ایرانی ادیب کی پاکستانی شاعر کے بارے میں تسنیم سے گفتگو؛

بھیلا؛ گردشِ دوران کا حاصل ؔ

خبر کا کوڈ: 1216137 خدمت: انٹرویو
حبیب حاصل

ایرانی ادیب اور تبصرہ نگار لیلیٰ عبدی نے کہا ہے کہ پاکستانی شاعر حبیب اللہ بھیلا حاصل کے شاعرانہ کلام میں بیک وقت سندھ، ہندوستان، عرب اور عجم کے ادبی اثرات پائے جاتے ہیں۔

 خبر رساں ادارے تسنیم کے نامہ نگار نے ایرانی ادیب لیلیٰ عبدی سے پاکستانی شاعر حبیب حاصل کی شاعری کے بارے میں مکالمہ ترتیب دیا ہے جس کا متن درج ذیل ہے:

وہ بات کر اُتر جائے دل میں اے حاصؔل!     وہ کام کر کہ کسی اور کی مجال نہ ہو!

استاد حبیب نے ہندوستان کی ریاست راجستھان میں جنم لیا اور بچپن میں ہی پاکستان کے سندھ کا رُخ کیا، مختلف عرب ممالک کی سیر کی اور بالاخر ایران میں قیام پذیر ہوگئے۔ انہوں نے دنیا کی سیر کے ساتھ ساتھ  ایران کے اہم اور تاریخی مقامات کا بھی سیر کیا ہے اور مشرقی تہذیب اور ثقافت کی خوشہ چینی کرتے رہے۔ قدرتی بات ہے کہ بیک وقت ایک مصور، شاعر اور موسیقار سے گفتگو یا ملاقات کرنا ہمارے لئے باعث مسرت ہوتا ہے۔ استاد حبیب کی مصوّری جہاں رنگیں فطرت کی عکّاسی کرتی ہے وہاں سادہ درویشانہ زندگی کی مصوّری اور ان دونوں کا سنگم بھی ہے۔

سحر کا وقت ہے چڑیوں کا چہچہا نا دیکھ!         گلوں کی گود میں شبنم کا بیٹھ جانا دیکھ!
قدم قدم پہ نسیمِ سحر ہے جلوہ  فروز              ہر ایک شاخ پہ بُلبُل کا گنُگنُانا دیکھ!

ان کی شاعری میں بیک وقت ہندوستان، سِندھ، عرب اور عجم کے ادبی اثرات پائے جاتے ہیں۔ ان کے اشعارمیں "ساون کا مہینہ" کی توصیف اور ہندی الفاظ کلجک، جیون، پاپ، ساگر، دیپک، پریت وغیرہ بھی ملتے ہیں۔ ان کی مناظراتی نظمیں ہمیں دور لے جا کر "شکنتلا " کے ڈرامائی لب و لہجہ سے ملاتی ہیں۔ بلبل اور گل، شمع اور پروانہ، لالہ اور مُغیلاں، زاغ اور کَرکَس (کفتار)، فاختہ اور مُرغ سحر کے عنوانات سے داستانیں استاد حبیب کے کلیات کو مزید رونق بخشتی ہیں۔

جہاں وہ اپنے اشعار میں خود اورخودی پر بات کرتے ہیں وہیں  ہمیں علامہ اقبال کا فلسفیانہ سبق بھی سکھاتے ہیں؛

بیٹھے کب تک رہیں تقدیر کی امید پہ ہم             خود ہی ہم ڈھونڈنے جائیں گے

              ٭٭٭
دانا ہے تو خود، اپنی ہی فطرت سے اٹھا فیض            پوشیدہ ہیں فن سینکڑوں انسان کی فطرت میں

استاد حبیب کےجن اشعارمیں پیار کی باتیں ہوتی ہیں وہ بھٹائی سائیںؒ کا آفاقی پیغام یاد دلاتے ہیں۔

حاصل نہالِ عشق لگا اپنے کھیت میں           یہ بوٹا لگ گیا تو ہمیشہ ہی دے گا پھل

محترم استاد حبیب حاصل صاحب سالوں سے ایران کے شہر مشہد مقدّس میں رہائش پذیر ہیں۔ ان کے اشعار میں فارسی شاعری کی مٹھاس جگہ جگہ ملتی ہیں۔ انھوں نے اپنے کلام میں فارسی ترکیبات کو بڑے سلیقے سے استعمال کیا ہے۔ ان کی شاعری میں فرصت پرواز، داغ تمنّا، ہفت اِقلیم، پیچ و تاب، لمحاتِ دلپذیر، کشمکشِ زیست، تابشِ خورشید، ذوقِ بلند پروازی، موجِ سرکش جیسی فارسی اصطلاحات بھی شامل ہیں۔

رسم ہے اِس ہاتھ دے اُس ہاتھ لے!              کر بھلا تیرا بھی تاکہ ہو بھلا!
(اس ہاتھ سے دینا اس ہاتھ سے لینا؛ از این دست دادن و از آن دَست گِرِفتَن )

حاصؔل کسی کے زخم پر ہرگز نمک نپاش    انساں کے کام آتا نہیں ہے بُرا عمل
(کسی کے زخم پرنمک چھڑکنا: بہ زخم ِ کسی نمک پاشیدَن)

ان کی نظم میرا گاؤں بھیلا حاصل کی جنم بھومی کی پُرانی یادیں تازہ کرتی ہے اورہمیں بھی غالب کا یہ شعر یاد دلاتی ہے۔

گو میں رہا رہین ستم ہائے روزگار               لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا

ان کی یہ نظم جہاں بڑوں کو اپنی بچپن کی یاد دلاتی ہے وہاں ایران والوں کو گلچین گیلانی کی مشہور نظم "باران"  :"باز باران با تَرانہ می خورَد بَر بام خانہ ..." بھی یاد دلاتی ہے۔

ان کی شاعری میں زندگی ایک دشت ِعبرت ہے جہاں دور سے پانی نظر آتا ہے لیکن درحقیقت ہے سراب"،اسی طرح دُنیا کبھی گلشن اور کبھی خاک داں ہے۔ الغرض جو بھی ہے جلوہ گاہِ رمز و راز ہے یہ جہانِ رنگ و بو ہے۔ جس کا بھید یہ ہے کہ اس میں متضاد اشیاء انتہائی حیرت کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ رہتی ہیں۔ پھول اور کانٹا، دکھ اور سکھ اور اہلِ نظر کائنات کے اسرار سمجھتے ہیں۔ "نظر وہ کیا کہ جو سمجھے نہ رازِ پنہاں کو"۔

استاد کے شعری اسلوب میں وسعت مضامین پائی جاتی ہے۔ ناامیدی (جسے جُرم کہتے ہیں)، صبر (جسے محنت کا رنگ بولتے ہیں)، زندگی کوشش کرنا (ورنہ، اِس سنسار سے جائے گا ناداں اشکبار)، فرزانگی، خرد، حُسن اور شباب کی ناپائداری، انکساری وغیرہ۔ استاد گرامی کی آپ بیتی سنتے ہوئے قارئین کو کبھی یہ بات عجیب نہیں لگتی کہ ان کا اندازِ بیان نصیحت آمیز ہے۔ جہاں دیدہ شخص جنہوں نے زندگی کے بہت سے اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں وہ ضرور کہیں گے، ہزاروں داستاں ہیں میرے من میں، میری بات سن! مخزنِ راز ہوں اور وہ اپنے گراں بہا تجربات شعر میں شامل کریں گے۔

مت کسی کے دل سے بازی کیجئے!            ہو سکے تو، دل نوازی کیجئے! 
سب کو گُلشن جس طرح رکھتا ہے شاد             آپ بھی عالم کو راضی کیجئے!

            ٭٭٭
فُروتَن رہے آدمی، دَہر میں                   کٹے زندگانی سبھی خیر میں
نہ پھن سانپ کی طرح اوپر، اٹھا!            کہیں ڈوب جائے نہ تو، زہر میں!


"کچھ اپنے بارے میں" کی مثنوی کو منظوم خود نوشت کہہ سکتے ہیں۔ گو، اس میں بیتی زندگی کی تفصیلات شامل نہیں، تاہم زندگی کا نچوڑ پایا جاتا ہے اوران کے تجربات، خام جوانوں کے لیے ایک مشعل راہ ہے؛

ہمّت بلند نے مجھے مرنے نہیں دیا               ظُلمت میں روشنی کو بُلا ہی لیا ہے میں نے

ہر اک شکستہ دل کو سہارا دیا ہے میں نے            زخموں کو اپنے آپ ہی یارب سِیا ہے میں نے

محترم استاد ایک شعر میں کہتے ہیں، خاک چھانی ہے درِ پیر مُغاں کی برسوں۔۔۔   گویا وہ ہمیں یقین دلاتے ہیں کہ حضرت بھٹائیؒ کےصوفیانہ اثرات ان کے کلام میں ملتے ہیں۔

سرفرازی کی اگر ہے آرزو حاصؔل تجھے             جا کسی بھی دل جلے  درویش کی چوکھٹ کو تھام

  ٭٭٭
نہ ہوگی سرفراز وہ زندگی            کہ جس زندگی میں نہ ہو بندگی

ان کے شعروں کا لُطف یہ ہے کہ ہر عام و خاص ان سے محظوظ ہو سکتے ہیں۔ اس کے لئے شعری صنائع و بدائع جاننے کی ضرورت نہیں۔ ان اشعار کا ملاحظہ کریں استاد حبیب کس طرح سادہ اور پُر لطف انداز میں صنعت ِ تشبیہ سے کام لیتے ہیں؛

نیکی کا پیڑ سوکتا ہر گز کبھی نھیں                 دیکھی ہے آگ پانی میں لگتے ہوئے کہیں 
سر سبز و شاد، خُرّم و دلکش ہے اِس لئے                سب کو گلے سے اپنے لگاتی ہے یہ زمیں
      
  ٭٭٭
کھیت جیسے منتظر رہتا ہے پانی کے لیے                یوں ترستا ہوں میں تیری مہربانی کے لیے

اہل ذوق و ہنر کے لیے یہ خوش خبری ہے کہ محترم استاد حبیب حاصل صاحب کا پہلا شاعرانہ کلام "پروازِ فکر" منظر عام پر آنے والا ہے۔ یہ مجموعہ غزلیات، دوبیتی، مثنوی اور مسمط، تک بیتیاں اور اَقوال زرّیں پرمشتمل ہے اور قارئین کی سہولت کو مد نظر رکھتے ہوئے مشکل الفاظ کی لغت کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ خاکسار بھی استادِ گرامی کا طبعِ سلیم احترام کرتے ہوئے ان سے منکسرانہ گزارش کرتی ہوں کہ معاصر فارسی کے معروف اشعار کا منظوم اردو ترجمہ کریں۔

مضمون کے اختتام میں مشہد مقدّس کے قابل احترام قونصل جنرل پاکستان جناب یاورعباس صاحب کی عنایتوں کی سپاسگزار ہوں جنھوں نے ہنری اور ادبی اقدار کی قدردانی کی اور استاد حبیب کے شاعرانہ کلام کی اشاعت میں تعاون کر رہے ہیں۔

تبصرہ نگار: ڈاکٹر لیلیٰ عبدی خُجستہ
پی ایچ ڈی اردو۔ سندھ یونیورسٹی پاکستان

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری