عرفان صدیقی کا اسلام آباد میں ’’گوشۂ حافظ شیرازی‘‘ کی تقریب سے خطاب؛

عرفان صدیقی: پاک ایران ثقافت، تاریخ اور تمدن کے قدیم رشتوں میں منسلک ہیں/ تصویری رپورٹ

خبر کا کوڈ: 1227816 خدمت: ایران
گوشۂ حافظ شیرازی

اسلام آباد میں ایرانی ثقافتی قونصلیٹ کے زیر اہتمام ’’گوشۂ حافظ شیرازی‘‘ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشیر وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ دونوں ممالک ثقافت، تاریخ اور تمدن کے قدیم رشتوں میں منسلک ہیں جنہیں سیاسی سطح پر قربتیں پیدا کرنے کے لئے مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔

خبررساں ادارے تسنیم کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق، نیشنل بک فاونڈیشن اسلام آباد میں ثقافتی قونصلیٹ جمہوری اسلامی ایران اسلام آباد کے تعاون سے بننے والے گوشہ حافظ شیرازی کی پرقار تقریب منعقد ہوئی۔ 

تقریب سے مشیر وزیراعظم برائے قومی تاریخ اور ادبی ورثہ عرفان صدیقی، اسلام آباد میں تعینات ایران کے سفیر مہدی ہنردوست، ثقافتی قونصلر شہاب الدین دارائی اور چیئرمین نیشنل بک فاؤنڈیشن انعام الحق نے خطاب کیا۔

انعام الحق جاوید نے بتایا کہ ’’گوشۂ حافظ شیرازی‘‘ این بی ایف کی طرف سے گزشتہ 2 برس کے دوران بنائی گئی مختلف اسکیموں میں سے اس اسکیم کے تحت وجود میں آیا ہے جس کا مقصد پاکستان اور اسلامی ممالک میں علمی و ادبی، ثقافتی و تاریخی روابط کو مستحکم کرنا اور اشتراک و تعاون کے نئے دروازے کھولنا ہے۔ 

اس سے قبل ’’گوشۂ نظامی گنجوی‘‘ قائم کیا گیا تھا اور آذربائیجان کی ایمبیسی نے این بی ایف کے صدر دفتر میں یہ ’’گوشۂ نظامی گنجوی‘‘ بنایا تھا اور اس کا سارا خرچہ پاکستان نے کیا تھا۔ اسی طرح اب ایران کے کلچرل قونصلیٹ نے ’’گوشۂ حافظ شیرازی‘‘ بنایا ہے۔

’’گوشۂ حافظ شیرازی‘‘ ایک ایسا علمی، ادبی و ثقافتی مرکز ہوگا جہاں دنیائے شاعری پر حکومت کرنے والے حافظ شیرازی کے بارے میں نشستیں ہوں گی اور علمی مکالمے ہوں گے۔ اس کے علاوہ یہ جگہ آتھرز ریسورس سنٹر کے طور پر بھی استعمال ہوگی جہاں اسکالرز، یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلبہ اور دیگر افراد اپنی پسند کی کتابیں پڑھ سکیں گے اور تحقیق کر سکیں گے۔

حافظ شیرازی فارسی کا وہ عظیم شاعر ہے جس کے کلام پر آج بھی فال نکالی جاتی ہے۔ 1388 ء میں زندگی کی 69 بہاریں دیکھنے والے حافظ شیرازی کے اس گوشے میں حافظ شیرازی کے کلام کے قدیم ترین اور جدید دواوین رکھے جائیں گے اور ان کے اشعار کے منظوم و منثور تراجم پر مبنی کتب بھی رکھی جائیں گی۔

صدیاں گزر جانے کے بعد بھی حافظ شیرازی کو جدید دنیا کی ہر زبان کے جیّد اہلِ قلم اور شعراء نے شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔  یہ جگہ علمی و ادبی مرکز کے طور پر اہلِ علم کی پیاس بجھائے گی۔

شہاب الدین دارائی کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ایران و پاکستان دونوں ممالک ثقافت، تاریخ، تمدن کے قدیم رشتوں میں منسلک ہیں، اسی وجہ سے سفارت جمہوری اسلامی ایران اسلام آباد کی جانب سے نیشنل بک فاونڈیشن میں گوشہ حافظ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔

مشیر وزیراعظم عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ گوشۂ حافظ شیرازی پاک ایران ثقافتی تعلقات کی عظیم مثال ہے۔ گوشہ کے قیام پر ایرانی دوستوں کے شکر گزار ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور ایران کے مابین گہرے علمی، ادبی اور مذہبی روابط قائم ہیں۔ ان رشتوں کو مزید گہرا اور مضبوط کیا جائے تاکہ سیاسی سطح پر بھی قربتیں پیدا ہوں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری