امام زین العابدین(ع) شہادت کی مناسبت سے

امام زین العابدین علیہ السلام کا مشن تحریک کربلا کی تکمیل تھا

خبر کا کوڈ: 1223273 خدمت: مقالات
شهادت4

کربلا کے واقعے کے بعد امام زین العابدین علیہ السلام نے فاسد و بدعنوان اموی خاندان کی حقیقت کو بےنقاب اور ثاراللہ علیہ السلام کے مقدس مشن کو صحیح اور سیدھے راستے کے طور پر متعارف کرا کے حسینی مشن کی تکمیل کا اہتمام کیا-

کربلا میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے امام حسین علیہ السلام کی عظیم قربانی کے بعد امام زین العابدین علیہ السلام کو خاندان رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دوسرے افراد کے ہمراہ کوفہ اور شام لے جایا گیا جہاں انہوں نے اپنی پھوپھی محترمہ سیدہ زینب سلام اللہ علیہ کے ہمراہ فاسد و بدعنوان اموی خاندان کی حقیقت کو بےنقاب اور ثاراللہ علیہ السلام کے مقدس مشن کو صحیح اور سیدھے راستے کے طور پر متعارف کرکے حسینی مشن کی تکمیل کا اہتمام کیا-
امام علیہ السلام کی دو حکمت عملی غور طلب ہیں۔
کربلا سے شام اور زندان سے آزادی تک امام علیہ السلام کی حکمت عملی
امام علیہ السلام نے کربلا سے کوفہ، کوفہ سے شام اور زندان سے رہائی تک ہر موقع پر اپنے خطبوں کے ذریعے جہاں قیام حسینی علیہ السلام کے اصولوں اور فلسفے سے لوگوں کو آگاہ فرمایا وہیں اسلام کا نام استعمال کرتے ہوئے اسلام کی دھجیاں اڑانے کی کوشش کرنے والی ناپاک حکومت کا مکروہ چہرہ بھی بےنقاب فرمایا۔
امام زین العابدین علیہ السلام کا مۆثر ترین خطبہ آپ نے دمشق کی مسجد میں دیا جس کی بدولت شام کے عوام نے نہ صرف معاویہ سے یزید کے زمانے تک آل رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے متعلق جھوٹی تشہیر کی حقیقت کو سمجھ لیا بلکہ خاندان ابوسفیان کے سلسلے میں بھی عوام کی نگاہ بالکل بدل گئی-
دمشق کی مسجد مجمع عام کے سامنے یزید نے اپنے ایک درباری خطیب کو حکم دیا کہ علی علیہ السلام اور آل علی علیہم السلام کی مذمت، المیۂ کربلا کی توجیح اور یزید کی تعریف کرے-
خطیب منبر پر چڑھ گیا اور خدا کی حمد و ثناء کے بعد امیرالمۆمنین اور امام حسین علیہما السلام کی بدگوئی اور معاویہ اور یزید کی تمجید و تعریف میں مبالغہ کرتے ہوئے ایک طویل خطبہ دیا-
اس موقع پر امام سجاد علیہ السلام نے کرائے کے خطیب سے مخاطب ہو کر بآواز بلند فرمایا: اے خطیب! وائے ہو تم پر کہ تم نے مخلوق کی خوشنودی کے وسیلے سے خالق کا غضب خرید لیا- اب تم دوزخ کی بھڑکتی ہوئی آگ میں اپنا ٹھکانہ تیار سمجھو اورخود کو اس کے لئے تیار کرو- اس کے بعد یزید سے مخاطب ہوئے اور فرمایا: اجازت دو گے کہ میں بھی لوگوں سے بات کروں؟
یزید پہلے ہی امام علیہ السلام کے رسوا کر دینے والے کلام سے خوفزدہ تھا چنانچہ اس نے اجازت نہیں دی مگر یزید کے بیٹے معاویہ نے اپنے باپ سے کہا: زنجیروں میں جکڑے ہوئے اس مرد کا خطبہ کتنا مۆثر ہوگا! کہنے دو جو وہ کہنا چاہتا ہے!
یزید نے جواب دیا: تم اس خاندان کی صلاحیتوں سے بےخبر ہو، انہیں علم و فصاحت ایک دوسرے سے ورثے میں ملتی ہے، مجھے خوف ہے کہ اس کا خطبہ شہر میں فتنہ انگیزی کا سبب نہ بنے اور ایسا نہ ہو کہ لوگ ان کا خطبہ سن کر ہمارا ہی گریبان پکڑ لیں-

تاہم عوام نے بھی اصرار کیا کہ امام سجاد علیہ السلام کو منبر پر بیٹھنے دیا جائے-

یزید نے بڑبڑاتے ہوئے کہا: وہ منبر پر بیٹھے گا تو نیچے نہیں اترے گا جب تک مجھے اور خاندان ابوسفیان کو رسوا نہ کردے-

آخر کار شامیوں کے اصرار پر یزید نے بادل نخواستہ اجازت دے دی کہ امام علیہ السلام منبر پر رونق افروز ہوں-

اس روز آپ علیہ السلام نے منبر پر ایسا خطبہ دیا کہ لوگوں کی آنکھیں اشک بار ہوگئیں اور ان کے قلب خوف و وحشت سے بھر گئے-

امام زین العابدین علیہ السلام نے اللہ تعالی کی حمد و ثنا کے بعد
فرمایا: اے لوگو! خداوند متعال نے ہم خاندان رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو چھ خصلتوں سے نوازا اور سات خصوصیات کی بنا پر ہمیں دوسروں پر فضیلت عطا فرمائی؛ ہماری چھ خصلتیں: علم، حلم، بخشش و سخاوت، فصاحت اور شجاعت، اور مۆمنین کے دل میں ودیعت کردہ محبت سے عبارت ہیں اور ہمیں سات خصوصیات کی بنا پر برتری عطا فرمائی: خدا کے برگزیدہ پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، صدیق اکبر (امیرالمۆمنین علی) جعفر طیار، شیر خدا اور شیر رسول خدا حمزہ سیدالشہداء، پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دو سبط حسن و حسین، زہرائے بتول اور مہدی امت (علیہم السلام) ہم سے ہیں-

لوگو! [اس مختصر تعارف کے بعد] جو مجھے جانتا ہے سو جانتا ہے اور جو مجھے نہیں جانتا میں اپنے خاندان اور آباء و اجداد کو متعارف کروا کر اپنا تعارف کراتا ہوں-
لوگو!  میں مکہ و مِنٰی کا بیٹا ہوں، میں زمزم و صفا کا بیٹا ہوں، میں اس بزرگ کا بیٹا ہوں جس نے حجرالاسود کو اپنی عبا کے پلو سے اٹھا کر اپنے مقام پر نصب کیا، میں بہترین عالم کا بیٹا ہوں، میں بہترین طواف کرنے والوں اور بہترین لبیک کہنے والوں کا بیٹا ہوں، میں اس کا بیٹا ہوں جو براق پر سوار ہوئے، میں اس کا بیٹا ہوں جس نے ایک ہی شب مسجدالحرام سے مسجدالاقصٰی کی طرف سیر کی، میں اس کا بیٹا ہوں جس کو جیرائیل سدرۃالمنتہی تک لے گیا، میں اس کا بیٹا ہوں جو زیادہ قریب ہوئے اور زیادہ قریب ہوئے تو وہ تھے دو کمان یا اس سے کم تر فاصلے پر، میں اس کا بیٹا ہوں جس نے آسمان کے فرشتوں کے ساتھ نماز ادا کی، میں اس رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا بیٹا ہوں جس کو خدائے بزرگ و برتر نے وحی بھیجی، میں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور علی مرتضی علیہ السلام کا بیٹا ہوں-

میں اس کا بیٹا ہوں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سامنے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے رکاب میں دو تلواروں اور دو نیزوں سے جہاد کیا اور دوبار ہجرت کی اور دوبار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہاتھ پر بیعت کی اور بدر و حنین میں کفار کے خلاف شجاعانہ جہاد کیا اور لمحہ بھر کفر نہیں برتا، میں اس کا بیٹا ہوں جو مۆمنین میں سب سے زیادہ نیک و صالح، انبیاء علیہم السلام کا وارث، ملحدین کا قلع قمع کرنے والا، مسلمانوں کا امیر، مجاہدوں کا روشن چراغ، عبادت کرنے والوں کی زینت، خوف خدا سے گریہ و بکاء کرنے والوں کا افتخار ہے۔
میں سب سے زیادہ صبر و استقامت کرنے والے اور آل یسین یعنی آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں سب زیادہ قیام و عبادت کرنے والے والے کا بیٹا ہوں- میں اس کا بیٹا ہوں جس کو جبرائیل   علیہ السلام  کی تائید و حمایت اور میکائیل علیہ السلام کی مدد و نصرت حاصل تھی۔

میں مسلمانوں کی ناموس کے محافظ و پاسدار کا بیٹا ہوں- میں اس کا بیٹا ہوں جو مارقین (جنگ نہروان میں خوارج)، ناکثین (پیمان شکنوں اور اہل جمل) اور قاسطین (صفین میں معاویہ اور اس کے انصار) کے خلاف لڑا اور اپنے دشمنوں کے خلاف جہاد کیا-
میں تمام قریش کے بہترین فرد کا بیٹا ہو، میں اولین مۆمن کا بیٹا ہوں جس نے خدا اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دعوت پر لبیک کہا اور سابقین میں سب سے اول، متجاوزین اور جارحین کو توڑ کر رکھنے والا، مشرکین کو نیست و نابود کرنے والا تھا، منافقین کے لئے خدا کے تیروں میں سے ایک تیر کی مانند تھا، خدا کے بندوں کے لئے زبان حکمت، دین خدا کی مدد کرنے والا، اس کے امور کا ولی، حکمت خدا کا بوستان اور علم الہی کا حامل تھا-

وہ جوانمرد، سخی، حسین چہرے کے مالک، تمام نیکیوں اور اچھائیوں کے جامع، سید و سرور، پاک و طاہر، بزرگوار، ابطحی، اللہ کی مشیت پر بہت زیادہ راضی، دشواریوں میں پیش قدم، صابر و با استقامت، ہمیشہ روزہ رکھنے والے، ہر آلودگی سے پاک، بہت زیادہ نمازگزار اور بہت زیادہ قیام کرنے والے تھے۔ انھوں نے دشمنان اسلام کی کمر توڑ دی، کفر کی جماعتوں کا شیرازہ بکھیر دیا؛ وہ قلب ثابت و قوی اور محکم ارادے اور عزم راسخ کے مالک تھے۔

وہ شیر دلاور کی طرح، جب جنگ کے دوران نیزے آپس میں ٹکراتے اور جب فریقین کی اگلی صفیں قریب ہوجاتیں تو کفار کو چکی کی مانند پیس دیتے تھے اور آندھی کی مانند منتشر کردیتے تھے- وہ حجاز کے شیر اور عراق کے بزرگ اور آقا و سرور ہیں-
شام کے زندان سے آزادی کے بعد کی حکمت عملی
امام سجاد علیہ السلام نے ہر موقع پر تحریک عاشورا کو زندہ رکھنے کی کامیاب کوشش کی۔ جب کبھی پانی لایا جاتا تو آپ علیہ السلام اپنے والد ماجد کو یاد کرتے اور جب چچا ابوالفضل علیہ السلام کے بچوں کو دیکھتے تو آنسو بہاتے۔

جب کوئی بکرا یا دنبہ ذبح کرتا تو آپ علیہ السلام پوچھتے: کیا تم نے اس کو پانی پلایا ہے؟ جب وہ ہاں میں جواب دیتے تو آپ علیہ السلام فرماتے: لیکن دشمنوں نے میرے بابا حسین علیہ السلام کو پیاسا شہید کیا۔

آپ علیہ السلام کے یہ اقدامات امام حسین علیہ السلام کی الہی تحریک کو فراموش نہیں ہونے دیتے تھے-

آپ نے اپنی نرم و لطیف حکمت آمیز روشنی کے ذریعہ عاشورا کے پیغامات تاریخ بشریت میں جاوداں بنا دئے۔ امام زین العابدین علیہ السلام کو خدا نے محفوظ رکھا تھا کہ وہ واقعہ کربلا کے بعد کی اپنی 35 سالہ زندگی میں عاشورا کے سوگوار کے طور پر اپنے اشکوں اور دعاؤں کے ذریعہ اموی نفاق و جہالت کو ایمان و آگہی کی قوت عطا کرکے عدل و انصاف کی دار پر ہمیشہ کے لئے آویزاں کردیں۔

امام علیہ السلام نے ثابت کر دیا کہ اشک و دعا کی شمشیر سے بھی استبدادی قوتوں کے ساتھ کامیابی سے جہاد اور مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ ظلم و عناد سے مرعوب بے حسی اور بے حیائی کے حصار میں بھی اشک و دعا کے ہتھیار سے تاریکیوں کے سینے چاک کئے جا سکتے ہیں اور پرچم حق کو سربلندی و سرافرازی عطا کی جا سکتی ہے ۔

چنانچہ آج تاریخ یہ کہنے پر مجبور ہے کہ کبھی کبھی اشک و دعا کی زبان آہنی شمشیر سے زیادہ تیز چلتی ہے اور خود سروں کے سروں کا صفایا کردیتی ہے
۔

امام زین العابدین ،سید سجاد، عبادتوں کی زینت ، بندگی اور بندہ نوازی کی آبرو ، دعا و مناجات کی جان ، خضوع و خشوع اور خاکساری و فروتنی کی روح سید سجاد علیہ السلام جن کی خلقت ہی توکل اور معرفت کے ضمیر سے ہوئی، جنہوں نے دعا کو معراج اور مناجات کو رسائی عطا کردی، جن کی ایک ایک سانس تسبیح اور ایک ایک نفس شکر خدا سے معمور ہے، جن کی دعاؤں کا ایک ایک فقرہ آدمیت کے لئے سرمایۂ نجات اور نصیحت و حکمت سے سرشار ہے۔

امام زین العابدین علیہ السلام کی مناجات کے طفیل آسمان سجادۂ بندگی اور زمین صحیفۂ زندگی بنی ہوئی ہے۔ آپ کی " صحیفۂ سجادیہ " کا ایک ایک ورق عطر جنت میں بسا ہوا ہے اور آپ کی صحیفۂ کاملہ کا ایک ایک لفظ وحی الہی کا ترجمان ہے اسی لئے اس کو " زبور آل محمد " بھی کہتے ہیں۔ آپ خود سجاد بھی ہیں اور سید سجاد بھی، عابد بھی ہیں اور زین العابدین بھی کیونکہ عصر عاشور کو آپ کے بابا سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کا سجدۂ آخر، آپ کے سجدۂ شکر کے ساتھ متصل ہے۔

71 قربانیاں پیش کرنے کے بعد امام حسین محرم کی شب نے سجدۂ آخر کے ذریعہ سرخروئی حاصل کی اور جلے ہوئے خیموں کے درمیان، چادروں سے محروم ماؤں اور بہنوں کی آہ و فریاد کے بیچ، باپ کے سربریدہ کے سامنے سید سجاد کے سجدۂ شکر نے ان کو زین العابدین بنا دیا۔

نماز عشاء کے بعد سجدۂ معبود میں رکھی گئی پیشانی اذان صبح پر بلند ہوئی اور یہ سجدہ شکر، تاریخ بشریت کا زریں ترین اور روشن ترین ستارۂ قسمت بن گیا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری