کشمیر میں اسکول جلائے جانے کی شدید مذمت

خبر کا کوڈ: 1227038 خدمت: پاکستان
عمر عبداللہ

مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اس علاقے میں اسکول جلائے جانے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسکولوں پر حملے سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ ہمارے بچوں کی تعلیم اور دانشورانہ ترقی کے دشمن ہیں۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق، مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے مقبوضہ کشمیر میں اسکول جلائے جانے کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے بچوں کے مستقبل کو تباہ کرنے کی گھناؤنی چال قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسکول کو جلانے والے ہمارے بچوں کے دشمن ہیں۔

سرینگر سے جاری اپنے ایک بیان میں عمر عبداللہ نے کہا کہ اسکولوں کی حفاظت کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہے اور اسکولوں کو نذر آتش کرنے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے۔

عمر عبداللہ نے حریت قیادت سے اسکول جلائے جانے کی پرزور مذمت کرنے کا مطالبہ کیا اور ساتھ ہی ایسے واقعات کو حکومت کی نااہلی قرار دے دیا۔

عمر عبداللہ نے اسکولوں کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے ان کو نئی نسل کی خوداعتمادی، عزت اور روزگار کا ذریعہ بتاتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ریاستی حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اسکولوں کو تحفظ فراہم کرے گی اور مستقبل میں ایسے واقعات پیش نہیں آئیں گے۔

واضح رہے کہ چند روز سے مقبوضہ کشمیر میں اسکولوں کے نذر آتش ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔

کشمیر کے شمال و جنوب میں پھیلے دیہاتوں میں سرکاری اور نجی اسکولوں کے خاکستر ہونے سے لوگوں کو  خدشات لاحق ہیں۔

ذرائع کے مطابق، تاحال مقوضہ کشمیر میں 25 اسکول نذر آتش ہوئے ہیں جن میں سے 10 مکمل طور پر خاکستر جبکہ باقی اسکولوں کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔

حریت رہنما، سید علی شاہ گیلانی نے  بھی اسکولوں کے نذر آتش ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس عمل کی پرزور مذمت کی ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری