شام عراق بارڈر پر شامی اور عراقی افواج کے آپس میں ملنے پر واشنگٹن کو پریشانی

شام کے فوجی امور کے ماہر اور تجزیہ کار نے تاکید کی ہے کہ امریکی چاہتے ہیں کہ عراقی اور شامی افواج کے آپس میں رابطے اور تعلقات قائم نہ ہو۔ اس لئے تهران اور دمشق کے درمیان جغرافیائی محور کے خاتمے کے بھی درپے ہیں۔

شام عراق بارڈر پر شامی اور عراقی افواج کے آپس میں ملنے پر واشنگٹن کو پریشانی

خبر رساں ادارے تسنیم کو دئے گئے اپنے انٹرویو میں شام کے فوجی امور کے ماہر اور تجزیہ کار  میجر جنرل یحییٰ سلیمان نے شام کے مشرق پر امریکی بمباری کے مقاصد کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا مقصد عراقی اور شامی فوج کو آپس میں ملنے اور رابطے سے روکنا ہے۔

کیونکہ ان دونوں ممالک کی افواج کا مل جانا اور تعلقات قائم کرنے کا مطلب ایران سے شام تک رابطہ لائن ایجاد کرنا ہے اور یہ ایسا اقدام ہے جسے امریکی حکومت بالکل ہی نہیں چاہتی۔

شام میں دیرالزور شہر کے  پلوں پر امریکہ کی حالیہ بمباری کے مقاصد کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ دیرالزور شہر کے  پلوں پر امریکہ کی حالیہ بمباری کے مقاصد وہیں ہیں جو مقاصد دو ہفتے پہلے الثرده پہاڑیوں میں شامی فوج پر بمباری میں تھے۔

اس شامی میجر جنرل نے کہا کہ امریکیوں نے پہلے ہی اپنے مقاصد کی وضاحت کی ہے اور اب ان پالیسیوں پر عمل درآمد کے دوران ان کے حقیقی ارادے فاش ہو رہے ہیں۔

پلوں پر امریکہ کی بمباری اس علاقے میں شامی فوج کو نقصان پہنچانے کے سلسلے کی کڑی ہے۔ وہ جانتے تھے کہ تدمر شہر کی سمت اور مغربی علاقے سے مشرق کی جانب داعشی دہشت گردوں کے خلاف شامی فوج کاروائی کرے گی۔

بے حد توقع تھی کہ شامی فوج یہ آپریشن انجام دےگی کیوںکہ گزشتہ پانچ سال کے دوران ایک مضبوط بریگیڈ دیرالزور میں موجود تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی چاہتے ہیں کہ عراقی فوج جو الانبار صوبے سے شام کی سرحد پر واقع شہر قائم تک پہنچنے کے لئے پیش قدمی کر رہی ہے،کا شام کی فوج سے  رابطہ نہ ہو پائے کیونکہ اگر شامی فوج دیرالزور کی جانب کسی آپریشن کا آغاز کرے تو وہ سرحد عبور کر کے عراق کے سرحدی شہر قائم تک پہنچ جائے گی جس کا مطلب شامی اور عراقی فوجوں کا آپس میں ملنا ہے اور ایران سے شام تک رابطہ لائن ایجاد کرنے کے برابر ہے اور یہ تہران سے شام تک جغرافیائی سیاست کا محور (Geopolitics) ہوگا جو کہ ایک ایسا اقدام ہے جسے امریکی حکومت بالکل ہی نہیں چاہتی۔

اس فوجی امور کے ماہر نے مزید کہا کہ امریکہ دریائے فرات کے مشرقی علاقے میں ریڈ لائن پیدا کرکے شامی فوج کی پیشقدمی کو روکنا چاہتا ہے۔

چنانچہ واشنگٹن نے گذشتہ برسوں میں دیرالزور شہر کے داعش کے کنٹرول میں آنے کے لئے امیدیں باندھ رکھی تھیں تاکہ اگلے مرحلے میں امریکہ کی وفادار فورسز کے ہاتھوں آزاد ہو جائے اور اس طرح سے دنیا کو دکھائے کہ امریکہ داعش کا محاصرہ کرنا چاہتا ہے جبکہ حقیقت میں یہ ملک داعش کا شریک اور پارٹنر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کا پلوں پر بمباری کرنا شامی فوج کے لئے سرخ لائنیں کھینچنے کے برابر تھا تاکہ ان کی مشرق کی طرف پیشقدمی کا روک تھام کرسکے اور عراق اور شام کے درمیان کے علاقے امریکہ سے وابستہ فورسز کے کنٹرول میں رہیں اسی طرح عراق اور شام کے درمیان جغرافیائی اور سیاسی رابطے قائم نہ ہو پائے۔

میجر جنرل یحییٰ سلیمان نے زور دیا ہے کہ ہم شام کی طرف امریکہ کی یلغار کے اقدامات کو جانتے ہیں یہاں تک کہ اگر علاقہ دہشت گرد گروہوں کے کنٹرول میں بھی رہے تب بھی واضح ہے کہ یہ امریکہ کا منافقانہ سیاسی نقطۂ نظر ہے کیونکہ مسلح گروہوں کے اعتراف کے مطابق، ان کے  مالی اور ہر قسم کی حمایت اور مدد کا سرچشمہ امریکہ ہی ہے۔

مربوط خبریں
سب سے زیادہ دیکھی گئی انٹرویو خبریں
اہم ترین انٹرویو خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری