اسلام آباد دھرنے سے متعلق حکومتی نمائندوں کے بیانات پر ایک نظر

خبر کا کوڈ: 1228134 خدمت: پاکستان
پاکستان مسلم لیگ

مسلم لیگ(ن) کے قائدین نے دھرنے کو ملک دشمنی قرار دے دیا ہے۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق، عمران خان کے دھرنے کی کال میں فقط ایک روز باقی ہے جبکہ مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں کی جانب سے اس دھرنے کی پرزور مذمت کی جا رہی ہے۔

نواز شریف کابینہ نے عمران خان کے اس دھرنے کو متفقہ طور پر ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے کہا ہے دھرنے اور شہروں کو بند کرنے کا اعلان درحقیقت ملک کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کو روکنے کے مترادف ہے لہٰذا سی پیک کو دھچکا پہنچا تو ذمہ دار دھرنا گروپ ہوگا۔

صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے اپنے لوگوں کے ہمراہ پنجاب پر حملہ کیا ہے، عمران خان نے کل تقریر میں اپنے تمام کارکنوں کو اسلحے کے ساتھ اسلام آباد آنے کا کہا تھا۔

وزیر مملکت محمد زبیر نے پیشکش کی ہے کہ عمران خان 10 لاکھ افراد لے آئیں، احتجاج کے لیے جگہ فراہم کردیں گے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی صورت اسلام آباد بند نہیں کرنے دیں گے۔

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے علی امین گنڈا پور کی گاڑی سے مبینہ طور پر برآمد ہونے والے اسلحے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلحے کو ساتھ لے جانا، آگ اگلتے ہوئے الفاظوں کا استعمال کرنا اور تشدد پر اکسانے کی کوشش کرنا، یہ تمام چیزیں حملے کی تیاری کو ظاہر کرتے ہیں۔

منصوبہ بندی کے وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی احتجاجی سیاست ملک کے اقتصادی استحکام کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان، چین پاکستان اقتصادی راہداری جیسے منصوبوں کے ذریعے ترقی کی راہ پر گامزن ہے جبکہ تحریک انصاف محض اپنی سیاست کیلئے ملک کو بحران کی طرف دھکیل رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے ساڑھے تین سال تک تحریک انصاف سمیت کسی سیاسی جماعت کو احتجاج سے کبھی نہیں روکا تاہم اب تحریک انصاف اسلام آباد کو بند کرنا چاہتی ہے جس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماء طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اس دفعہ لاک ڈاؤن یا بغاوت کی اجازت ہر گز نہیں دی جائے گی۔ ہم 19 کروڑ عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں، 2کروڑ کی نہیں۔ یلغار، فساد یا لاک ڈاؤن کی اجازت ہر گزنہیں دیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ سوائے بنی گالہ کے کہیں اور کوئی بھی رکاوٹ نہیں لگائی گئی۔

وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنا پہلا بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ عمران خان کو ہدایت دے کہ وہ پاکستان کو غیرمستحکم نہ کریں۔ ان کوچاہیے کہ ملک کی تعمیر میں حصہ ڈالیں۔ احتجاج اور فساد میں فرق ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پی ٹی آئی کے کارکنوں کی حفاظت کی ہرممکن کوشش کررہی ہے، تاہم کسی بھی ناگہانی حادثے کی ذمے داری پی ٹی آئی کی قیادت پرہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنے ہی گھر پر دھاوا بولنا کہاں کی دانش مندی ہے؟؟ یہ عمل کون سے جمہوری اقدار کی عکاسی کرتاہے؟ اس کا فائدہ صرف دشمنوں کو ہوسکتا ہے۔ عمران خان عوام کے مسائل میں اضافہ نہ کریں۔

یاد رہے کہ 2 نومبر کو پاکستان تحریک انصاف نے پاناما لیکس اور کرپشن کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے اور عمران خان کا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم نواز شریف یا تو استعفیٰ دیں یا پھر خود کو احتساب کے لیے پیش کردیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری