تجزیہ/

سعودیہ کی پاکستان میں نیا گھونسلا بنانے کی کوشش/ کیا پاک میڈیا آگاہ ہے؟؟؟

خبر کا کوڈ: 1230428 خدمت: مقالات
رجوی

یقین نہیں آتا کہ معروف پاکستانی خبررساں ادارہ "ایکسپریس نیوز" عدم آگاہی کی وجہ سے اُس قابل نفرت فرقہ "رجوی" کی تبلیغات کر رہا ہے جس کے ہاتھ 17 ہزار ایرانیوں کے خون سے رنگین ہیں۔ وہ فرقہ جو حال ہی میں سعودی عرب کے آغوش میں جا کر داعش کے ہم خیال، ہم مقصد اور ہم نظریہ ہو چکا ہے۔

یقین نہیں آتا کہ معروف پاکستانی خبررساں ادارہ "ایکسپریس" عدم آگاہی کی وجہ سے قابل نفرت فرقہ "رجوی" کی تبلیغات کر رہی ہے جس کے ہاتھ 17 ہزار ایرانیوں کے خون سے رنگین ہیں، وہ فرقہ جو حال ہی میں سعودی عرب کے آغوش میں آکر داعش کے ساتھ ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں۔

ایک عرصے سے بعض پاکستانی ذرائع ابلاغ  ایک عجیب، المناک اور نامناسب رویے کے ساتھ برادرانہ تعلقات کی تمام ریڈ لائن کو عبور کرتے، پڑوس کی حرمتوں کو پایمال کرتے، خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے، ایرانی حکام اور میڈیا کی رواداری اور خاموشی کا استحصال کرتے ہوئے، اسلامی اخلاقیات کے خلاف اور میڈیا کےاصولوں کے برعکس ایک خوفناک، منفور، مجرم، ایرانی حکومت اورعوام کی نظروں میں غدار دہشت گرد تنظیم کی بعنوان ایرانی اپوزیشن جانبدارانہ طور پر تشہیر کر رہے ہیں۔

ایرانی میڈیا کی عدم فعالیت اور اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتی عملے کی مسلسل خاموشی نے معاملے کو یہاں تک پہنچایا ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان کے مشہور ذرائع ابلاغ میں سے ایک باقاعدہ طور پرایرانی عوام کے مقدسات کی توہین کرنے لگی ہے اور رجوی فرقے کی سربراہ کو بنیاد بناکر ایرانی عوام اور اسلامی مقدسات کو بدنام کرنے کی کوششیں شروع کر رکھی ہے۔

اس گمراہ اور جنایت کار فرقے نے بے شمار جرائم اور غداریوں کے بعد اپنے ملک کے ساتھ خیانت کرتے ہوئے صدام کا مزدور بن کر 17000 سے زائد بے گناہ ایرانیوں کا قتل عام کیا۔ کون نہیں جانتا کہ یہ گروہ اپنے سقوط کے ان سالوں میں اپنی تنظیم کو بد نام زمانہ وہابیت اور سامراج کے ساتھ جوڑ کرداعش کا ہم پیالہ ہو گیا ہے۔

اس سلسلے میں چند نکات کی وضاحت کرنا ضروری ہے:

1۔  یقین نہیں آرہا ہے کہ ذرائع ابلاغ  کی تاریخ میں درخشاں اور مشہور مقام رکھنے والے اخبار ایکسپریس نے انجانے میں ایسی توہین آمیز حرکت کا ارتکاب کیا ہو۔ لہٰذا، مذکورہ اخبار اور اس طرح کے دوسرے اخبارات کے لئے اس جرائم پیشہ اور منفور تنظیم کی وضاحت کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ان کو یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ سعودی عرب کا رشوتی نجس پیسہ اور وہابیت کی غلامی ان اخبارات کی رسوائی کا باعث بنے گا اور ان ذرائع ابلاغ کے درخشان ماضی کو تباہ کر دے گا۔

یاد دلایا جاتا ہے کہ گزشتہ سال سعودی نائب وزیر مذہبی امور کی پاکستان کے ایک غیر معمولی سفر کے دوران ان کے ساتھ ملاقات کرنے والوں میں سے ایک، روزنامہ ایکسپریس کے مالک تھے۔ اس ملاقات اور بعد کے دوروں میں ہونے والی دونوں فریقوں کی ملاقاتوں کے نتائج کو ایکسپریس کی حالیہ کارکردگی نے واضح کر دیا ہے۔

2۔  پاکستانی حکام اور ذرائع ابلاغ اب بھی ایران کے ساتھ دوستی اور بھائی چارے کا دم بھر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک ایران کے بارے میڈیا میں ذراسی بھی خلاف ورزی کو ریڈ لائن سے  تجاوز قرار دے کر سخت ترین سزائیں دی جائیں گی۔

آج ان کے امتحان اور تصدیق کا دن ہے اور ان سے توقع کی جاتی ہے کہ ایرانی عوام کی حساسیت کو سمجھتے ہوئے اس ناقابل معافی گناہ کی بار بار تکرار سے بچنے کے لئے ان قصورواروں کے ساتھ مناسب رویے کے ساتھ نمٹا جائے اور پاک ایران کے تمام شیعوں اور سنیوں سمیت دنیا بھر میں اسلامی مقدسات کے عاشقان کے مجروح ہونے والے جذبات کو مندمل کریں اور ان کے غضب اور غصے سے فورا بچا جائے۔

یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک ایرانی سرکاری روزنامہ نگار کی جانب سے تکفیریوں اور وہابیت کے خلاف کانفرنس کی خبر شائع کرنے کو سفارتی اداب کے خلاف قرار دیکر ملک بدر کرنے کیا جاتا ہے جبکہ ایران مخالف خبرررساں اداروں کی دلجوئی کی جاتی ہے۔

3۔ ہمیں یقین ہی نہیں بلکہ یہ ہمارا عقیدہ ہے کہ مملکت خداداد پاکستان اسلامی بیداری کا علمبردار، علامہ اقبال کا دیس، جہان اسلام کے ہزاروں شہیدوں، مومنوں اور اسلام پسند عوام کا ملک ہے اور اسی بنا پر استکبار کے خلاف سخت کینہ اور بغض رکھنے والوں کے صفوں میں شامل ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان گزشتہ سالوں کے دوران سعودی فریب کی وجہ سے نہایت رنج و الم برداشت کر چکا ہے۔ لیکن ہمیں یقین ہے کہ پاکستانی عوام بہت جلد سعودی فریب کاریوں کا پردہ چاک کردیں گے اور ہرگز اجازت نہ دیں گے کہ بعض سعودی ریال کھانے والے خبررساں ادارے اور تنظیمیں جو آج ملک کی عزت و آبرو سے کھیل چکے ہیں، پاک ایران کے عوام کے درمیان فاصلہ پیدا کریں۔

4۔ ہم دہشت گردی کے خلاف پاکستانی فوج کے بلا تفریق آپریشن کا احترام کر تے ہیں اور اس مقدس جنگ کے سب شہداء کے خاندانوں اور پاکستان میں دہشت گردی کے متاثرین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور یقین دلاتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم دعا کر تے ہیں کہ خداوند متعال جلد از جلد ہمارے ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک سے دہشت گردی کی جڑوں کو خشک کرے اور دہشت گردوں کے سارے حامی رسوا اور ذلیل وخوار ہوں۔

ہم لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ جیسی سعودی اور مغربی حمایت یافتہ دہشت گردوں کو ایرانی میڈیا میں کہیں قدم جمانے کی اجازت نہیں دیں گے لیکن پاکستان کی قابل فخر فوج کس طرح سے اجازت دے رہی ہے کہ ایک بدنام ترین، منفور ترین دہشت گرد تنظیم نہایت آسانی کے ساتھ پاکستان میں لوگوں کے سامنے دن دھاڑے نظر آرہی ہے۔
پاکستانی سیکورٹی حکام کو یاد دلانے کے لئے ذکر کرتے چلیں کہ لشکر جھنگوی اور رجوی تنظیم دونوں ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں اور ان دونوں کا مشن بھی ایک ہے۔

ہم خبردار کر دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں اس رجوی دہشت گرد تنظیم کی تبلیغ دہشت گردی کے خلاف فوج کے آپریشن کو دشوار بنا رہی ہے۔

چونکہ اس تنظیم نے پاکستان میں اپنی سرگرمیوں کے لئے راہ کو ہموار کر لیا ہے لہٰذا جلد ہی پاکستان میں ان کی دہشت گردانہ کارروائیوں کا خدشہ ہے۔

5- آخری نکتہ، سفارتکاروں اور اسلامی جمہوریہ ایران کے سیکیورٹی اور عدالتی اداروں کے بارے میں ہے کہ اس خطرناک رجحان یعنی پاکستان میں رجوی فرقے کو قانونی اجازت دینے اور ان کی تبلیغ کرنے کے متعلق عدم فعالیت اور خاموشی کو توڑنا چاہئے اور سفارت کاروں کی صلاحیتوں سے استفادہ کرتے ہوئے اس طرح کے واقعات کے تکرار کو روک دینا چاہئے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری