اسلام آباد: افغان طالبان کابل حکومت سے مذاکرات کریں یا پاکستان چھوڑ کر چلے جائیں

خبر کا کوڈ: 1220286 خدمت: پاکستان
طالبان

پاکستان، افغان طالبان کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے افغان حکام سے امن مذاکرات کرنے پر دباؤ ڈال رہا ہے۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق، پاکستان نے موقف اپنایا ہے کہ یا تو افغان طالبان کابل حکام سے امن مذاکرات کریں یا پھر پاکستان چھوڑ کر چلے جائیں۔

وائس آف امریکہ نے رپورٹ دی ہے کہ افغان حکومت سے امن مذاکرات نہ کرنے کی صورت میں پاکستان کی جانب سے طالبان پر اپنے خاندان اور کاروبار سمیت پاکستان سے لوٹ جانے کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

پاکستان کے ایک سینیئر حکومتی نمائندے نے بتایا ہے کہ پاکستان کی اس پالیسی کے بعد بہت سے افغان طالبان پاکستان چھوڑ کے جا چکے ہیں جبکہ بعض کی نقل مکانی کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق، پاکستان کے حکومتی نمائندے نے ان خیالات کا اظہار اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کیونکہ پاکستان حکومت کی جانب سے تاحال اس پالیسی کا باضابطہ اعلان نہیں ہوا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان پر عالمی برادری خصوصا امریکہ کی جانب سے طالبان کو اپنے ملک سے بے دخل کرنے کا زبردست دباؤ ہے۔

دوسری جانب افغان صدر اشرف غنی بھی کئی مرتبہ پاکستان پر طالبان کے خلاف کاروائی نہ کرنے کی الزام تراشی کر چکے ہیں۔

ماہ رواں کے اوائل میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے افغانستان کے سرحدی علاقے کے قریب کوئٹہ سے کئی اہم طالبان کمانڈروں کو گرفتار کیا ہے۔

گرفتار ہونے والے طالبان کمانڈروں میں احمد اللہ موتی عرف ملا نانائی، سلیمان آغا اور ملا صمد ثانی شامل ہیں۔

ان تینوں کمانڈروں نے افغان حکومت سے امن مذاکرات کا حصہ بننے سے انکار کیا تھا۔

یاد رہے کہ حکمت یار نے عرصہ قبل افغان حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ طالبان سے امن مذاکرات کئے جائیں۔

حکمت یار کے اس مطالبے کی افغانستان کے چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ نے بھی تائید کی تھی۔

حال ہی میں افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے بھی اپنے ایک بیان میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان امن مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا تھا۔

ادھر وزیراعظم نواز شریف کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز نے بھی طالبان اور افغان حکومت کے درمیان امن مذاکرات کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

خیال رہے کہ چند روز قبل قطر کے شہر دوحہ میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان خفیہ ملاقات کی خبر سامنے آئی تھی۔

ذرائع کے مطابق، اس ملاقات کا مقصد افغانستان میں امن مذاکرات کی بحالی بتایا جاتا ہے۔

مذکورہ ملاقات میں امریکی نمائندے کی موجودگی کی بھی اطلاع ملی تھی تاہم پاکستان کی جانب سے اس ملاقات میں کوئی شامل نہ تھا۔

بعد میں پاکستان میں تعینات افغانی سفیر عمر زخیل نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کو اس ملاقات کی بریفنگ دینے کی غرض سے طالبان کا ایک وفد پاکستان آیا ہے۔

تاہم سرتاج عزیز نے اس خبر کی مکمل تردید کی تھی۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری