تجزیہ/ سید عدنان قمر جعفری

مقبوضہ کشمیر میں ۔۔۔۔۔۔ ارے چھوڑو، یہ تو روز کی بات ہے

خبر کا کوڈ: 1223232 خدمت: مقالات
کشمیری نعرے عنوان

بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ظلم کی داستان اس قدر طویل اور مسلسل ہے کہ اب تو کشمیری شہریوں کی شہادت گویا روز کا معمول بن کر رہ گئی ہے۔

خبررساں ادارے تسنیم کو ارسال کئے گئے اپنے مقالے میں پاکستانی کالم نگار عدنان جعفری نے کہا ہے کہ اب نہ تو میڈیا والوں کو ایسی خبر میں کوئی سنسنی نظر آتی ہے اور نہ ہی قارئین کی اس میں دلچسپی باقی بچی ہے کیونکہ، یہ تو روز کی بات ہے۔

لیکن یہ روز کی بات، روز کا معمول، روز کی خبر اس خاندان پر قیامت بن کر ٹوٹتی ہے جس کا سربراہ بھارتی فوج کی گولیوں کا نشانہ بنتا ہے یا جس کا کمسن بیٹا بستہ اٹھائے اسکول جاتا ہے اور موت کی خبر کی شکل میں لوٹ کر آتا ہے۔

ادھر بھارتی فوج ذہنی طور پر اس قدر پست ہو چکی ہے کہ اس کی نظر میں مرد اور عورت کی کوئی تمیز باقی نہیں رہی۔

اپنی ظالمانہ پرتشدد کاروائیوں میں چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرنا بھارتی فوج کا معمول بن چکا ہے۔

حتیٰ کہ اب تو بھارتی فوج کی جوانمردی سے بچے بھی محفوظ نہیں۔ پچھلے چند روز میں اسکول جاتے بچوں کو اغوا کر کے شہید کرنے کا  اعزاز بھی بھارتی فوج کے پاس ہے۔

جسمانی تشدد کے ساتھ ساتھ کشمیری شہریوں کو ذہنی اذیت دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جاتا۔ جیسے اس سال عید الاضحیٰ پر مسلمانوں کے نماز ادا کرنے پر پابندی تھی۔ اسی طرح محرم کے جلوس برآمد کرنے پر بھی پابندی تھی۔

بھارت کی جانب سے محرم الحرام کے جلوسوں پر پابندی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ کئی سالوں سے مقبوضہ وادی میں عزاداری پر پابندی عائد ہے۔

خدارا تسلیم کیجیئے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی بربریت ایک حقیقت ہے، کشمیریوں کا بہتا ہوا خون ناحق ایک سچائی ہے۔ ظلم کی داستان جس قدر طویل ہو اتنی ہی قابل مذمت ہوتی چلی جاتی ہے۔ کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم کو روز کی بات سمجھ کر نظرانداز کرنے کے بجائے، ہر سطح پر آزادی کشمیر کے لئے آواز اور قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔

کشمیر دنیا کی خوبصورت ترین وادیوں میں سے ایک ہونے کے ساتھ ساتھ مظلوم ترین وادی بھی ہے۔

کشمیر میں لگی ہوئی یہی آگ کبھی جنرل کونسل میں نواز شریف اور سشمہ سوراج کی لفظی جنگ کا سبب بنتی ہے تو کبھی سندھ طاس معاہدے کی منسوخی کے امکان کا باعث بنتی ہے۔

کبھی دلی میں عالیشان پاکستان کی منسوخی کی وجہ بنتی ہے تو کبھی پاکستان میں سارک کانفرنس کی منسوخی کا سبب۔

کشمیر کی یہی جلتی سلگتی وادی پاکستان اور بھارت کے درمیان 3 جنگوں کی بھی وجہ بن چکی ہے۔

اگر تاریخ کے دریچے میں جھانکیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آج ہی کے روز انسانی تاریخ کی ایک بہت بڑی خیانت کا ارتکاب کیا گیا تھا جب ہندو مہاراجہ ہری سنگھ نے 27 اکتوبر 1947ء کو کشمیریوں کی مرضی کے خلاف ریاست کا بھارت کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا تھا جس کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت میں جنگ چھڑ گئی تھی۔ پاکستانی فوج اپنی قوت ایمانی سے کامیابیاں سمیٹتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھی کہ یکم جنوری 1949ء کو اقوام متحدہ کی مداخلت پر جنگ بندی ہو گئی۔ اپنی قرارداد میں سلامتی کونسل نے بھارت اور پاکستان کو کشمیر سے اپنی اپنی افواج نکالنے اور کشمیریوں کی مرضی جاننے کے لئے رائے شماری کروانے کو کہا۔

پاکستان نے اقوام متحدہ کے کہنے پر اپنی فوج واپس بلوا لی اور کشمیر کا جتنا علاقہ فتح کر لیا تھا اس پر اپنی حکومت قائم کر لی جسے آج ہم آزاد کشمیر کے نام سے جانتے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم  پنڈت جواہر لعل نہرو  کشمیر میں رائے شماری کروانے کے وعدے سے مکر گیا اور کشمیر کے اس حصے پر اپنا قبضہ جاری رکھا۔ کشمیر کے اسی حصے کو مقبوضہ کشمیر کہا جاتا ہے۔

خون میں رنگی 7 دہائیاں گزر جانے کے باوجود کسی بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں رائے شماری نہیں کروائی۔

ادھر پاکستان کبھی اقوام متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو کبھی بھارت  کو اس کا وعدہ یاد دلاتا ہے لیکن بھارت کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی اور اقوام متحدہ بھی کشمیریوں کے قتل پر کبھی معمولی، کبھی شدید مذمت کرکے رہ جاتا ہے۔

بھارت نے کشمیریوں کی مرضی کے خلاف وادی پر 70 سال سے  پرتشدد قبضہ قائم کیا ہوا ہے جبکہ کشمیری عوام آزادی پانے کے لئے 3 نسلوں سے قربانی دیتے چلے آ رہے ہیں۔

مہاراجہ ہری سنگھ کی اسی خیانت پر دنیا بھر کے کشمیری بھارتی فوج کی سر توڑ کوشش کے باوجود ہر سال 27 اکتوبر کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں، جبکہ پاکستان کے عوام بھی اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اس احتجاج میں شریک ہوتے ہیں۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق، بھارتی فوج آزادی کا مطالبہ کچلنے کے لئے اب تک کم از کم 5 لاکھ کشمیریوں کو شہید کر چکی ہےجبکہ زخمی ہونے والے کشمیریوں کی تو کوئی گنتی ہی نہیں ہے۔ لیکن آفرین ہے ان آزادی کے متوالوں پر کہ ہر صبح کا سورج ان کے جذبہ آزادی  کو نئی جلا بخشتا ہے اور وہ ایک نئے جذبے کے ساتھ  اپنے سینے بھارتی بارود کے سامنے تان لیتے ہیں۔

بھارتی فوج کا ہر ظلم اور کشمیر کے مظلوموں کے جسم سے گرتا خون کا ہر ایک قطرہ آزادی کی جانب ایک قدم ہے اور انشاءللہ اب وہ دن دور نہیں جب شہیدوں کا لہو رنگ لائے گا اور کشمیری بھارتی تسلط سے آزاد ہو کر پر امن زندگی گزار پائیں گے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری