام بارگاہوں میں میرا نو اور دس محرم کو خطاب ہے۔ ہم ایک پلیٹ فارم پر ہیں۔ تکفیریت اور وہابیت کو ایک سائیڈ پر کر دیں۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہابی اور سنی نظریات ایک جیسے ہیں، نہیں ایسا نہیں ہے۔ سنیت اہل بیت علیہ السلام اور اولیائے کرام کی محبت کا نام ہے، سنیت کی بنیاد ہی محبت اہل بیت علیہ السلام ہے اور جو اس سے ہٹ کر بات کرتا ہے وہابی تو ہو سکتا ہے سنی نہیں۔ 

جنرل ضیاء سے پہلے کے زمانے میں ہمیں اپنے گھروں میں یہ سکھایا جاتا تھا کہ یہ سید الشہدا علیہ السلام کی قربانی کا مہینہ ہے، نیاز دی جاتی تھی۔ اس دور کے بعد جب کالعدم لشکر جھنگوی جیسی جماعتیں پروان چڑھائی گئیں اور تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ایران میں اسلامی انقلاب آیا، اسے زک پہنچانے کے لئے یہ سب کچھ امریکہ اور اسرائیل نے کروایا۔ جس کے بعد امام خمینی (رہ) نے نعرہ لگایا تھا کہ لاشرقیہ لاغربیہ جمہوری اسلامیہ اور فرمایا کہ جو سنی شیعہ کے درمیان اختلاف ڈالے گا اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ انقلاب ایران میں آیا اس کا تاثر پوری دنیا پر پڑنا تھا۔ مسلم دنیا ایک اسلامک بلاک کی طرف جارہی تھی، اس بلاک کو بننے سے روکنے کے لئے پاکستان میں تکفیریت کا بیج بویا گیا جو آج تک ہم کاٹ رہے ہیں۔ اگرایسا نہ کیا جاتا تو ہمیں ایک اسلامک بلاک نظر آتا۔ ایران اور پاکستان اس بلاک کو لیڈ کر رہے ہوتے۔

تسنیم نیوز: سعودی عرب نے پاکستان کو کیسا تحفہ دیا تھا کہ اب سود کے ساتھ واپس مانگا جارہا ہے۔

عمر ریاض عباسی: کوئی تحفہ نہیں تھا، آپ کی اس ویب سائٹ تسنیم نیوز کی وساطت سے قارئین کو بتا دوں کہ سعودی عرب میں کونسی شریعت ہے اور کونسا اسلام ہے؟ جو تحفہ دیکر واپس لے رہے ہیں چلیں کوئی بات نہیں، آپ نے واپس لے لیا لیکن سود کے ساتھ لے رہے ہیں۔ کیا آپ خادم حرمین شریفین ہیں؟ تو حرمین کا خادم سود کی بات کرے۔ اس پہ تو میرے منہ سے لعنت کے سواء کوئی لفظ نہیں ہے، بیشک سخت لفظ ہو، سعودی عرب ویزہ فیس میں ستر فیصد اضافہ کر رہا ہے۔ سعودی عرب سے واپس نکلنے کے بھی دو ہزارریال دینے پڑیں گے۔

تسنیم نیوز: مزدور طبقے کے ساتھ بھی ظلم کیا گیا، بغیر تنخواہوں کے انہیں نکال باہر کیا گیا؟

عمر ریاض عباسی: بیس ہزار پاکستانی ان کی جیلوں میں قید ہیں۔ جنرل راحیل شریف نے محمد بن سلمان کو شٹ اپ کال دی تھی۔ اس نے کہا تھا کہ آپ سربراہ بنے یمن کے خلاف اتحاد کے سلسلے میں، آرمی چیف نے کہا تھا کہ کیا میں یمنی مسلمانوں کا خون بہانے کے لئے سربراہ بنوں؟ میز پر آکر بات کرو، ایشوز اپنے حل کرو، ہماری فوج کرائے کی قاتل نہیں ہے کہ یمن میں جاکر مسلمانوں کا خون کرے۔ پہلے تو یہ بتاؤ کہ بیس ہزار پاکستانی سعودی جیلوں میں کیوں سڑ رہے ہیں، ان کا کیا قصور ہے۔   

ہم پاکستان کی عوام کو یہ شعور دے رہے ہیں کہ آل سعود اور حرمین شریفین کے درمیان فرق ہے۔ روضہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خاطر ہماری جان بھی حاضر ہے، آل سعود کے اقتدار کی خاطر نہیں۔  ہم نے سحر عالمی نیٹ ورک پر یہ بات کی اور یہ بات ایران کی انٹیلی جنس اور پالیسی ساز اداروں تک پہنچی ہے کہ حج اور عمرے کی آل اسلام پر مشتمل ایک کمیٹی ہو اور حج کا سرمایہ تمام مسلمانوں پر تقسیم ہو اور اس سلسلے میں احتساب کا عمل بھی یہی کمیٹی کرے۔ تو اب سعودیہ عالمی سطح پر تنہائی کی طرف جارہا ہے، حرمین صرف آل سعود کا نہیں ہے، عالم اسلام کا ہے۔ روضہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جتنا میرے لئے ہیں اتنا ہی ایران کے لئے بھی ہیں۔ یہ کیا بات ہوئی کہ آپ نے یمن، لبنان اور ایران پر حج کی پابندی لگا دی۔ اپنے شہزادوں کو آپ نے وہاں بلا لیا، جن پر دوسری دفعہ حج کرنے پر پابندی تھی، تو اب شعور بیدار ہو رہا ہے اور مجھے آل سعود کا اقتدار ڈوبتا نظر آرہا ہے۔

تسنیم نیوز: پاکستانی میڈیا کے آسمان پر ایک نیا درخشاں ستارہ تسنیم جگمگا اٹھا ہے، بہتر انداز میں کام کرنے کے لئے کیا تجاویز دیں گے؟

عمر ریاض عباسی: میری نیک دعائیں اور تمنائیں تسنیم نیوز ایجنسی  کے ساتھ ہیں، پاک ایران دوستی مزید مضبوط ہوگی اور وحدت و اتحاد کے لئے نئے نئے راستے کھل جائیں گے۔ نیوز ایجنسیز اور ویب سائٹس ہونی چاہئیں تاکہ ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملے، ایک دوسرے کی ثقافت کا مشاہدہ کریں۔ ایک دوسرے کے قریب آئیں اور مل بیٹھیں۔ تسنیم اردو ایک بہت خوبصورت اضافہ ہے، اللہ تعالیٰ اس میں مزید برکت عطا فرمائے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری