عراقی عوام زائرین کے خدام اور حشد الشعبی انکے محافظ ہیں/ عراق کی سرزمین دو ماہ میں داعش کے ناسور سے پاک ہو جائیگی


پاکستان میں عراقی قونصل جنرل نے داعش کی نابودی کو دو ماہ کے اندر اندر یقینی قرار دیا اور کہا ہے کہ حشد شعبی نے اربعین حسینی کے موقع پر زائرین کے تحفظ کو ایک چیلیج کے طور پر قبول کیا ہے جبکہ عوام ان کے خدام کی طرح ہوتے ہیں۔ پاکستانی زائرین کی سہولت کے لئے نجف - کراچی اور بغداد - اسلام آباد نئی فلائٹس چلائی جائیں گی۔

خبررساں ادارے تسنیم کے نمائندے نے اسلام آباد میں تعینات عراقی قونصلر جنرل سے ایک اہم مکالمہ ترتیب دیا ہے جسے قارئیں و صارفین کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے:

تسنیم نیوز: اربعین حسینی جس کا شمار تاریخ کے بڑے اور پرامن اجتماعات میں ہوتا ہے، اس سال اس موقع پر کیا خصوصی انتظامات کئے جارہے ہیں؟

مکی عبداللہ ریسان المعموری: سب سے پہلے آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں، بالکل آپ نے درست کہا کہ اربعین حسینی کا اجتماع ایک بہت بڑا اجتماع ہوتا ہے، عراقی حکومت، عوام اور پرائیویٹ سیکٹر مل کر اس موقع پر بھرپور کوشش کرتے ہیں کہ زائرین کو مختلف سہولیات فراہم کریں۔ اس موقع پر عراق کے عوام زائرین امام حسین علیہ السلام کے خدام کی طرح ہوتے ہیں، اربعین حسینی کے موقع پر عراق جانے والے جانتے ہیں کہ اس دوران وہاں عوام اپنی خدمات زائرین کو کسی معاوضے کے بغیر پیش کرتے ہیں اور انہیں ہر طرح کی سہولیات مہیا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ملکوں کی تاریخ میں ایسا کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ یہ عراق ہی ہے جہاں امام حسین علیہ السلام کے فیض سے یہ عظیم کام انجام پاتا ہے حالانکہ دیگر ممالک ایسے مواقع سے فائدے اٹھاتے ہیں۔

تسنیم نیوز: عراق میں ظالم ڈکٹیٹر صدام کے دور حکومت میں اربعین حسینی پر پابندی لگائی گئی تھی، اس حوالے سے بتائیے؟

مکی عبداللہ ریسان المعموری: بالکل! صدام کے دور میں عراقی عوام پر بہت مظالم ڈھائے گئے۔ اس نے کوشش کی کہ عراقی عوام کو اربعین حسینی منانے سے روکا جا سکے لیکن وہ ناکام رہا۔ اس نے درپردہ اس کام کے لئے کوششیں کیں لیکن عراقی عوام امام حسین علیہ السلام کے در پر حاضر ہوتے رہے۔ اس کے لئے انہوں نے سختیاں برداشت کیں اس لئے کہ وہ امام حسین علیہ السلام سے دلی لگاؤ رکھتے ہیں۔ صدام کے ادوار میں لوگوں کو قتل کیا گیا، زندانوں میں ڈالا گیا، لیکن ان تمام مظالم کے باوجود صدام اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکا، اور زائرین امام حسین علیہ السلام کو نہ روک سکا، چونکہ ان زوار کے یہاں آنے میں خدا کی رضا شامل ہے اور امام حسین علیہ السلام کی خوشنودی سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خوشنودی ہے۔

صدام کے خلاف اٹھنے والے انقلاب شعبانیہ کے دوران ملک کے عوام نے اس کے تختہ الٹنے میں اہم کردار ادا کیا، اور صدام سے چھٹکارا حاصل کیا۔ اب زائرین زیارات مقدسہ پر حاضری زور و شور سے جاری و ساری ہیں۔ اگرچہ اس سخت ترین دور میں بھی زیارات جاری رہیں تاہم اب تو صدامی دور ختم ہو چکا اور امام حسین علیہ السلام کے زوار ہر سال بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ یہ عوام میں بیداری کی لہر ہے، اور اس سال بھی ہم گزشتہ سالوں سے بڑھ کر زائرین کی آمد کے منتظر ہیں۔ انشاء اللہ عراقی حکومت، عوام اور سب مل کر دل و جان سے زائرین امام حسین علیہ السلام کی خدمت کریں گے۔ زائرین کو خوراک، آمد و رفت اور ہر چیز میں سہولت فراہم کی جائے گی۔ آپ کیسے تصور کر سکتے ہیں کہ بیس سے پچیس ملین لوگ مہمان ہوں اور ان کے لئے خوراک اور دوسرے انتظامات بطریق احسن ہو جائیں اور یہ سب معاوضے کے بغیر ہو۔ یہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور امام حسین علیہ السلام کی برکات سے ممکن ہوتا ہے۔

تسنیم نیوز: ہم دیکھتے ہیں کہ اربعین حسینی کے موقع پر تمام قافلوں کا رخ کربلا کی جانب ہوتا ہے، مختلف شہروں اور سرحدی علاقوں مثلا بصرہ سے لوگ پیدل سفر کرکے کربلا آ رہے ہوتے ہیں، اس موقع پر زائرین کے تحفظ کے لئے کیا اقدامات اٹھائے جائیں گے؟

مکی عبداللہ ریسان المعموری: بصرہ سے کربلا تک کا فاصلہ تقریبا پانچ سو پچاس کلومیڑ سے زیادہ ہے، یہ ایک لمبا اور طویل راستہ ہے جو زائرین پیدل طے کرتے ہیں، لیکن ان زائرین کے تحفظ کے لئے حکومت اور خصوصاً حشد شعبی ہر دم تیار ہیں، حشد شعبی اربعین حسینی کے موقع پر زائرین کے تحفظ کو ایک چیلیج کے طور پر قبول کر چکی ہے، اور اللہ کا کرم ہے کہ یہ تمام علاقہ محفوظ ہے، عراقی حکومت اور عوام بغیر کسی خوف اور خطرے کے زائرین کے تحفظ کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔

تسنیم نیوز: گزشتہ سالوں سے اس بات کا مشاہدہ کیا جارہا ہے کہ ہر سال اربعین حسینی کے موقع پر زائرین کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے، اس سال زائرین کی کیا تعداد متوقع ہے؟

مکی عبداللہ ریسان المعموری: یہ بات بالکل درست ہے کہ ہر سال اربعین کے موقع پر زائرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، یہ تعداد اس سال انشاء اللہ پچیس ملین سے زیادہ ہوگی۔ یہ تعداد پہلے دن نہیں ہو گی، تقریبا دس دنوں میں یہ تعداد بنے گی۔

تسنیم نیوز: پاکستان کے چند دوسرے شہروں خصوصاً کراچی میں عراقی سفارتخانہ کھولنے کی سخت ضرورت محسوس کی جارہی ہے تاکہ زائرین کو زیادہ سے زیادہ سہولیات مہیا کی جا سکیں۔ کیا مستقبل قریب میں ایسا کوئی منصوبہ قابل غور ہے؟

مکی عبداللہ ریسان المعموری: جی یہ بات بھی بالکل درست ہے کہ کراچی میں عراقی سفارتخانہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، لیکن بدقسمتی سے عراق کے اندرونی حالات اس بات کی اجازت نہیں دے رہے، حالانکہ کراچی میں عراقی سفارتخانے کے لئے عراق کی جگہ بھی موجود ہے۔ کراچی میں موجود سفارتخانہ 1990 میں بند کیا گیا تھا۔ میرے خیال میں اسلام آباد میں موجود سفارتخانہ زائرین کی ویزا ضروریات کو پورا کر رہا ہے۔ مستقبل میں کراچی میں سفارتخانہ کھولا جائے گا چونکہ کراچی پاکستان کا معاشی حوالے سے اہم ترین شہر ہے۔

تسنیم نیوز: زائرین امام حسین علیہ السلام کی بڑی تعداد مالی حوالے سے خاصی کمزور ہوتی ہے، بعض اوقات وہ اپنے گھر بیچ کر زیارات کے لئے جاتے ہیں، ان زائرین کو سستے داموں سفر زیارت کے لئے کراچی سے بصرہ سمندر کے راستے فیری سروس کا آئیڈیا کیسا ہے؟

مکی عبداللہ ریسان المعموری: زبردست! یہ آئیڈیا بہت ہی اچھا ہے۔ غریب خاندانوں کو سفر زیارات میں سہولت دینے کے لئے سمندری سفر ایک سستا اور آسان حل ہے۔ نہ صرف فیری سروس بلکہ اب عراقی حکومت نئے ہوائی روٹس کے لئے بھی کوشاں ہے۔ نجف کراچی اور بغداد اسلام آباد نئی فلائٹس چلائی جائیں گی۔ اس سلسلے میں سول ایوی ایشن عراق کام کر رہی ہے اس پر تھوڑا وقت لگ سکتا ہے۔ فیری سروس کے آئیڈیا کی مکمل تائید کرتے ہیں۔

تسنیم نیوز: کیا کراچی بصرہ فیری سروس پر اس سے قبل کوئی پیپر ورک ہوا ہے؟

مکی عبداللہ ریسان المعموری: آپ نے فیری سروس منصوبہ کا بہترین آئیڈیا پہلی دفعہ دیا، اس پر اس سے قبل آج تک کوئی بات نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی پیپر ورک ہوا ہے۔ ہم اس منصوبے کے لئے تیار ہیں۔ کوئی کمپنی اگر اس سلسلے میں کام کرنا چاہتی ہے تو ہم سے رابطہ کرے ہم مکمل تعاون کریں گے۔

تسنیم نیوز: ٹریول ایجنسٹس کی زیادتیوں کو کنٹرول کرنے کے لئے کیا کوئی چیک اینڈ بیلنس سسٹم متعارف کرایا جا سکتا ہے؟

مکی عبداللہ ریسان المعموری: یہ ایک بہترین سوال ہے، ہم نے بھی نوٹ کیا ہے کہ زائرین کو مشکلات پیش آرہی ہیں، اس سلسلہ میں عراقی ایمبیسی زیادہ سے زیادہ پرائیویٹ سیکٹر کمپنیوں کو موقع دے رہی ہے تاکہ مقابلے کی فضا پیدا ہو سکے اور بہتر سہولیات زائرین کو مہیا ہوں، اس وقت دس کمپیناں کام کر رہی ہیں، جن کے ماتحت مزید کمپیناں ہیں۔ اس کے باوجود ہم مزید  کمپنیوں کو بھی میدان میں لانا چاہتے ہیں تاکہ بہترین سہولیات مہیا کی جا سکیں۔

تسنیم نیوز: عراق میں کسی زائر کے بیمار ہونے یا خدانخواستہ انتقال کر جانے کی صورت میں کسی رشتہ دار کو فی الفور عراق جانا پڑتا ہے، کیا کوئی ایسا نظام وضع کیا گیا ہے جس کے تحت فوری ویزا کی فراہمی ممکن ہو سکے؟

مکی عبداللہ ریسان المعموری: جیسا کہ آپ پاکستان کے حالات سے واقف ہیں، یہاں دہشت گردی کے خطرات منڈلاتے رہتے ہیں۔ پھر کئی دہشت گرد گروہ بھی یہاں متحرک ہیں، تو ہمیں ویزا دیتے وقت بہت محتاط ہونا پڑتا ہے، لیکن جہاں تک آپ کے سوال کا تعلق ہے تو یہ خالصتا انسانی معاملہ ہے، اس سلسلہ میں ہم بھرپور مدد کرتے ہیں، ایک دن پہلے کی ہی بات ہے کہ عراق میں ایک زائر انتقال کر گئے تھے ہم نے ان کے رشتہ داروں کو فوری ویزا فراہم کیا، تو آپ کے سوال میں بیان کی گئی صورتحال پر ایک دن قبل ہی عمل ہو چکا ہے۔

تسنیم نیوز: اگلا سوال پاک عراق تجارتی تعلقات سے متعلق ہے، کیا اس سلسلے میں مختلف ایکسپوز، تجارتی وفود کا تبادلہ، کانفرنسز وغیرہ کرائے جارہے ہیں؟

مکی عبداللہ ریسان المعموری:  جی ہاں! یہ بھی ایک انتہائی اہم سوال ہے، اس سلسلے میں عراقی ایمبیسی کام کر رہی ہے، عراق میں اس حوالے سے ایک کمیٹی آف انویسٹمنٹ کام کر رہی ہے، جس نے پاک عراق تجارتی سرگرمیوں کو بڑھانے اور دنوں ممالک کے سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لئے کئی منصوبوں پر کام جاری رکھا ہوا ہے۔ اس سلسلہ میں چیمبر آف اسلام آباد اور کراچی کے ساتھ بھی تبادلہ خیال جاری ہے۔ عراق اور پاکستان کے مابین تعلق ایک خاندان جیسا ہے، اور دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کے ساتھ برادرانہ رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ عراق میں پاکستانی عوام کے لئے بہت سے مواقع موجود ہیں، عراق پاکستانی کمپنیوں پر زور دیتا ہے کہ وہ اپنے برادر ملک میں آئیں۔ ہم اس سلسلے میں ہر طرح کی معاونت اور ویزا دینے کے سلسلے میں مکمل سہولت فراہم کریں گے۔

تسنیم نیوز: یہ سوال عوامی شکایات کی بنیاد پر ہے کہ اربعین حسینی کے موقع پر ایئرپورٹس پر کافی رش ہوتا ہے، اس دوران نجف ایئرپورٹ پر ویزا لگایا جاتا ہے، اس سٹیمپ لگانے کے عمل کو بہتر بنایا جائے تاکہ زائرین کا قیمتی وقت ضائع ہونے سے بچایا جا سکے؟

مکی عبداللہ ریسان المعموری: اس سلسلہ میں عراقی وزیراعظم کی زیر نگرانی مختلف وزارتیں جن میں وزارت سیاحت اور وزارت خارجہ کام کر رہی ہیں، اربعین کے موقع پر چونکہ رش انتہائی زیادہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے تھوڑی تاخیر ہوتی ہے اسے بہتر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

تسنیم نیوز: اربعین کے موقع پر ٹرانسپورٹ کے بہتر سسٹم کے لئے کیا اقدامات کئے گئے ہیں؟

مکی عبداللہ ریسان المعموری: آپ کا یہ سوال خاص طور پر عراق کی منسٹری آف ٹرانسپورٹ کے لئے ہے، آپ جانتے ہیں کہ اربعین پر لاکھوں لوگ عراق کا رخ کرتے ہیں لیکن ہماری کوشش ہوتی ہے کہ انہیں ٹرانسپورٹ کی بہترین سہولیات مہیا کی جائیں۔

تسنیم نیوز: اب تک داعش کے ناسور سے کون کون سے عراقی علاقے پاک کئے جا سکے ہیں؟

مکی عبداللہ ریسان المعموری: الحمد للہ عراقی افواج نے اپنی سرزمین کا بھرپور تحفظ کیا ہے، چپے چپے کا تحفظ کیا جارہا ہے، صوبہ صلاح الدین، الرمادی، الانبار کے بعد گزشتہ روز سے موصل میں بھرپور آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ انشاء اللہ حتمی ہوگا اور ہم داعش کو شکست فاش سے دوچار کریں گے۔ اور انشاء اللہ عراق ایک دو ماہ میں داعش کے ناسور سے مکمل طور پر پاک ہو جائے گا۔

تسنیم نیوز: ترکی کی جانب سے اپنے ہمسایہ برادر ملک کے ساتھ استعمال کی جانے والی زبان ملکوں کی تاریخ میں نئی معلوم ہوتی ہے، اسے اس قدر اتھارٹی کس نے دی ہے؟

مکی عبداللہ ریسان المعموری: ہمیں معلوم نہیں کہ ترکی کو اس قدر جرات کیسے ہوئی، لیکن عراقی وزیراعظم نے ترکی کے اس مطالبے (موصل میں ترک افواج کی موجودگی) کو یکسر مسترد کیا ہے، عراق کی پارلیمنٹ میں سنی شیعہ اور کرد تمام موجود ہیں، ان سب نے ترکی کے اس مطالبے کی مذمت کی ہے۔ ہم اپنے دوست ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک ترکی سے بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں۔ عراق اور ترکی کے مابین تاریخی تعلقات موجود رہے ہیں جن کا ہم پاس رکھتے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ترکی اپنے اس فیصلے پر نظرثانی کرے گا۔

تسنیم نیوز: آخر میں پاکستان کے عوام کے لئے کیا پیغام دینا چاہیں گے؟

مکی عبداللہ ریسان المعموری: پاکستان اور عراق کے عوام ثقافتی اور مذہبی رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں، کئی مشترکات ان کے درمیان پائی جاتی ہیں، میرے پاکستان میں چار سال ہو چکے ہیں، یہاں مختلف پاکستانی لوگوں کے ساتھ ملنے کا موقع ملا، میں نے انہیں اپنے ہم وطنوں جیسا پایا ہے۔ مہربان، شفیق اور محبت کرنے والے۔ ہمارا پیغام یہ ہے کہ عراق اور پاکستان دو اہم برادر ممالک ہیں، جسطرح کہ امام علی علیہ السلام نے فرمایا کہ مسلمان دو طرح کے رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں، ایک یہ کہ ان کے درمیان دینی اور ایمانی رشتہ قائم ہے اور دوسرا انسانیت کا رشتہ ہے۔ دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کو دل سے چاہتے ہیں، اور ایک دوسرے کے لئے بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں۔