تجزیہ/ بابر رحمان

پاک فوج کا گھیراؤ ۔۔۔۔۔۔!

خبر کا کوڈ: 1212963 خدمت: مقالات
بابر رحمان

جنگ گروپ کے بعد حکومت کے قریب ترین سمجھے جانے والے دوسرے بڑے میڈیا گروپ ڈان نیوز نے ایک "نامعلوم سورس" کی بنا پر یہ خبر جاری کی ہے کہ پاک فوج دہشت گردوں کے خلاف ٹھیک سے آپریشن نہیں کر رہی جس کی وجہ سے شائد "منتخب جمہوری حکومت" ڈی جی آئی ایس آئی کو تبدیل کر دے۔۔۔

پاکستانی صحافی بابر رحمان نے تسنیم نیوز کو اپنے بھیجے گئے مقالہ میں کہا ہے کہ جنگ گروپ کے بعد حکومت کے قریب ترین سمجھے جانے والے دوسرے بڑے میڈیا گروپ ڈان نیوز نے ایک ” نامعلوم سورس ” کی بنا پر یہ خبر جاری کی ہے کہ پاک فوج دہشت گردوں کے خلاف ٹھیک سے آپریشن نہیں کر رہی جس کی وجہ سے شائد “منتخب جمہوری حکومت” ڈی جی آئی ایس آئی کو تبدیل کر دے۔۔۔

اب ذرا اس ساری صورت حال کی ایک بڑی تصویر پر نظر ڈالئے !

پاک فوج نے اس خطے میں دو تین ایسے کام کر دئیے ہیں جس نے اسلام اور پاکستان دشمن قوتوں سارا کھیل برباد کرکے رکھ دیا ہے۔

ضرب عضب نے امریکہ، انڈیا اور اسرائیل کے مشترکہ آپریشن ہارنسٹ نسٹ کی پاکستان میں کمر توڑ دی ہے اور پاکستان کو اندرونی خانہ جنگی کے ذریعے عراق و شام بنانے کا خواب ملیامیٹ کر دیا ہے۔

پاک فوج کی نگرانی میں بننے والے گوادر پراجیکٹ اور سی پیک کی بدولت نہ صرف چین، امریکی اور انڈین دست برد سے محفوظ ہوکر براہ راست خلیج تک رسائی حاصل کر لے گا بلکہ دنیا کی یہ سب سے بڑی معیشت پاکستان پر انحصار کرنے لگے گی۔

یہی منصوبہ روس اور ایران جیسے ممالک کو کھینچ کر پاکستان لے آیا ہے جسکا مشاہدہ آج آپ اپنی آنکھوں سے کر رہے ہیں۔ ان دونوں ممالک میں انڈیا کی تمام سفارت کاری اور سرمایہ کاری دھری کی دھری رہ گئی ہے۔

پاک فوج افغان مہاجرین کی واپسی اور افغانستان کی سرحد بندی کر کے اس خطے میں وہاں سے ہونی والی ممکنہ مداخلت کا راستہ بھی ہمیشہ کے لیے بند کرنے پر تلی ہوئی ہے۔

پراکسی جنگ میں پاک فوج کے ہاتھوں ہونے والی عبرتناک شکست کے بعد دشمن اب ان تینوں محاذوں پر اپنے سیاسی اور صحافتی مہروں کو دوبارہ حرکت میں لے ایا ہے۔

کچھ دن پہلے فضل الرحمن نے اچانک قبائلی عوام کو مخاطب کر کے کہا  کہ "آپریشن ضرب عضب دراصل قبائل کے خلاف کیا گیا ہے"۔

جب مولانا کے اس بیان پر مطلوبہ ردعمل نہیں آیا تو مسلم لیگ (ن) کے چوھدری طلال نے فرمایا کہ "مولانا کی اس بات کی تحقیقات ہونی چاہئیں"۔

فضل الرحمن نے سی پیک پر بھی اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اسکو مسلسل متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے حالانکہ وہ خود حکومت کا حصہ ہے۔

فضل الرحمن نے ضرب عضب کے ساتھ ساتھ  افغان مہاجرین کی وطن واپسی پر بھی شدید تنقید کی ہے۔

دو دن پہلے مسلم لیگ (ن) کے ترجمان پرویز رشید نے اعلان کیا کہ "پاکستان کو جرنیلوں نے برباد کیا ہے" اور "عمران خان کے دھرنے سے سی پیک کو خطرہ ہے"۔

اور اب ڈان نیوز نے پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ انٹیلی جنس کامیابیاں حاصل کرنے والے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل رضوان اختر پر الزامات لگا دئے کہ وہ ٹھیک سے کام نہیں کر رہا۔۔۔

گزشتہ دنوں فضل الرحمن اور بلاول بھٹو کے درمیان ہونے والے چوما چاٹی کے نیتجے میں یہ خبر بھی سامنے آئی کہ فضل الرحمن نے ان کو حکومت کا ایک اہم پیغام دیا ہے جس کے بعد  پیپلز پارٹی کے ڈاکٹر عاصم کی رہائی کی کوئی صورت بن سکتی ہے۔ ( یاد رہے کہ ڈاکٹر عاصم نے 460 ارب روپے کی کرپشن اور دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے کا اعتراف کیا ہے۔  لیکن تاحال ہماری باکمال عدلیہ اس کا جرم "ثابت" نہیں کر سکی)۔

اگر ڈاکٹر عاصم کو کسی بھی طرح رہا کر دیا گیا تو یہ پاک فوج کے لیے ایک اور بہت بڑا جھٹکا ہوگا۔ جو پہلے ہی نیشنل ایکشن پلان اور پنجاب آپریشن کے راستے میں حائل "جمہوری رکاؤٹوں" سے تنگ آئی ہوئی ہے۔

مسلم لیگ (ن) ہی کے ایک لیڈر نے معنی خیز اعلان  فرمایا ہے کہ "نومبر کے بعد سب کچھ ٹھیک ہوجائیگا"۔۔۔ یعنی راحیل شریف کے جانے کے بعد ان سارے کاموں کو فل سٹاپ لگانے کی کوشش کی جائیگی!

پاک فوج کا گھیراؤ کرنے والے یہ سارے ملکر امریکہ اور انڈیا کی اس خطے میں ہارتی ہوئی جنگ کو جتوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس معاملے میں  نہ ان کو اللہ کا خوف ہے اور نہ اپنے انجام کا ڈر۔۔۔ !

سنا ہے پاکستان میں ایک آئین بھی پایا جاتا ہے جس کے آرٹیکل 19 کے مطابق، کوئی شخص بغیر ثبوت کے اور بغیر مطلوبہ فورم ( عدالت ) کے پاک فوج پر تنقید نہیں کر سکتا؟؟؟

ان لوگوں پر آئین کا یہ آرٹیکل کیوں اپلائی نہیں ہوتا؟ کیا  یہ آئین صرف سیاست دانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہی لکھا گیا ہے؟؟؟

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری