3 ہزار سے زائد زائرین تفتان سرحد پر 3 دن سے محصور

خبر کا کوڈ: 1216543 خدمت: پاکستان
تافتان

کئی دنوں سے خواتین اور بچوں سمیت تفتان میں پھنسے زائرین حکومت کی نااہلی کی سزا پا رہے ہیں۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق، حکومت ایران اور عراق سے وطن لوٹنے والے زائرین کو پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی عدم دستیابی پر تفتان سرحد پر روک لیا گیا ہے اور 3 روز گزر جانے کے باوجود زائرین کو سیکیورٹی فراہم نہیں کی جا سکی ہے۔

شیعیت نیوز نے اطلاع دی ہے کہ ایران سے منسلک پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سرحدی علاقے تفتان میں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر 3 ہزار زائرین پھنس گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق، تفتان میں زائرین گذشتہ تین روز سے بے یار و مددگار اپنے گھروں کو واپسی کے شدت سے منتظر ہیں، جنہیں کھانے اور صاف پانی کی کمی کے علاوہ دیگر بنیادی ضروریات کی کمی کا بھی سامنا ہے۔

ذرائع کے مطابق، زائرین عراق اور ایران سے واپس کوئٹہ آ رہے تھے کہ ان کی بسیں تفتان کے علاقے سے پاکستان میں داخل ہوئیں جہاں سکیورٹی نہ ہونے کی وجہ سے انھیں پاکستان ہاؤس میں ہی روک لیا گیا۔

زائرین عاشورہ محرم میں شامل ہونے کیلئے عراق گئے تھے، جن میں بیشتر خواتین اور بچے شامل ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ سالوں میں زائرین کی بسوں پر ہونے والے حملوں کی وجہ سے انہیں مذکورہ مقام پر سکیورٹی فورسز کے آنے کا انتظار کرنا پڑتا ہے، جو 3 روز گذر جانے کے باوجود فراہم نہیں کی جا سکی ہے۔

تفتان میں پھنسے واپسی کے منتظر زائرین میں سے ایک محمد صادق کا کہنا تھا کہ جہاں ہم موجود ہیں یہاں انتظامیہ نے نہ تو صاف پانی کا انتظام کیا ہے اور نہ ہی کھانے کا جبکہ زائرین کے پاس جو کھانا تھا وہ بھی ختم ہو چکا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ خواتین اور بچے کھلے آسمان کے نیچے سخت سردی میں 3 راتیں گزار چکے ہیں، جنھیں حکومتی توجہ کی فوری ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ ان پھنسے ہوئے زائرین کو بنیادی ضروریات بھی حاصل نہیں۔

یاد رہے کہ تفتان میں پھنسے ہوئے زائرین کو مذکورہ پاکستان ہاؤس کی عمارت میں رکنے کیلئے یومیہ رقم ادا کرنا ہوتی ہے لیکن متعدد زائرین نے انتطامیہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ان کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اضافی رقم وصول کر رہے ہیں۔

دوسری طرف ایک سکیورٹی عہدیدار نے ذرائع کو بتایا کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر زائرین پاکستان ہاؤس میں رکے ہیں اور ان کو جلد از جلد کوئٹہ منتقل کر دیا جائے گا۔

پاک ایران سرحد پر پھنسے ہوئے زائرین نے حکومت سے پردرد اپیل کی ہے کہ ان کیلئے جلد از جلد امداد کا انتظام کیا جائے تاکہ وہ اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔

یاد رہے کہ پچھلے ماہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے بانی رہنما اور سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے تفتان سرحد پر مشکلات میں گھرے زائرین کے ہمراہ رات گذاری تھی اور سرحد پر موجود متعلقہ افسران سے ملاقات کر کے زائرین کے مسائل کو حل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری