بغداد میں منعقدہ اسلامی بیداری اجلاس سے تسنیم کی رپورٹ/

شیعہ اور سنی اتحاد کے ذریعے سے تکفیری لہر کے خلاف جنگ پر تاکید

خبر کا کوڈ: 1219787 خدمت: اسلامی بیداری
اجلاس B

اسلامی بیداری کی سپریم کونسل کے نویں اجلاس میں ممتاز مسلمان علماء اور شخصیات نے جہان اسلام اور خطے کی اہم مشکلات پر غور کیا۔

خبررساں ادارے تسنیم کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق، افغانستان کے جلیل القدر عالم آیت الله آصف محسنی نے اسلامی بیداری کی سپریم کونسل کے اجلاس میں مسلم اقوام کے درمیان اتحاد پر زور دیتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلامی بیداری قرآنی تعلیمات کی بنیادوں پر قائم ہے کیونکہ مختلف قومیتوں اور نسلی گروہوں کو آیہ قرآن "ان اکرمکم عندالله اتقیکم" کی بنیاد پر برابر سمجھتی ہے۔

آیت الله آصف محسنی نے مزید کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اسلامی بیداری کو سب سے پہلے تمام مذاہب کے درمیان اسلامی اخوت کی شکل میں متجلی ہونا چاہئے اور سب سے پہلے اسی چیز کو اس سربراہی اجلاس کے اسٹریٹجک مقاصد میں سے ایک ہونا چاہئے۔

اس افتتاحی سیشن کے دوسرے مقرر مصر کے جید عالم دین تاج الدین هلالی تھے۔

انہوں نے تکفیریوں کی نوعیت اور ان کے ایمان کی جھوٹی بنیادوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تکفیری ہم شیعہ اور سنی میں سے کسی کی مسلمانی کو تسلیم نہیں کرتے لیکن اس منحوس تکفیری لہر کے مذہب میں سنیوں اور شیعوں کی طرف سے ایسی چیزیں داخل ہو گئی ہیں جو دونوں مذاہب کے علماء میں سے کوئی بھی قبول نہیں کرتا جو صرف اور صرف ان کے مقاصد کے لئے بہانہ بن گئی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سنیوں اور شیعوں کو ان توہمات اور خرافات کو اپنے سے دور رکھنا چاہئے، مثلا یہ کہ اگر کسی نے زنجیر زنی نہ کی تو مسلمان نہیں ہے۔

اسی طرح اپنے پڑوسی کی داڑھی اور چہرے کو آگ لگ گئی تو اپنی داڑھی اور چہرے پر پانی ڈالو ہمسائےکے ساتھ تیرا کوئی تعلق نہیں ہے۔

ہلالی نے کہا کہ یہ ایسی چیزیں ہیں جو دہشت گرد تکفیریوں  کے لئے عذر اور بہانہ فراہم کرتی ہیں۔

اس طرح کے خرافات شیعہ سنی دونوں کے لئے ایڈز کی طرح نقصان دہ ہیں۔

اسلامی بیداری کی سپریم کونسل کے تیسرے مقرر عراق کی جماعت مسلمین کے سربراہ اور عراق کے جید عالم خالد الملا تھے۔

انہوں نے جہان اسلام کی وحدت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عراق کے شیعہ اور سنی عوام ملکر تکفیریوں کے ساتھ ایک بہت بڑی جنگ میں اتر گئے ہیں۔ اللہ کے فضل وکرم سے تمام عراقی دھڑے اور نسلی گروہ آپس میں متحد ہو گئے ہیں تاکہ لوگوں کے گلے کاٹنے والوں اور ان کے مال اور ناموس کی بے حرمتی کرنے والوں کے ساتھ  جنگ کریں۔

عراق کی جماعت مسلمین کے سربراہ نے مزید کہا کہ میرا سوال یہ ہے کہ ہم اس وسیع پیمانے کی تکفیریت، متحجر اور خشک مغزوں کے ساتھ کیا کریں؟

انہوں نے مزید کہا کہ شیعوں کو روافض اور بدعتی کہنا غلط ہے اور ایسے مسائل کو ذرائع ابلاغ کے ذریعے نہیں اٹھایا جانا چاہئے۔ اسی طرح سنیوں کو ناصبی کہنا اور معنای ناصبی کو اہل سنت سے منسوب کرنا بھی غلط ہے کیونکہ اہل سنت پیغمبر صلی اللی علیہ و آلہ وسلم کی آل سے محبت کرتے ہیں۔

خالد الملا نے کہا کہ ہمارے دین میں نہ سفید کو سیاہ پر برتری حاصل  ہے اور نہ عرب کو عجم پر، ہمیں اجازت نہیں دینی چاہئے کہ جہان اسلام میں شیعہ اور سنی کے درمیان تقسیم کو سبب بناکر تکفیریت جیسے مکتب بنائیں جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس اجتماع میں شیعہ اور سنی ساتھ مل کر بیٹھے ہیں جسکی ایک بنیادی وجہ اسلام کی بہتر تفہیم ہے اور دوسری وجہ اسلام کے خلاف تکفیری ٹولے کے خطرے کو درک کرنا ہے۔

اسلامی بیداری کی سپریم کونسل کے ایک اور مقرر عراق میں سنی اوقاف کے مسئول شیخ محمود سمیرایی تھے۔

انہوں نے شیعہ اور سنی اتحاد کے فوائد پر زور دیا اور کہا کہ جو ٹولہ تکفیریت کے عنوان سے میدان میں اتر آیا ہے اور اللہ اکبر کے ساتھ اپنے بھائی کا گلا کاٹتا ہے، یہ ایک نیا رجحان ہے جسے پہچاننے کی ضرورت ہے اور اس کو شیعہ سنی اتحاد جیسے شفا بخش نسخے سےعلاج کرانا چاہئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اللہ نے ہمیں امر بالمعروف اور نہی از منکر پر مامور کیا ہے اور ہمارے لئے سب سے بڑا فائدہ اتحاد ہے اور سب سے بڑا نقصان تفرقہ ہے۔

یاد رہے کہ اسلامی بیداری کی سپریم کونسل کا نواں اجلاس کل ہفتے کے روز عراق کے دارالحکومت بغداد میں شروع ہو چکا ہے جس سے خطاب کرتے ہوئے مختلف مسلم ممالک کے جید علمائے کرام اور اہم سیاسی و مذہبی شخصیات نے اتحاد بین المسلمین پر تاکید کی ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری