پاکستان اسٹیل مل کو بند ہوئے ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا/170 ارب روپے واجب الادا

خبر کا کوڈ: 1217018 خدمت: پاکستان
پاکستان سٹیل مل

وفاقی سیکرٹری وزارت صنعت و پیداوار خضر حیات گوندل نے پبلک اکاونٹس کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا ادارہ پاکستان سٹیل مل دس جون 2015 سے مکمل بند ہو گیا ہے جس کے ذمے 170 ارب روپے رقم واجب الادا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق، پبلک اکاونٹس کمیٹی کا کہنا ہے کہ سٹیل مل قومی ادارہ ہے حکومت اس کی بحالی کے لیے اقدامات کرے۔

قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کی صدارت میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین خورشید شاہ نے کہا کہ جون 2016 سے سٹیل ملز کراچی بند ہے۔

وفاقی سیکرٹری وزارت صنعت و پیداوار خضر حیات گوندل نے پبلک اکاونٹس کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا ادارہ پاکستان اسٹیل مل دس جون 2015 سے مکمل بند ہو گیا ہے جس کے ذمے 170 ارب روپے رقم واجب الادا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسٹیل ملز کی زمین، ملز سے زیادہ قیمتی ہے۔

پی اے سی ممبر اور سینئر سیاستدان محمود خان اچکزئی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے  کہا کہ قبضہ مافیا سے زمین بچائی جائے۔ قومی اداروں کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے والوں کا احتساب ہونا چاہیے۔

چیئرمین پی اے سی خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں اسٹیل کی گرتی ہوئی قیمت کی وجہ سے اسٹیل ملز خسارے میں چلی گئی ہے۔

 بحث کو جاری رکھتے ہوئے سیکرٹری انڈسٹریز نے مزید کہا کہ سندھ کی صوبائی حکومت نے اسٹیل مل خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

خورشید شاہ نے اجلاس کے دوران بتایا کہ اسٹیل مل کی گیس کاٹ دی گئ ہے، اسٹیل مل سے زیادہ اس کی ملکیتی اراضی ہے جس کی کل مالیت دو سو ارب تک ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری