جمیعت الوفاق; بحرینی قوم کی روح میں بسی فکر

خبر کا کوڈ: 1221780 خدمت: اسلامی بیداری
جمعیة الوفاق

آل خلیفہ کا جمیعت الوفاق اسلامی کے اثاثوں کو ضبط کرنے کا فیصلہ حزب اختلاف کو کمزور کرنے اور بحرین کے سیاسی منظر نامے کو مخالف نظریات سے پاک کرنے کے لئے کی جانے والی مسلسل کوششوں کا ایک حصہ ہے۔

خبررساں ادارے تسنیم نے مصر کی البدیل نیوز ویب سائٹ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ آل خلیفہ نے عوام اور حزب اختلاف پر دباؤ اور مظالم کے سلسلے کو جاری رکھا ہوا ہے اور ان کو مزید اپنے خلاف اکسا رہے ہیں۔

آل خلیفہ حکومت ہمیشہ اپنے ظالمانہ اعمال کے ذریعے سے ملک کی سب سے بڑی آبادی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے اور شاہی نظام کے مخالفین اور خاص طور پر جمیعت الوفاق جس کو بحرینی عوام کی سیاسی حمایت حاصل ہے،کو نشانہ بنارہی ہے۔

بحرین کے حکام نے ایک تازہ ترین اقدام میں کسی بھی پیشگی نوٹس کے بغیر جمیعت الوفاق کے اثاثوں کو ضبط کیا ہے۔

آل خلیفہ سیکورٹی فورسز نے بحرین کے مغرب میں واقع اس پارٹی کے مرکز پر دھاوا بول دیا ہے اور اس مرکز کے سامان اور جائیداد کو ضبط کرلیا ہے۔

آل خلیفہ حکومت کو اس اقدام پر سیاسی، سماجی شخصیات اور شہریوں کے سخت رد عمل کا سامنا کرنا پڑا ہے یہاں تک کہ خطے کے بعض ممالک نے بھی اس کے بارے میں رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

جمیعت الوفاق کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل حسین الدیھی نے اس بارے میں کہا ہے کہ اس پارٹی کے مرکز پر آل خلیفہ سیکورٹی فورسز کا حملہ پورے ملک اور اس کی عوام کے حقوق کو ضبط کرنےکے مترادف ہے۔

جمیعت الوفاق بحرینی عوام میں مقبول پارٹی ہے اور تاریخی جڑیں رکھتی ہیں۔ اس لئے اس کو اس طرح سے ختم کرنے کے اقدامات موجودہ صورتحال میں اس پارٹی سے متعلق لوگوں کی ذہنیت کو تبدیل نہیں کرسکتے بلکہ اس سے عوام کی امیدوں اور امنگوں کو مزید مضبوطی عطا ہوگی۔

اسی طرح الوعد پارٹی کے سابقہ سیکرٹری جنرل ابراهیم شریف نے اپنے ٹویٹر کے صفحے پر لکھا ہے کہ آل خلیفہ کو سمجھنا چاہئے کہ جمیعت الوفاق خرید و فروش اور بکاؤ کا سامان نہیں ہے جبکہ سونے کو مارکیٹ میں نیلام نہیں کیا جاتا۔ جمیعت الوفاق سامان اور عمارت نہیں ہے کہ فروخت کی جاسکے۔ اس پارٹی نے ایسے جڑیں اس قدر مضبوط کر لی ہیں جنہیں کبھی بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلایا جاسکتا۔

اس جمعیت کے وکیل عبداللہ شملاوی نے بھی اس سلسلے میں کہا ہے کہ جمیعت الوفاق ایک فکری بنیاد ہے جو ظاہر اور خفیہ طریقے سے دیگر نسلوں تک منتقل ہو ری ہے۔

واضح رہےکہ بحرین میں فروری 2011 سے عوام کی پرامن تحریک بدستور جاری ہے۔ عوام ملک میں سیاسی اصلاحات کا مطالبہ کررہے ہیں تاہم جواب میں بحرینی حکومت اور آل سعود کے فوجی کارندوں نے اس عرصے میں سینکڑوں بحرینیوں کو شہید اور زخمی کیا ہے جبکہ بڑی تعداد میں لوگوں کو کہ جن میں علماء اور سیاسی رہنما بالخصوص جمیعت الوفاق کے سر براہ شیخ علی سلمان بھی شامل ہیں، کو جیل میں ڈال دیا گیا ہے اور آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم کی شہریت کو سلب کرنے کے ساتھ ساتھ ان پر جھوٹے الزامات عائد کر کے ان کا ٹرائل کیا جا رہا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری