ترجمان ایرانی دفتر خارجہ:

انسانی حقوق کونسل میں سعودی رکنیت یمنیوں کے قتل عام پر آل سعود کو ایک تحفہ ہے

خبر کا کوڈ: 1227340 خدمت: دنیا
بهرام قاسمی

ترجمان ایرانی دفتر خارجہ نے اعلیٰ امریکی فوجی عہدیدار کے یمن کو اسلحہ اور میزائل بھیجنے پر مبنی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں سعودی عرب کو رکنیت یمن میں اس کے جرائم اور یمنیوں کے قتل عام پر تحفے کے طور پر دیا گیا ہے۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق، ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کونسل میں سعودی عرب کو رکنیت یمن میں اس کے جرائم اور یمنیوں کے قتل عام پر تحفے کے طور پر دیا گیا ہے۔

انہوں نے اعلیٰ امریکی فوجی عہدیدار کے یمن کو اسلحہ اور میزائل بھیجنے پر مبنی دعوے کی تردید کی ہے۔

قاسمی نے ایڈمرل کیون ڈونگن کے دعوے کے جواب میں کہا ہے کہ اس طرح کے جھوٹے دعوے ایسے موقع پر کئے جارہے ہیں جب بہت سے اعتراضات اور انسانی معاشرے کے باشعور اور غیرسرکاری تنظیموں کے احتجاج کے باوجود، اسلحہ بنانے والوں اور موت اور تباہی کے سوداگروں کی طرف سے سعودی عرب کو مہلک ہتھیاروں کی فروخت اور ارسال مسلسل جاری ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ روزانہ متعدد مہلک ہتھیار، امریکی بم اور میزائلز اسکولوں، ہسپتالوں، جیلوں اور رہائشی علاقوں میں مظلوم نہتے شہریوں کے سروں پر سعودی اتحاد کی طرف گرتے ہیں جن کو جنگی جرائم کے سوا کوئی دوسرا نام نہیں دیا جاسکتا ہے۔

بہرام قسمی کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری حالیہ دنوں میں یمن پر سعودی عرب کے وحشیانہ حملوں میں اضافے کو مشاہدہ کر رہے ہیں جو عالمی طاقتوں کی حمایت کے ساتھ اپنے ہولناک جرائم کو جاری رکھا ہوا ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ سب سے زیادہ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ آل سعود یمنیوں کے قتل عام اور بے رحم بمباری کر کے یمنیوں کو خاکستر بنانے کے بدلے مغرب والوں سے اجرت اور تحفے وصول کرتے ہیں اور وہ تحفے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں سعودی عرب کی رکنیت کی حمایت کے طور پر پیش کئے جاتےہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تلخ واقعہ بنی نوع انسان کی تاریخ میں ایک سیاہ دھبے کے طور پر باقی رہے گا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری