محقق اور ترک امور کے ماہر کا تسنیم نیوز کو انٹرویو؛

انقرہ اور ریاض ایک دوسرے کو نظر انداز نہیں کر سکتے

خبر کا کوڈ: 1209001 خدمت: انٹرویو
کاکایی

ترک امور کے ماہر نے کہا ہےکہ ترکی اور سعودی عرب ایک دوسرے کو نظر انداز نہیں کر سکتےہیں کیونکہ دونوں فریقوں کے خیالات اور مفادات مشترکہ ہیں جو دونوں ممالک کو ساتھ چلنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

معروف محقق اور ترک امور کے ماہر سیامک کاکایی نے تسنیم کے نامہ نگار کے ساتھ ایک انٹرویو میں سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن نائف، وزیراعظم کے دوسرے نائب اور وزیر داخلہ  کے ترکی کے دورے کے بارے میں اور 15 جولائی کو سر اٹھانے والی بغاوت کے نتیجے میں فریقین کے درمیان پیدا ہونے والے تناؤ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اور ترکی مغربی ایشیا میں دو اہم ممالک ہیں جن کے حالیہ برسوں میں دوطرفہ تعلقات نہایت گہرے ہو گئے تھے۔

خاص طور پر شام کے معاملے میں دونوں کا نقطہ نظر کسی حد تک قریب ہے۔ ترکی میں 15 جولائی کو واقع ہونے والی بغاوت کے بارے ریاض کی جانب سے فوری مذمت کا سامنے نہ آنا سعودی عرب سے ترکی کی ناراضگی کا سبب بنا تھا۔

انہوں نے محمد بن نایف کے ترکی کے دورے کو دونوں فریقوں کے تعلقات کے معمول پر واپسی قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ اگر چہ انقرہ اور ریاض کے خیالات ایک دوسرے کے قریب ہیں لیکن حالیہ برسوں میں عرب خطے کے بعض حالات اور واقعات کی وجہ سے مغربی ایشیا میں دو طرح کی نگاہ اور رویہ رکھتے ہیں۔

ترک امور کے ماہر نے انقرہ اور ریاض کے نقطہ نظر میں شگاف کا حوالہ دیتے ہوئے اظہار کیا کہ ترکی نے مصر میں مرسی کی حمایت کی اور وہ ترکی کو ماڈل کے طور پر اپنا رہا تھا۔

جبکہ سعودی عرب مرسی کو نہیں چاہتا تھا اور مصر میں فوجی بغاوت کی حمایت کی۔ یہ موضوع انقرہ اور ریاض کے درمیان کچھ اختلافات اور شگاف کا باعث شمار ہوتا ہے۔

انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کا ترکی اور سعودی عرب کے کردار کے ساتھ تقابلی جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ شام کے معاملے میں ترکی اور سعودی قریبی خیالات رکھتے ہیں۔ جب ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کشیدگی کا شکار ہو گئے تھے تو انقرہ اور ریاض کے ایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعلقات تھے۔

یہ ایک سیاسی توازن کے طور پر ایک پلیٹ فارم میں تبدیل ہوا جو باہمی طور پرمغربی ایشیا میں اسلامی جمہوریہ ایران کے کردار اور پالیسیوں کے مقابلے میں ہے۔

ترک امور کے ماہر نے اس سوال کے جواب میں کہ انقرہ کا محمد بن نائف کو دعوت دینا ایک خاص پیغام ہے، کہا: لگتا ہے ترکی ابھی شام کے بحران میں مصروف ہے۔ ترکی کا سعودی عرب کے بارے میں نقطہ نظر ممکن ہے بیرونی ماحول سے متأثر ہو جس طرح اردوغان کا ماسکو دورہ اور روس ترکی تعلقات کو معمول پہ لانے کی کوششوں نے دکھایا ہے کہ ترکی کو بیرونی تعاون کی کتنی ضرورت ہے۔

انہوں نے انقرہ اور ریاض کے درمیان تعلقات کی اہمیت کی نشاندہی کر تے ہوئے کہا کہ ترکی اور سعودی عرب ایک دوسرے کو نظر انداز نہیں کر سکتے کیونکہ دونوں فریقوں کے خیالات اور مفادات مشترکہ ہیں جو دونوں ممالک کو ساتھ چلنے پہ  مجبور کر رہے ہیں۔

انقرہ 15 جولائی کی بغاوت کے بعد اپنے بگڑے ہوئے تعلقات کو معمول پر لانے میں لگا ہوا ہے اور یہ نکتہ مغربی ایشیا میں ترکی کی حکمت عملی پر بھی نہایت اثر انداز ہو رہا ہے۔

ترک امور کے ماہر نے اس صورت حال کو ریاض اور انقرہ  کی طرف سے دو طرفہ تعلقات کے ایک نئے فریم ورک پر متفق ہونے کی کو شش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ترکی اور سعودی عرب کے درمیان اس قسم کی بات چیت ہمیں بتا رہی ہے کہ فریقین ایک نئے فریم ورک میں اپنے تعلقات کی وضاحت کرنے کی کوشش کی کر رہے ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر ان تعلقات سے فائدہ حاصل کرسکیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری