تحریر: جی ایم جعفری

پاکستان کو یورپ سے ملانے والے واحد بارڈر پر زائرین کی حالت زار

خبر کا کوڈ: 1220725 خدمت: مقالات
زائران پاکستانی در تفتان

یوں تو پاکستان آرمی کی طرف سے دہشت گردوں کی کمر توڑنے کی خبریں ہر روز سنائی دیتی ہیں لیکن تفتان بارڈر پر زائرین کی حالت زار دیکھ کر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ تکفیریوں کے صفایے کے دعوؤں کے باوجود زائرین کو کیوں تنگ کیا جارہا ہے؟

پاکستانی کالم نگار جی ایم جعفری نے تسنیم نیوز ایجنسی کو ارسال کئے گئے اپنے مقالے میں لکھا ہے کہ یوں تو پاکستان آرمی کی طرف سے دہشت گردوں کی کمر توڑنے کی خبریں ہر روز سنائی دیتی ہیں اور ہر محب وطن پاکستانی اس قسم کی خبریں سن کر آرمی کے سربراہ راحیل شریف کو دعائیں دیتا نظر آرہا ہے۔

لیکن کیا واقعی پاک آرمی نے دہشت گردوں کی کمر توڑ کر ملک و قوم کے سر کو فخر سے بلند کردیا ہے؟ یا محض دعوے کئے جارہے ہیں؟ اور اگر دہشتگردوں کا صفایا کیا گیا ہے تو زائرین امام حسین علیہ السلام کو کیوں تنگ کیا جا رہا ہے؟ یہ ایسے سوالات ہیں جو ہر محب وطن کے ذھن میں گردش کر رہے ہیں۔

ایران کے راستے تفتان بارڈر سے سالانہ یورپ سمیت دنیا بھر سے سینکڑوں غیر ملکی پاکستان آتے ہیں لیکن پاکستان کی سرحد میں داخل ہوتے ہی یہاں کے ناقص انتظامات اور عدم سیکیورٹی کی وجہ سے سخت پریشانی کا سامنا کرتے ہیں اور یوں پاکستان کے حدود میں داخل ہوتے ہی پاکستان کے حوالے سے ان کے اذھان پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

پاکستان کو یورپ سے ملانے والے واحد بارڈر سے سالانہ لاکھوں پاکستانی اور پاکستان میں مقیم غیر ملکی بالخصوص افغان مھاجرین، ایران اور عراق میں موجود مقامات مقدسہ کی زیارات پر جاتے ہیں جن کی حوصلہ شکنی کرنے کے لئے اسلام دشمن عناصرمختلف قسم کے حربے استعمال کرتے ہیں ان میں سے ایک، راستے کو نا امن بنا کر خوف و ہراس پھیلانے کے علاوہ بارڈر پر زائرین کو بے جا تنگ کرنا بھی شامل ہے۔

دہشت گردوں کے خام خیال کے مطابق، اس طرح کی کارروائیوں سے وہ لوگوں کو آئمہ اطہار علیہم السلام کے روضوں تک جانے سے روک پائے گے جبکہ ایسا ہرگز ممکن نہیں ہے کیونکہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ دنیا کی ظالم و جابر حکومتوں نے اس سے بھی زیادہ سخت حالات پیدا کئے جس کے باوجود عاشقان حسین علیہ السلام کربلا کا رخ کرتے رہے ہیں یہاں تک کہ لوگوں نے اپنی جانیں تک قربان کیں اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

دہشت گرد شاید اس حقیقت سے لاعلم ہیں کہ جو بھی شخص راہ  امام حسین علیہ السلام میں نکلتا ہے اسے اپنی جان کی پرواہ نہیں ہوتی، وہ گھر سے ہی کلمہ طیبہ پڑھ کر نکلتا ہے اور اس قسم کی کارستانیاں حسینی کاروان کے حوصلے کو پست نہیں کرسکتیں تاہم عالمی سطح پر پاکستان کی بدنامی کا باعث بنتی ہیں اس سے بڑھ کر کچھ نہیں۔

کیونکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسالم کا فرمان ہے: اِنَّ لِقَتْلِ الْحُسَیْنِ حَرَارَة فِیْ قُلُوْبِ الْمُوْمِنِیْنَ لَاتَبْرَدُ اَبَداً۔
ترجمہ: مومنین کے دلوں میں امام حسین علیہ السلام کی شہادت کی ایسی حرارت ہے جو کبھی سرد نہیں ہوگی۔

یہ کارواں قیامت تک یوںہی چلتا رہے گا اور کوئی مائی کا لال  اسے نہیں روک سکتا۔

لہٰذا پاکستانی حکمرانوں کو چاہئے کہ دہشت گردوں کے خام خیال تبلیغات میں آنے کے بجائے زائرین کے تحفظ اور سیکیورٹی کے مناسب اقدامات کریں تاکہ دنیا بھر میں پہلے کی طرح ایک مقتدر اور طاقتور پاکستان کا تصور عام ہوجائے۔

اگر آپ تفتان بارڈر پر جائیں گے وہاں کے ناقص انتظامات اور گندگی کے ڈھیر دیکھ کر اپنے آپ کو پاکستانی کہلوانے میں شرم محسوس کریں گے۔

تفتان بارڈر پر زائرین کے ساتھ بلا کی بدسلوکی کی جاتی ہے۔ سیکیورٹی پر مامور حکومتی اہلکار کھلے عام رشوت طلب کررہے ہوتے ہیں اور امن و امان اور سیکیورٹی کا بہانہ بنا کر لوگوں کو بے جا کئی دن تک کھلے آسمان تلے روک کر رکھا جاتا ہے۔ ایک محب وطن پاکستانی کے لئے اپنے ہی وطن میں اس قسم کا رویہ  ناقابل برداشت ہوتا ہے۔

جنرل راحیل شریف سمیت  ملک کے ذمہ داروں سے ہر محب وطن پاکستانی یہی گزارش کرتا ہے کہ خدارا سب سے پہلے اپنے آستین میں چھپے ہوئے سانپوں کی خبر لیں کیوںکہ سرحد پار سے دشمن میں اب یہ ھمت نہیں رہی ہے کہ وہ ایمان سے سرشار پاکستانی قوم کی طرف میلی آنکھ اٹھا کر دیکھے۔ ملک کے لئے سب سے بڑا خطرہ ملک کے اندر موجود تکفیریوں سے ہے جب تک فوج کے ہاتھ بغیر کسی تفریق کے ان تک نہیں پہنچ جاتے تب تک پاکستان میں امن و امان قائم ہونا ناممکن ہے۔

دشمن سرحد پار سے حملہ نہیں کرسکتا کیونکہ اسے معلوم ہے کہ دندان شکن جواب ملے گا، اسلئے اب دشمن پاکستان کے اندر ہی اپنے لئے حامی پیدا کرچکا ہے لہٰذا ہمارے حکمرانوں کو چاہئے کہ باریک بینی کے ساتھ  ان غداروں تک پہنچیں اور ان کو جڑوں سمیت اکھاڑ باہر پھینکیں۔

تفتان بارڈر کو ناامن کرنے کا مقصد کیا ہے، وہ  تو سب پر عیاں ہے کہ پاکستان کے دشمنوں کو پاکستان کے ایران کے ساتھ خوشگوار تعلقات برداشت نہیں ہورہے ہیں۔ اب دشمن دن رات ایک کرچکا ہے تاکہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کردیا جائے۔

دشمن کی ناپاک پالیسوں میں سے ایک، پاکستان کو ہمسایہ ممالک سے جدا کرنا بھی ہے، جیسے کہ افغانستان کو کسی حد تک پاکستان سے دور کرنے میں کامیاب بھی ہوچکا ہے؛ جیسا کہ ہم آئے روز دیکھتے ہیں کہ افغان حکام پاکستان مخالف بیان دینے میں لذت محسوس کرتے ہیں۔ اب یہی صورت حال ایران میں بھی پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے۔

واضح رہےکہ ایران اور عراق سے پاکستان لوٹنے والے زائرین کا کہنا ہے کہ انہیں تفتان سے کوئٹہ اور پاکستان کے دیگر علاقوں کے لئے جانے نہیں دیا جارہا، زائرین میں بڑی تعداد خواتین، بچے اور سن رسیدہ افراد کی ہے جو سخت مشکلات سے دو چار ہیں۔

زائرین کا کہنا ہے کہ تفتان باررڈر پر نہ تو رہائش کا مناسب بندوبست ہے نہ ہی کھانا ملتا ہے حتیٰ کہ پینے کے لئے پانی بھی میسر نہیں ہے۔

تفتان کی انتظامیہ سیکورٹی وجوہات کو بہانہ بنا کر زائرین کو کوئٹہ جانے سے روک رہی ہے کیونکہ ماضی میں تکفیری دہشت گردوں نے کئی بار کوئٹہ اور ایران کی سرحد کے درمیانی راستے میں زائرین کی بسوں پر حملہ کرکے دسیوں زائرین کو شہید کیا ہے جس کی وجہ سے زائرین خود سے سفر کرنے میں کتراتے ہیں اور انتظامیہ کی بات مان کر تفتان میں مشکلات سہہ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ ایران و عراق سے زیارت کر کے پاکستان واپس آنے والے زائرین کو سیکیورٹی کی بنیاد پر تفتان سرحد پر کئی کئی دنوں تک حکومتی اور سیکورٹی اہلکاروں کی جانب سے روک کر رکھا جاتا ہے جہاں نہ تو کوئی ان کا پرسان حال ہوتا ہے اور نہ ہی انہیں کسی بھی قسم کی سہولیات مہیا کی جاتی ہیں؛ حتیٰ کہ بیمار زائرین کے لئے علاج تک کا انتظام نہیں ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ تین چار سالوں سے زائرین کی بسوں کو دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے جس سے اب تک 250  سے زائد  محب وطن پاکستانی شہید ہو چکے ہیں۔

حکومتی عدم توجہی کی وجہ سے زائرین مایوسی کے شکار ہیں اور حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ فوری طور پر ظلم و بربریت کا یہ سلسلہ بند کیا جائے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری