سعودی دربار میں تبدیلیاں جاری؛

ملک سلمان نے وزیر خزانہ سمیت 6 اہم اداروں کے سربراہوں کو برطرف کر دیا

خبر کا کوڈ: 1228105 خدمت: دنیا
پادشاه عربستان

سعودی وزیر خزانہ سمیت متعدد حکام ملک سلمان کے حکم سے تبدیل کر دیئے گئے ہیں۔

خبررساں ادارے تسنیم نے المیادین کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سعودی بادشاہ سلمان بن عندالعزیز نے اپنے دربار میں تبدیلیوں کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے وزیرخزانہ سمیت متعدد حکام کی برطرفی کا حکم جاری کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، وزیرخزانہ ابراہیم العساف کو عہدے سے برطرف کر کے ملک کی مالیاتی مارکیٹ کے چیئرمین محمد الجدعان کو ان کی جگہ پر منتخب کر دیا گیا ہے۔

سعودی باد شاہ نے کلی طور پر کم سے کم چھ اہم اداروں کے سربراہوں کو ان کے عہدوں سے بر طرف کر دیا ہے۔

سعودی بادشاہ کے عزل و نصب کے فیصلے اس ملک میں گزشتہ چند دنوں کے دوران سول سوسائٹی کی طرف سے بلائی گئی ایک عام احتجاج کے انعقاد کے بعد عمل میں آئے ہیں۔

اس احتجاج میں مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ سعودی حکومت اپنی کفایت شعاری کے سنگین فیصلوں کو عوام کے کندھوں پر ڈالنے کے بجائے، شاہزادوں اور امراء کو خصوصی مراعات دینے سے گریز کرے اور اس کے ساتھ ساتھ سیاسی قیدیوں کو بھی رہا کردے۔

سعودی بادشاہ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اپنے دربار میں اس طرح کی کئی تبدیلیاں کی ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی حکومت کےکفایت شعاری یعنی تنخواہوں میں کمی، اضافی کام کی اجرت کو حذف اور ملازموں کی چھٹیوں کو کم کرنے سے اشیاء کی قیمتوں بالخصوص بجلی، پانی کے بلوں اور ٹیکس میں شدید اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

سعودی عوام، حکومت کی مالی اور اقتصادی پالیسیوں پر سخت نالاں اور برہم ہے۔

آل سعود کی جانب سے ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصے سے بے گناہ یمنیوں پر مسلط کردہ تباہ کن جنگ، اوپیک تیل کی جنگ خاص طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اقدامات، پراکسی وار کے فریم ورک کے اندر خطے میں تکفیری دہشت گرد گروہوں کو بے تحاشا مالی امداد اور جو رقم سعودی حکومت مختلف ممالک کے حکام کی سیاسی حمایت کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے رشوت کے طور پر دیتی ہے،کی وجہ سے اس ملک کی معیشت کمزور اور تباہی کے دہانے تک پہنچ چکی ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری