سرحد پار دہشت گردوں کی نشاندہی اور نگرانی پر ایرانی انٹیلی جنس اتھارٹی کا مکمل کنٹرول

خبر کا کوڈ: 1209737 خدمت: ایران
درگیری با تروریست‌ها در کرمانشاه

ایرانی انٹیلی جنس اتھارٹی کو سرحد پار دہشت گردوں اور تکفیری گروہوں کی شناخت اور نگرانی پر مکمل کنٹرول ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کچھ عرصہ پہلے امریکہ میں ایرانیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران آج کے دور میں سلامتی اور امن کی علامت ہے۔

تاہم یہ سلامتی اور امن کہاں سے  ہے؟ آپ سعودی عرب کے رویے پر نظر ڈالیں تو مشاہدہ کریں گے کہ وہ امریکی حمایت کو برقرار رکھنے کے لئے کیسے ہاتھ پیر مار رہا ہے۔

آج سعودی عرب کے نصف سے زیادہ وزرا کانگریس میں حالیہ بل کے پاس ہونے کی وجہ سے ایک امریکی سینیٹر کے کمرے سے دوسرے سینیٹر کے کمرے کا چکر کاٹ رہے ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ سعودی عرب والے اپنی حکومت پر باقی رہنے کا تمام قانونی جواز اور زندگی کو امریکی حمایتی چھتری سے وابستہ سمجھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران ایسا نہیں ہے۔ ایران کی عوام نے حالیہ 30 برسوں میں مشکلات اور پابندیوں کا سامنا کیا لیکن جھکے نہیں ہیں۔ اس کی وجہ ایک تو ہماری عوام ہے اور دوسری ہماری سیکیورٹی کا مستقل ہونا ہے۔

رواں سال جون میں "جوہری معاہدہ ایران اور ناروے کے مابین تعاون کے نئے مواقع" کے سے نام منعقدہ کانفرنس میں ڈاکٹر ظریف نے زور دے کر کہا تھا کہ ہماری سیکیورٹی کچھ پڑوسیوں کے خیال کے برعکس ہماری خود انحصاری کی بنیاد پر ہے نہ کہ کوئی بیرون ملک سے خریدے گئے ہتھیاروں اور آلات کی وجہ سے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ایران کی عزیز عوام خاص طور پر سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کا حالیہ برسوں میں ایک اہم کردار ہے۔ وہ لوگ خود سرحدی علاقوں کی حفاظت میں، سپاہ پاسداران، فوج، انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کرتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں سب سے بڑی سیکیورٹی کاروائی ایران میں داعش کے قیام کی بنیاد پڑنے سے روکنے کے لئے کی گئی اور کرمانشاہ کے سرحدی علاقوں میں سے ایک میں جس شخص کا مبینہ طور پر ایران میں داعش کے امیر کے طور پر اعلان کیا جانا تھا، سکیورٹی فورسز کی کوششوں سے ایک پیچیدہ اور وسیع آپریشن میں مارا گیا۔

کچھ مقامی ذرائع نے ان کا نام "ابوعائشه" بتایا ہے جبکہ یہ ان کا اصل نام نہیں ہے۔ یہ شخص صرف ان کی تنظیم میں اس نام سے جانا جاتا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ اس علاقے میں شافعی سنی بستے ہیں اور شافعی علماء اور خطے کے عوام نے اس آپریشن کی کامیابی میں انتہائی تعاون دکھایا اور یہ ڈاکٹر ظریف کی باتوں کا ثبوت ہے جن کا کہنا ہے کہ ایران کی سیکیورٹی اپنے اندر سے ابھری ہوئی ہے جو کہ مقامی لوگوں سے وابستہ ہے۔ یہ ہمارے لوگ ہیں جو ملک کی سلامتی کا سبب بنے ہوئے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل مسلح گروہوں، ڈیموکریٹ اور پژاک جیسے علیحدگی پسند گروہوں کی طرف سے کئی ناکام کوششوں کے بعد بریگیڈیئر جنرل محمد حسین رجبی کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں اور مسلح گروہوں کی شناخت اور ان کے نیٹ ورکوں کی نابودی میں ایرانی عوام ایک اہم حصہ اور عظیم قیمتی سرمایہ ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دگاگا، بوریدر، چشمیدر، هرسین، رزاب اور ارد گرد کے دوسرے دیہاتوں کے لوگوں نے اپنی پوری طاقت کے ساتھ انقلاب مخالف گروہوں کی نشاندہی میں سپاہ پاسداران کے ساتھ مناسب تعاون کیا تھا جو کہ قابل تحسین ہے۔

ایک دوسرا اہم نکتہ جس کی طرف اشارہ کرنا چاہیے وہ یہ ہے کہ  ایرانی انٹیلی جنس اتھارٹی کو سرحد پار دہشت گردوں اور تکفیری گروہوں کی نشاندہی اور نگرانی پر مکمل کنٹرول ہے۔

ایرانی سکیورٹی فورسز کے مؤثر اقدامات میں سے ایک یہ ہےکہ وہ سپاہ پاسداران کے تعاون سے عراق کے اندر سے دہشت گرد گروہوں کا سراغ لگاتے ہیں جو ایک عظیم کام ہے۔

داعش کا خود ساختہ راہنما ابوعائشه پورے ایران کے لئے آیا تھا اور اس کے علاوہ بہت سے داعشی ایران میں دہشت گرد کاروائیاں کرنے کے لئے آئے تھے لیکن وہ ان تمام کارروائیوں کو انجام دینے سے پہلے ہی حکومت اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے دام میں پھنس گئے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری