نومبر، پاکستانی اور امریکی سیاست کے لئے سال کا اہم ترین مہینہ

خبر کا کوڈ: 1228521 خدمت: پاکستان
نومبر

پاکستان کا نیا سپہ سالار، عمران خان کا احتجاج اور امریکہ کا نیا صدر سب اسی نومبر میں!!

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق، نومبر کا مہینہ امریکہ اور پاکستان کے سیاسی اور عسکری قیادت کے لئے بےانتہا اہمیت کا حامل بن چکا ہے۔

اسی ماہ کی 2 تاریخ کو یعنی کل، پاکستان تحریک انصاف نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک تاریخی دھرنا دے کر اسلام آباد کو بند کر دینے کا اعلان کیا تھا۔ چئیرمین تحریک انصاف عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ مذکورہ دھرنا وزیراعظم نواز شریف کے مستعفی ہونے پر ہی ختم ہوگا۔ دوسری صورت انہوں نے یہ بتائی تھی کہ نواز شریف خود کو احتساب کے لئے پیش کر دیں۔

لہٰذا سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کے مقدمے کی پیش قدمی پر عمران خان نے دھرنے کو یوم تشکر میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

عمران خان نے وزیراعظم سے جواب مانگنے پر سپریم کورٹ کو خراج تحسین پیش کیا اور پاناما لیکس پر نوازشریف کی تلاشی شروع ہونے پر یوم تشکر منانے کیلئے کارکنان  سے کل 2 نومبر کو  پریڈ گراونڈ اسلام آباد میں پہنچنے کی اپیل کی ہے۔

اسی ماہ کی 8 تاریخ کو امریکہ کے نئے صدر کا انتخاب ہوگا۔

اسی زمرے میں امریکہ کی ڈیموکریٹک اور ریپبلیکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ عوامی مقبولیت میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے میں سر توڑ کوشش کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ ہیلری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے مابین 3 صدارتی مباحثے ہو چکے ہیں اور ان تینوں مباحثوں میں ہیلری کلنٹن ہی فتحیاب قرار پائی ہیں۔

ہیلری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم غیر محسوس طریقے سے امریکہ میں مقیم پاکستانی اور بھارتی کمیونیٹی کے درمیان ایک معرکے کا روپ اختیار کر چکی ہے۔ جہاں ایک طرف امریکی مسلمان ڈونلڈ ٹرمپ سے خائف ہوئے ہیلری کلنٹن کی جانب مائل نظر آ رہے ہیں وہیں ڈونلڈ ٹرمپ کا ہندوؤں کی طرف واضح رجحان نظر آ رہا ہے۔

8 نومبر کو امریکی صدارتی انتخابات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن تب تک پاکستانی اور ہندوستانی امریکی نژاد برادریوں کے درمیان ایک دلچسپ رسہ کشی جاری ہے۔

اسی ماہ کی 23 تاریخ کو پاکستان کے ہر دلعزیز اور نہایت معروف آرمی چیف جنرل راحیل شریف اپنے عہدے سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔

پاکستانی عوام کی ایک بڑی تعداد کی خواہش ہے کہ جنرل راحیل شریف اپنی ملازمت میں توسیع کروا لیں تاہم آرمی چیف نے بیان دیا ہے کہ وہ مقررہ تاریخ کو ہی ریٹائر ہوں گے۔

قومی شہدا کے خاندان سے تعلق رکھنے والے جنرل راحیل شریف کی پاکستانی عوام میں مقبولیت کی اہم ترین وجہ ان کا دہشتگردی کے خلاف قیام اور بھرپور کاروائی ہے۔

آپریشن ضرب عضب کے نام سے پاکستان، اسلام اور انسانیت کے دشمن تکفیری دہشتگردوں کے خلاف باقاعدہ کاروائی کا سہرا جنرل راحیل شریف ہی کے سر ہے۔

یہ آپریشن ضرب عضب ہی ہے جس کی بدولت دنیا آج پاکستان کو دہشتگردوں کا حلیف نہیں، حریف سمجھتی ہے۔

ورنہ جب تک پاکستانی حکومت دہشتگردوں سے مذاکرات کرنے کے لئے بےتاب تھی تب عالمی برادری بھی تذبذب کا شکار تھی۔ حکومت اپنی ہی عوام کے قاتلوں کے خلاف کاروائی کرنے کے بجائے مذاکرات کرنے کے لئے اتنی بےچین کیوں ہے؟

لیکن، پاکستانی عوام کے دل کی ترجمانی کرتے ہوئے جنرل راحیل شریف نے دہشتگردوں سے کھلی جنگ کا اظہار کر کے نہ صرف 50 ہزار شہیدوں کے خون کا مان رکھا بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کا نام معتبر کیا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری