عطوان: سعودی عرب کو اب یمن میں اپنی ناکامی تسلیم کرنی چاہئے

خبر کا کوڈ: 1213293 خدمت: اسلامی بیداری
عبد الباری عطوان

بین الاقوامی امور کے ماہر نے سعودی اتحاد کا یمن میں حالیہ جرائم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اتحاد کو اس حقیقت کا اعتراف کرنا چاہئے کہ ایسی جنگ جس میں انہوں نے اتنی تباہی مچادی اور خون کی ندیاں جاری کردی ہیں، سے اپنا ایک مقصد بھی حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، عرب دنیا کے معروف تجزیہ نگار اور ٹرانس ریجنل اخبار "رای الیوم" کے ایڈیٹر "عبدالباری عطوان" نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کی یمن پر جارحیت کو ڈیڑھ سال سے زائد کا عرصہ ہو رہا ہے اور اس نے گذشتہ ہفتے صنعا میں جنگی جرائم کا اعتراف بھی کیا ہے جس میں یمنی ذرائع نے شہداء اور زخمیوں ک تعداد 700 افراد بتائی ہے۔

اتحادی افواج کے بیان کے مطابق، یہ بمباری دو اہم غلطیوں کی وجہ سے سرزد ہوئی ہے جبکہ یہ غلطیاں اصل گناہ سے بھی زیاد بدتر ہیں اس لئے کہ فوجی کمانڈروں کی موجودگی میں فاتحہ خوانی کی تقریب پر بمباری کرنا تمام اسلامی، اخلاقی اور یہاں تک کہ قبائلی اقدار کی بھی خلاف ورزی ہے۔

اور دوسری جانب یہ کہنا کہ یہ بمباری ڈرامائی طور پر اتحاد کےکمانڈروں کی حتمی ہماہنگی کے بغیر انجام پائی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اتحادیوں کے طیارے اپنے کمانڈروں کے واضح احکامات کے بغیر شہریوں پر بمباری کرتے ہیں اور لوگوں کا قتل عام کرتے ہیں۔  آیا سعودی اتحادی افواج میں سے ہر کوئی جو جی میں آئے انجام دیتا ہے؟

آیااس طرح سے جنگیں شروع کر دی جاتی ہیں اور منظم کی جاتی ہیں؟

اس کے علاوہ، امریکہ نے بحیرۂ احمر میں اپنے بحری جہازوں پر دو میزائل داغنے کے بہانے "انصار اللہ اور صالح" اتحاد سے وابستہ ریڈارز پر بمباری کی ہے اور یہ کام خود اس ملک کے صدر براک اوباما کے حکم سے انجام پایا ہے۔

عبدالباری عطوان نے سعودی عرب اور امریکہ کی جانب سے صنعا پر حالیہ بمباری کے بارے میں عذر تراشیوں کو بدترین شکل کے بہانے قرار دیتے ہوئے کہا کہ فاتحہ خوانی کی تقریب پر حملہ "اندازوں" یا "پیش گوئی" کے تحت کئے گئے جن کا مقصد سابق صدر علی عبدالله صالح، عبدالملک الحوثی، ان کے نمائندے، بھائی یا ان کے اہم کمانڈروں کو نشانہ بنانا تھا کہ شاید ایسے افراد پرسہ دینے والوں میں سے ہوں گے۔ اسی وجہ سے اس جرم کے ارتکاب کا حکم عمدا صادر ہوا تھا۔

انکا کہنا تھا کہ اگر پرسہ دینے والوں میں  یہ افراد ہوتے تو بھی کیا یہ اسلام اور انسانیت ہے کہ سینکڑوں عزاداروں اور عام شہریوں کے ساتھ مرحوم کے خاندان والوں کو جو مصیبت زدہ ہیں، پر بمباری کی جائے؟

انہوں نے کہا کہ جنگیں اس طرح سے مانیٹر نہیں کی جاتیں۔ ایسی جنگ جس میں سعودی اتحاد نے اتنی تباہی مچا دی ہے اور خون کی ندیاں جاری کر دی ہیں، سے اس اتحاد نے حتیٰ ایک ہدف کو بھی حاصل نہیں کیا ہے جبکہ اتحادی افواج بغیر شکست کھا کر سرگردان ہوئے ہیں اور امریکہ کو بھی مشکل میں ڈال دیا ہے۔ اس لئے سعودی عرب کو اب یمن میں اپنی ناکامی تسلیم کرنی چاہئے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری