تجزیہ/ مسعود چوہدری

پاکستان، پاکستانی اور پاکستانیت

خبر کا کوڈ: 1215266 خدمت: مقالات
مسعود چوہدری

مجھے پاکستان سے پیار ہے، لیکن یہ بے انتہاء مخلص محبت اس کے جغرافیہ، زمین اور لوگوں کی وجہ سے نہیں. پاکستان اس سب سے بڑھ کر ہے۔ یہ ایک تصور و تخیل ہے اور یہ ایک ایسا تصور ہے جس سے مجھے پیار ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کو ارسال کئے گئے مقالے میں پاکستانی کالم نگار مسعود چوہدری کا کہنا ہے کہ ایک تصور کہ تمام انسان برابری کی بنیاد پر آزاد ہو سکتے ہیں، صرف اس وجہ سے نہیں کہ کسی بادشاہ، وائسرائے یا ملکہ نے انہیں آزادی دے دی ہے بلکہ اس دیس کے بسنے والوں نے اس آزادی پر زور دیا ہے اور اسطرح رہنا پسند کیا ہے۔

تمام انسان آزاد پیدا کئے گئے ہیں۔ تمام انسان برابر پیدا کئے گئے ہیں۔ یہ ایسا تصور ہے کہ آج کے دور میں کوئی بھی اس تصور کے سحر میں مبتلا ہو سکتا ہے۔

پاکستانی جہاں کہیں بھی ہو پاکستانی ہی ہوتا ہے اور اپنی اقدار اور تصورات اپنے ساتھ ساتھ ہی لئے پھرتا ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی اپنی تصوراتی اساس سے کبھی باہر نہیں نکل پاتا خواہ وہ ریگستان عرب ہو یا یورپ کی ترقی یافتہ شاہراہیں اور یہ ہی وہ اعلیٰ ترین شے ہے جو دنیا کے کسی بھی کونے میں آزادی کی شمع کو جلائے رکھنے میں کامیاب رہتی ہے۔

پاکستانیت میں آزادی لازم و ملزوم شے ہے۔ جو آزاد نہیں وہ پاکستان نہیں۔ یہ اس وجہ سے نہیں کہ اسے یہ حق قانون نے دیا ہے بلکہ یہ خود ارادی کے طفیل اس نے حاصل کیا ہے اور اس نے یہ حق کسی کو بھی چھیننے نہیں دیا۔

پاکستانی نے اسی طرح پوری دنیا میں گھومنا پھرنا پسند کیا ہے اور اسی پر زور دیا ہے۔ کسی کو بھی یہ اختیار حاصل نہیں کہ اس کی سوچ کو مقید کر سکے یا ڈکٹیٹ کر سکے یا اپنی خواہشات کو زبردستی اسکی چاہت میں تبدیل کر سکے۔

پاکستانی آزاد پیدا ہوتا ہے اور آزاد ہی مرتا ہے۔ جتنا زیادہ وقت یہ اپنے وطن سے دور اپنے وطن کی محبت میں گزارتا ہے اتنا ہی اسکی وطن سے محبت اور اس تصور کی پختگی بڑھتی جاتی ہے۔ وہ اسی تصور کے ساتھ زندگی گزارتا ہے اور اگر یوں کہوں تو غلط نہ ہو گا کہ پاکستانیت ہی اسکے دکھ سکھ کا ساتھی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ملکی حالات پر ملک کے اندر رہنے والے خواہ تنقید کر لیں لیکن میرے پردیسی پیارے اور پیاریاں پاکستان کے بارے میں نہ صرف کوئی لفظ نہ سن پاتے ہیں بلکہ اپنے الفاظ کو سکوت کی تجوری میں بند کر رکھتے ہیں تاکہ کسی غیر کو تعنہ زنی کا موقع ہاتھ نہ آ جائے۔

پاکستانی اچھے اور خوش مزاج لوگ ہیں۔ ہم تمام دنیا میں خوش رہنے والی اقوام میں پہلے ترین نمبروں پر ہیں۔ ہم ایک دوسرے کا ساتھ دینا پسند کرتے ہیں اور مل جل کر کام کرتے ہیں۔ ہم سے بہتر ٹیم ورک کی مثال دنیا میں شاید ہی کہیں دی جا سکتی ہو۔ ہم نہ صرف ایک دوسرے کے اچھائی اور بھلائی کے لئے کام کرتے ہیں بلکہ ہم اپنی زندگیوں کو بھی بہتر بنانے کی کوششیں کرتے ہیں اور اسی جستجو میں ہمہ تن سرگرم عمل رہتے ہیں۔

ہم سب سے زیادہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے والے لوگ ہیں۔ ہم سب سے زیادہ پیسے مدارس اور مساجد کو چندہ کرتے ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ ہم دنیا میں سب سے زیادہ مفت دوسروں کی امداد کے کام کرتے ہیں۔

چونکہ پاکستانی اچھے لوگ ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہنے والے لوگ ہیں اور قانون کا احترام کرنے والے لوگ ہیں اور اکثر اوقات قانون کی ہر بات من و عن بادل نخواستہ مان لینے والے لوگ ہیں لہٰذا ہم ہر طرح سے کوشش کرتے ہیں کہ اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہت اچھے تعلقات استوار رکھیں۔ ہم پر امن زندگی پسند کرتے ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے ہمیشہ لڑائی جھگڑے سے جان چھڑانے اور بچنے کی ہی کوشش کی ہے اور اکثر اوقات ہم اس کوشش میں کامیاب بھی رہے ہیں اور بین الاقوامی طور پر پذیرائی بھی حاصل کر چکے ہیں۔ کلی طور پر ہم سب ایسے ہی ہیں۔

ہم میں سے زیادہ تر چوری نہیں کرتے، جھوٹ نہیں بولتے، زنا نہیں کرتے، شراب نہیں پیتے، جوا نہیں کھیلتے اور لڑائی جھگڑا قتل و غارت کو پسند نہیں کرتے۔ ہمارے ہاں رہزن و دہشتگرد کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے اور جو چور، ڈکیت، عوام کے ہاتھ آ جائے اس کی درگت ثواب کا کام سمجھ کر بناتے ہیں اور اپنا اپنا حصہ کار خیر میں ڈالتے ہیں۔

اگر اجماعی طور پر دیکھا جائے تو ہم قانون کا احترام تو کرتے ہیں لیکن پاکستان کے اندر داخل ہوتے ہی ہمیں قانون شکنی کا چسکہ یاد آ جاتا ہے۔ ہم جان بوجھ کر شوقیہ ایسے ایسے منفرد انداز میں قانون شکنی کرتے ہیں کہ قانون بنانے والے دنگ رہ جاتے ہیں۔

ہمارا جب اور جسطرح جی چاہتا ہے ہم قانون کو اس طرح استعمال کرنے کا فن بخوبی جانتے ہیں۔ اس فن کے پیچھے ہمارا آزاد طبع مزاج ہے۔  اور یہ مزاج ہی ہمیں اپنے فیصلے خود کرنے کی طاقت دیتا ہے۔

ہم اپنی ذاتی زندگیوں میں سیاستدانوں، مولویوں، سیلز مینوں اور فراڈیوں سمیت کسی کو بھی مدخل نہیں ہونے دیتے۔

ہاں سنتے سب کی ہیں اور بسا اوقات تو مزے لے لے کر لیکن جمعہ کے خطبات سے لے کر سیاستدانوں کے قوم سے خطاب تک ہمارا کوئی بھی کچھ نہیں بگاڑ سکا۔

آخر کار مرضی و منشاء اپنی اپنی ہی ہوتی ہے اگر قانون دان اسمبلی سے قانون پاس کروا بھی لیں تب بھی کسی میں اتنی ہمت کہاں کہ ہم سے اس قانون پر زبردستی عمل کروا لے۔

ہم زیادہ تر قانون سے رہنمائی کا کام لیتے ہیں لیکن ملک کے اندر بسنے والے اس کو اپنی زندگیوں میں دخل انداز نہیں ہونے دیتے۔

اگر کوئی سیاستدان ہماری منشاء کے بغیر ہماری زندگیوں میں داخل ہونے کی کوشش کرے تو ہم مل کر اسکے مذموم مقاصد کو خاکستر کرنے کے درپے ہو جاتے ہیں۔ اسکے نام کے لطیفے بناتے ہیں، اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور اسے اتنا تنگ کرتے ہیں کہ اسے اپنی عزت کے لالے پڑ جاتے ہیں۔

لیکن یہ معاملہ صرف سیاستدانوں تک ہی محدود ہے۔ ہم علماء کا مذاق نہیں اڑاتے اور نہ ہی مذہب کا۔ ایسا کرنے والے کو بھی پسند نہیں کرتے۔

دوسری جانب وردی والوں سے خواہ وہ فوجی ہوں یا پولیس والے ان سے پیار کرتے ہیں۔ خاص کر افواج کے ساتھ تو پہلی محبت کا سا رشتہ روا رکھتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ سیاستدان جو کچھ بھی کہہ لیں پوری قوم آرمی جنرل کے ایک اشارے پر مرنے مارنے کو تیار رہتی ہے۔ اس کا ایک سبب آرمی کی جانب سے خود کو کرپشن سے پاک رکھنا اور اپنی وردی کی عزت و تکریم کا پاس رکھنا ہے۔ آپ جہاں کہیں سے بھی پاکستان آرمی کے جوان کو وردی میں گزرتا دیکھیں گے نزدیک ہی چند ایک افراد فخریہ انداز میں انکی جانب دیکھتے پائے جائیں گے۔ یہ ایک ایسا رشتہ ہے جس کی تشریح الفاظ میں ممکن نہیں۔

ہم شاید دنیا کی وہ واحد مملکت نہیں ہیں جس کے کاروباری حضرات ٹیکس سے بچنے کے نئے نئے طریقے دریافت اور ایجاد کرتے ہیں۔

ہمارے کاروباری افراد ایسے آلات بھی دریافت کر لاتے ہیں جن کا مقصد حکومتی رٹ کو چیلنج کرنا ہو اور جلد عوامی مقبولیت کی وجہ سے نہ صرف ہاتھوں ہاتھ بیچ لیتے ہیں بلکہ ایک زر کثیر منافع کی صورت میں بھی جیب میں ڈالتے ہیں۔ گیس پریشر تیز کرنے کا آلہ ہو یا اللیگل ٹی وی چینل دکھانے والا سسٹم ہم پراکسی استعمال کرنے کے بھی ماہر ہیں اور ہیکنگ کے بھی۔

خواہ ہمیں تیسری دنیا میں رکھ کر ہمیں استعمال شدہ ٹیکنالوجی سے مستفید کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود کلی طور پر ہمارا تاجر ظاہراً پریشان اور معاشی طور پر خوشحال ہی پایا جاتا ہے۔

ہم میں سے بہت سوں کو ٹریفک قوانین بالکل پسند نہیں ہیں اور انہیں واقعتاً محسوس ہوتا ہے کہ یہ قوانین انکی آزادی سلب کرنے کے لئے تخلیق کئے گئے ہیں۔ ہم ٹریفک پولیس سے بچنے کے نئے نئے طریقہ جات نہ صرف دریافت کرتے ہیں بلکہ انتہائی شد و مد کے ساتھ دوسروں کے ساتھ انتہائی فخر کے ساتھ شیئر بھی کرتے ہیں۔

اس کار خیر میں ہم اکیلے نہیں اترتے بلکہ کسی واجبی واقفیت کے بغیر بھی ہم دوسروں کی امداد کرنا فرض عظیم خیال کرتے ہیں۔ قانون کی گرفت سے بچنے کا فارمولہ بغیر فیس کے صرف ثواب کی نیت سے مفت تقسیم کیا جاتا ہے۔ ہائی وے پر ایک دوسرے کو پولیس سے بچانا ہو یا ایئر پورٹ پر سامان کی آمد و رفت ہم ہر جگہ مل جل کر کام کرنے پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ کسی بھی سرکاری دفتر کے رشوت خور ایماندار افسر کا نمبر ہم کسی درگاہ سے حاصل کردہ تعویز سے بھی زیادہ قیمتی تصور کرتے ہیں اور حکیم کے نسخہ سے بڑھ کر احتیاط سے تقسیم کرتے ہیں۔

ہم محبت میں بہت ایموشنل لوگ ہیں۔ پیار پہلا ہو یا تیرہواں بسا اوقات سچا ہی ہوتا ہے اور سر چڑھ کر ہی بولتا ہے۔

اگر محبوب دھوکہ دے دے تو اس کی خیر نہیں، تیزاب سے لیکر اغواء تک اور قتل سے لیکر خودکشی تک تمام آپشن ہی کھلے ہیں۔

ہم ایک متوازن معاشرہ بنتے جا رہے ہیں جہاں مرد و زن کو مساوی حقوق حاصل ہیں بلکہ اب تو خواجہ سراؤں کو بھی حقوق مل رہے ہیں۔ انکے ملازمتی کوٹہ کا تذکرہ بھی عام ہوتا جا رہا ہے اور تیزی سے وہ اپنا جائز حق معاشرہ میں حاصل کرتے جا رہے ہیں۔

بہت سے پاکستانی ممنوعہ بور کا اسلحہ فقط شوق کی تسکین کے لئے رکھنا پسند کرتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اتنا لائسنسی اسلحہ موجود نہیں ہے جتنا غیر لائسنسی اسلحہ ہمارے گلی کوچوں کا طواف کرتا پھر رہا ہے۔ سیمی آٹو میٹک سے فلی آٹو میٹک تک ہر چیز ہی با آسانی دستیاب ہے۔

جب سے کاؤنٹر ٹیررازم مؤثر ہوا ہے تب سے تو معاملہ کچھ دب سا گیا ہے وگرنہ آپ کو جہاں اسلحہ دستیاب نہ ہوتا وہاں تھانہ میں موجود پولیس افسر آپکی خدمت کے لئے حاضر ہوتا تھا۔

جس شخص پر سب سے زیادہ اعتبار کیا جاتا ہے وہ الیکشن میں ہار جانے والا کونسلر ہے اور جس پر سب سے کم اعتبار ہے وہ جیتنے والا نمائندہ ہے۔

ہم پاکستانی سب ایک سے ہی ہیں۔ ہمارے بارے میں دنیا میں ایک بات یہ بھی مشہور ہے کہ خدا نے بہت سی اقوام بنائیں اور انہیں کنوئیں میں بند کرنے کے بعد فرشتوں کو کہا کہ اوپر ڈھکن دے دو کہ کہیں کوئی باہر نہ نکل آئے لیکن پاکستانی بنانے کے بعد خدا نے فرشتوں کو دئے گئے احکامات واپس لے لئے کیونکہ اگر کوئی پاکستانی کنوئیں سے باہر آنے بھی لگے گا تو یہ خود ہی اسے نیچے کھینچ لیں گے۔ شاید یہ ہی وجہ ہے کہ ملالہ یوسف زئی ہو یا شرمین عبید چنائے جس کسی پاکستانی کو بھی بین الاقوامی طور پر پذیرائی ملے گی وہ فوری طور پر ایک ایجنٹ گردان دیا جائے گا۔

لیکن دوسری طرف ہمیں اگر گالی دینی ہے تو صرف اتنا کہہ دینا ہی کافی ہے کہ میڈ ان انڈیا خرید لو! اور اگر خوشی دینی ہے تو کہیں میڈ ان چائینہ ہے جی۔

چین کی اشیاء کے بارے میں میرا ہمیشہ نظریہ رہا ہے کہ چلے تو چاند تک، نہ چلے تو شام تک، لیکن اس کے باوجود ہم پاکستانی پاک چین دوستی وانگزوئے کی مصداق کسی بھی چینی شے کو برا کہنا گناہ کبیرہ سے کم نہیں سمجھتے کیونکہ وہ دوست ہے اور دوستی نبھانا پاکستانیوں سے بہتر کون جانتا ہے۔

یہ بھی ایک سچ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی پاکستان کے بارے میں تصور کر بیٹھے ہیں کہ پاکستانی کو قیمتاً خریدا جانا انتہائی آسان ہے لیکن جناب پوری دنیا میں جسے جب چاہیں خریدا جا سکتا ہے اور بے چارے پاکستانی بھی تو انسان ہی ہیں۔ مالی منفعت اور لالچ ہر جگہ بستی ہے لیکن ایک بات تو طے ہے کہ قومی سلامتی یا پاکستانیت کی بات جب بھی آئے گی آپ کو میری قوم کے لوگ سب سے زیادہ باوفا نظر آئیں گے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور انگلستان میں ہو یا اسپین میں گورے پاکستان کے بارے میں کچھ کہنے سے پہلے منہ سنبھال ہی لیتے ہیں۔

پاکستانیوں کے بارے میں یہ تاثر انتہائی لغو ہے کہ ہم ٹیکس چور لوگ ہیں۔ میرا تجزیہ کہتا ہے کہ جتنا ٹیکس پاکستانی دیتے ہیں دنیا کے کسی اور ملک کے عوام نہیں دیتے۔

دنیا میں سب سے زیادہ ڈائریکٹ ٹیکس اکاون فیصد سوئٹزرلینڈ کے لوگ دیتے ہیں۔ ڈائریکٹ ٹیکس کی آج تک پاکستانی عوام کو سمجھ ہی نہیں آئی۔ اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حکومت کئی طرح کے انڈائریکٹ ٹیکس وصولتی ہے جن کا حساب کتاب کیا جائے تو عوام کی جیب سے کل کمائی کا ساٹھ فیصد صرف ٹیکس کی مد میں نکل جاتا ہے اور جب ہم حکمران طبقے کو عیاش پاتے ہیں وہ بھی پرائے دھن پر تو سب ایک دوسرے کا چہرہ معصومی، غصہ اور بے بسی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ دیکھتے ہیں۔

دراصل ہم سب ہی بے بس لوگ ہیں اپنی اپنی جگہ وطن کی خاطر مر مٹنے والے مخلص اور محب بے بس لوگ!

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری