لبنانی عدلیہ کے جج کا پاکستان میں جمعہ خطبہ سے خطاب/ تصویری رپورٹ

امت مسلمہ کے مبلغین کو نرم مزاجی اور خلق عظیم جیسی صفات کو اپنانے کی اشد ضرورت

خبر کا کوڈ: 1218543 خدمت: اسلامی بیداری
لبنانی عدلیہ کے جج

لبنان کی عدلیہ کے جج کا پاکستان میں جمعہ کے خطبے سے خطاب کے دوران کہنا تھا کہ دور حاضر میں امت مسلمہ کے مبلغین کو دو اہم صفات نرم مزاجی، شفقت اور خلق عظیم سے مزین ہونا چاہئیں۔

خبررساں ادارے تسنیم کی رپورٹ کے مطابق، لبنان سے تعلق رکھنے والے عدلیہ کے جج شیخ ڈاکٹر اسامہ الرفاعی نے اسلام آباد کی ایک مسجد میں جمعہ کے خطبہ کے دوران کہا کہ دور حاضر میں امت مسلمہ کے مبلغین حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سیرت سے رحمت، نرمی، شفقت اور تکریم کا جذبہ اپنائیں۔

لبنان کی عدلیہ کے جج اور وہاں کے معروف عالم دین ڈاکٹر شیخ اسامہ الرفاعی ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہیں، اس دوران جمعہ کو انہوں نے اسلام آباد کی ایک مسجد میں خطبہ جمعہ دیا اور بعد ازاں اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی میں طلباء سے اہم خطاب بھی کیا۔

انہوں نے کہا کہ فتح مکہ کے موقع پر سرکار دو عالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دشمنوں کے ساتھ مثالی سلوک کیا۔

اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دو عظیم صفات سے نوازا، ایک یہ کہ آپ رحمت العالمین ہیں، اور دوسرا خلق عظیم ہیں۔ ان دونوں صفات کی امت مسلمہ کو اشد ضرورت ہے۔ عام مسلمانوں کو اور خاص طور پر علماء حضرات اور مبلغین اسلام کو۔

ان کا کہنا تھا کہ ان دو صفات سے متصف ہونا چاہیے۔ رحمت یہ سکھاتی ہے کہ آپ لوگوں کے ساتھ نرمی، اچھے رویے اور تکریم اور عزت کے ساتھ پیش آئیں۔ مثال کے طور پر کفار نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بے انتہا ظلم و ستم کئے۔ فتح مکہ کے دن جب مکہ فتح کرکے داخل ہوئے تو کفار سے پوچھا کہ بتاؤ کہ میں آج آپ کے ساتھ کیا کرنے والا ہوں۔ تو سب نے یک زبان ہو کر کہا، آپ کریم ہیں، کریم باپ کے بیٹے ہیں، آپ کے بھائی بھی کریم ہیں۔ آپ کا خاندان کریم ہے، اس لئے ہم آپ سے کرم کی ہی توقع رکھتے ہیں۔ اس پر سرکار ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ میں نے آپ سب کو معاف کیا۔

دوسرا خلق حسنہ پرعمل پیرا ہونے کی اشد ضرورت ہے۔ اس موقع پر شیخ نے عباد الرحمان کی خوبیاں بیان کیں کہ  وہ زمین پر نرمی اور آہستگی سے چلتے ہیں اور وہ لڑائی جھگڑا نہیں کرتے بلکہ سلام کرکے جاہلوں کے پاس سے آگے گزر جاتے ہیں۔ تو دو صفات کی امت محمدیہ کو اشد ضرورت ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری