پاکستان میں فارسی زبان/ ہم جہاں جاتے ہیں وہاں فارسی ضرور پاتے ہیں

ایران، جانِ پاکستان کے موضوع پر جاری خصوصی دستاویزی رپورٹ کی ایک اور کوشش جسے پشاور میں ایرانی ثقافتی مرکز کے سابق سربراہ جناب عبدالحسین رئیس‌السادات نے ترتیب دیا ہے، قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔

پاکستان میں فارسی زبان/ ہم جہاں جاتے ہیں وہاں فارسی ضرور پاتے ہیں

تسنیم خبر رساں ادارے کے مطابق، آپ اس مضمون میں پاکستان کی قومی زبانوں پر فارسی زبان اور ادب  کے اثر و رسوخ کے کچھ نمونے ملاحظہ فرمائیں گے۔

اس مضمون میں آپ ملاحظہ کریں گے کہ برصغیر کے شعرا، ادبا اورعرفا سب سے زیادہ ایرانی مشہور شعرا جیسے حافظ، سعدی، مولانا، جامی، حکیم توس وغیرہ سے بے حد متاثر ہیں، ایسا لگتا ہے کہ شاعر نامدار فردوسی کا شاہنامہ ایران کی سرحدیں عبور کرتے ہوئے پشاور کے اطرف کے پشتون عوام تک سفر کرچکا ہو۔

لاہور یونیورسٹی میں جناب ڈاکٹر آفتاب اصغر کی سربراہی میں فردوسی شناسی اور ادبیات فارسی کے بارے میں کام ہورہا ہے۔

فارسی زبان 800 سال تک برصغیر کی قومی زبان رہی ہے۔

ہم اپنے قارئین کی خدمت میں پاکستانی ثقافت پر فارسی کے اثرات کو بطور مختصر پیش کریں گے۔

فارسی اور اردو

برصغیر میں ہر کوئی جانتا ہے کہ اردو پر فارسی کے گہرے اثرات ہیں، برصغیر کے بڑے بڑے نامور شعرا  جیسے امیرخسرو، غالب، اقبال، بیدل، ابوالفرج رونی، ادیب پیشاوری وغیرہ نے فارسی میں اشعار کہی ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستان کے صوبوں بالخصوص خیبر پختونخواه میں کئی زبانیں بولی جاتی ہیں جیسے پشتو، هندکو، سرائیکی، کهوار، کوهستانی وغیرہ۔ جب میں نے ان زبانوں کے بولنے والے اساتید اور ادبا سے گفتگوکی تو معلوم ہوا کہ یہ زبانیں بھی فارسی سے متاثر ہیں۔

برصغیر میں فارسی زبان کی آمد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ہندوستان فتح ہونے سے قبل سلطان محمود غزنوی کے دور سے فارسی کے اثرات ملتے ہیں اور تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ 800 سال تک فارسی زبان برصغیر میں قومی زبان کے طور پر بولی جاتی رہی ہے۔

ہندوستان میں 1915 میں جواہر لعل نہرو کے والد نے اپنے شادی کارڈ کو فارسی اور انگلش زبانوں میں چھپوایا تھا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت ہندوستان میں فارسی زبان ہی رائج تھی۔

اردو میں فارسی جملوں کی ترکیبات اور ادبیات پر ایک نظر

اردو میں فارسی الفاظ کی کیفیت کے بارے میں توجہ کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ فارسی کے اردو میں زیر استعمال اکثر الفاظ عامیانہ نہیں بلکہ ادیبانہ ہیں۔

جس طرح سےفارسی زبان میں عربی اثرات پائے جاتے ہیں اسی طرح اردو میں فارسی کے اثرات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ عربی اور فارسی کی گرائمر میں کافی حد تک فرق  پایا جاتا ہے جبکہ اردو اور فارسی کی گرائمر میں مماثلت پائی جاتی ہے۔

اس بات کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں ان میں سے ایک برصغیر میں اسلام کا آنا اور ایران کے ساتھ اس خطے کے لوگوں کے قریبی تعلقات اور دنوں ممالک کے درمیان تجارتی فروغ وغیرہ باعث بنے ہیں کہ اردو میں فارسی کے زیادہ سے زیادہ الفاظ شامل ہوجائیں۔

شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ فارسی اور اردو ہر دونوں کا تعلق آریائی زبان سے ہے اور یہ قدیم ہندی کی ایک شکل ہے جو فارسی زبان کے زیر اثر رہ کر موجودہ شکل میں ہمارے سامنے آئی ہے۔

اگر دنیا کی تمام زبانوں کا موازنہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اردو اور فارسی ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں۔ اشعار کی تمام اقسام فارسی سے لی گئی ہیں اس کے علاوہ اردو میں استعمال ہونے والے تمام کنایے، استعارے، تشبیہات وغیرہ فارسی کے ہی ہیں۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ برصغیر میں جو فارسی بولی جاتی تھی وہ زیادہ تر آج کے افغانستان سے آگئی تھی، اس وقت ایرانی فارسی کو تورانی فارسی کہا جاتا تھا جو کہ ایرانی تلفظ کے ساتھ کافی فرق ہے۔ محقیقن نے بھی اس بات کی تائید کی ہے کہ برصغیر میں فارسی مغل دور میں شروع ہوئی تھی۔

پشتو اور فارسی

پاکستان اور افغانستان سمیت دنیا بھر میں چالیس ملین لوگ پشتو زبان بولتے ہیں۔ پاکستان کے صوبے خیبر پختون خوا، بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں پشتو بولنے والوں کی کثیر تعداد آباد ہے۔

میرے خیال میں پشتو، فارسی زبان کی ایک شاخ ہے، فارسی کو پشتو زبان کی ماں کہا جاتاہے، لیکن پشتو اپنی ماں سے دور، سخت اور دشوار پہاڑوں کے بیچوں بیچ پھل پھول گئی جس کی وجہ سے بہت سوں کو ایسا لگ رہا ہے کہ پشتو ایک مستقل زبان ہے جبکہ ایسا بالکل نہیں ہے۔

پشتو زبان کی جڑیں فارسی سے ملی ہوئی ہیں، مستشرقین اور افغانستان کے بعض زبان دانوں نے پشتو کے بارے میں مختلف نظریے بیان کئے ہیں۔

لیکن ایرانی زبان دانوں نے پشتو کے بارے میں کچھ نہیں لکھا ہے اور اگر لکھا بھی ہے تومیرے علم میں نہیں ہے۔ میری ایرانی زبان دانوں سے گزارش ہے کے اس بارے میں تحقیقات کریں اور حقائق سامنے لائیں۔

پاکستان سے تعلق رکھنے والے نامہ نگار، تجزیہ کار، محقق اور کام نگار سلیم راز نے اپنے ایک مقالے میں پشتو زبان پر فارسی کے اثرات کو اجاگر کیا ہے۔

سلیم راز کا کہنا ہے کہ دنیا کی مختلف زبانوں کے بارے میں ہندوں کی مقدس کتابوں جیسے ''ویدا'' میں ذکر ملتا ہے۔

ان کتابوں میں سے خاص کر ''ریگ ویدا'' میں تفصیل کے ساتھ بحث کیا گیا ہے۔

محققین کا خیال ہے کہ یہ کتابیں ایک ہزار پانچ سو سال قبل از مسیح لکھی گئی ہیں، ان کتابوں میں سب سے زیادہ پرانی تہذیبیں ایرانی، افغانی اور ہندوستانی ہی ذکرکی گئی ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ قدیمی تہذیب کونسی ہے؟

ایرانی تہذیب کے بارے میں مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ  سب سے زیادہ پرانی دستاویزی کتاب ''اوستا'' ہے جو کہ  فرقہ زرتشت کی اہم کتاب ہے، یہ کتاب ''جاند'' زبان میں لکھی گئی ہے۔

واضح رہے کہ زبان جاند سے پہلوی اور پہلوی سے فارسی بن گئی ہے، جس کا ذکر اوستا میں ملتا ہے۔

اسی طرح برصغیر کی قدیمی ترین تہذیبی سند اور دستاویزی کتاب ''ویدا'' ہے جو کہ سنسکریت زبان میں لکھی گئی ہے اور ان کتاب میں زبانوں اور ثقافتوں کا ذکرکیا گیا ہے۔

ان کتاب کا اوستا کے ساتھ اگرموازنہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایرانی تہذیب برصغیر کی تہذیب سے کہیں زیادہ پرانی ہے۔

لیکن برصغیر پر جو فارسی تہذیب کے اثرات ہیں وہ افغانستان سے وابستہ ہیں نہ کہ ایران سے کیونکہ یہ تہذیب ہندوستان میں آریائی قوم کی توسط سے آئی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں جو پشتو بولنے والے قبائل زندگی بسر کررہے ہیں وہ آریائی نژاد ہیں۔

سنسکریت کی گرائمر لکھنے والے عالم پانینی جو کہ لاھور کے مضافات کا رہنے والے تھے، نے سنسکریت زبان میں پشتو الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے اور یہی دستوراور گرائمر پشتو زبان کی پہچان کے لئے ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سنسکریت اور جاند جیسی زبانوں سے پہلے افغانی تہذیب موجود تھی جس سے فارسی زبان کی جڑیں  وابستہ ہیں جبکہ باقی تمام زبانوں پر فارسی کے اثرات واضح اور اظہرمن الشمس ہیں۔

پشتو پر فارسی کے اثرات ضرور ہیں، اس میں کوئی شک نہیں لیکن اردو کی طرح نہیں بلکہ کچھ مختلف ہیں۔ اردو زبان شعرا میں بعض ایسے بھی ہیں جنہوں نے فارسی زبان میں بھی شاعری کی ہے، جس طرح اردو میں اشعار کی کتابیں لکھی ہیں اسی طرح فارسی میں بھی کئی کتابیں مرتب کی ہیں لیکن کسی پشتو شاعر نے فارسی میں بھی شاعری کی ہو اس کی کہیں کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔

جناب پروفیسر جمیل یوسف زئی کا خیال ہے کہ پشتو فارسی کا ایک مسخ شدہ شکل ہے، پشتو اصل میں فارسی ہی ہے، انہوں نے دلیل کے طور پر  لفظ ''ناویانہ'' کا ذکرکیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ناویانہ ایک ایسا نام ہے جو لڑکیوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اس لفظ کو کبھی کبھار صفت کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا کہ ناویانہ اصل میں فارسی لفظ ''نایافتہ'' تھا جو کثرت استعمال کی وجہ سے ناویانہ ہوگیا ہے۔

جمیل یوسف زئی کا کہنا ہے کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ فارسی اور سنسکریت سے بھی پشتو زیادہ پرانی زبان ہے، ان کا خیال ہے کہ دوسری زبانیں پشتو سے متاثر ہیں۔ بہت سارے لغات پشتو زبان سے ہی  لئے گئے ہیں لیکن ان کے پاس اپنی بات منوانے کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے پھر بھی انہوں نے بعض دلائل کا ذکر کیا ہے جو کہ قابل قبول نہیں ہے جیسے کہ کہا گیا ہے فارسی زبان میں''خستہ نباشی'' در اصل پشتو کا جملہ ہے جبکہ زبان دانوں کا کہنا ہے کہ پشتو میں فارسی کے بہت ساری کہاوتیں استعمال ہوتی ہیں۔

قارئین و صارفین کرام خصوصی دستاویزی رپورٹ "ایران، جان پاکستان" کی شائع شدہ قسطیں مندرجہ ذیل لنکس پر کلک کرکے مشاہدہ کرسکتے ہیں:

«فرهنگ، سیاست، اسلامی جمہوریہ»/ خصوصی دستاویزی رپورٹ «ایران، جانِ پاکستان»ــ1 »ہمالیا کے کسی قھوہ خانے میں امام خمینی کی تصویر سے لیکر خرمشہر کی آزادی کےلئے روزوں کی منت تک.

خصوصی دستاویزی رپورٹ «ایران، جانِ پاکستان»ــ2 » ہم پاکستان میں بھی ایک "خمینی" چاہتے ہیں.

خصوصی دستاویزی رپورٹ «ایران، جانِ پاکستان»ــ3 » ایران کے ثقافتی انقلاب کے فروغ کا بوجھ ایک 22 سالہ پاکستانی کے کندھوں پر/ «سلحشور» پاکستان میں ایرانی ثقافت کے سپاہی.

خصوصی دستاویزی رپورٹ «ایران، جانِ پاکستان»-4 » پاکستان کے مسلمان ایران کے ساتھ زندہ ہیں/ ہمارا عقیدہ ہے کہ "اگر ایران نہ ہو تو ہم بھی نہ رہیں گے"

خصوصی دستاویزی رپورٹ «ایران، جانِ پاکستان»-5 » جنگ کے دوران ایران کے لئے پاکستانی خواتین کے زیورات کے عطیے.

مربوط خبریں
سب سے زیادہ دیکھی گئی ایران خبریں
اہم ترین ایران خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری