ایران گیس کمپنی کی ہندوستانی کمپنی کو الٹی میٹم/مذاکرات کا آخری مرحلہ شروع

خبر کا کوڈ: 1231775 خدمت: ایران
گیس

پارس آئل اینڈ گیس کے منیجنگ ڈائریکٹر نے ایران سوئی گیس کی طرف سے انڈیا کی ONGC کمپنی کو دی گئی الٹی میٹم کے بارے میں کہا: اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا جائے تو ''فرزاد'' گیس فیلڈ کی ترقی اور توسیع کے لئے انٹرنیشنل ٹینڈر جاری کیا جائے گا۔

تسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، محمد مشکین فام نے مھر نیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ایران گیس کمپنی اور ہندوستانی کمپنی ONGC کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بارے میں کہا: ہندوستانی کمپنی کے ساتھ مذاکرات پچھلے ہفتے شروع کئے گئے ہیں اور اب تک جاری ہیں۔

پارس آئل اینڈ گیس کے منیجنگ ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ایران اور ہندوستانی کمپنی کے درمیان اختلافات گیس فیلڈ کی توسیع کے طریقہ کار اور مالی امور کے بارے میں پائے جاتے ہیں۔

منیجنگ ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ اگر طرفین کے درمیان مالی اور اقتصادی اختلافات ختم ہوجائیں تو باقی فنی اختلافات بہ آسانی قابل حل ہیں اور مختصر مدت میں معاہدہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے تاکید کی کہ زیادہ سے زیادہ 2 ماہ کی مدت میں مذاکرات اختتام پذیر ہونے چاہئے بصورت دیگر ''فرزاد'' گیس فیلڈ کی ترقی اور توسیع کے لئے انٹرنیشنل ٹینڈر جاری کیا جائے گا۔

پارس آئل اینڈ گیس کے سربراہ نے تاکید کی ہے کہ  فرزاد فیلڈ کی توسیع و ترقی کے پہلے مرحلے میں روزانہ کی بنیاد پر 2 بلین کیوبک فٹ گیس اخراج کی جائے گی۔

ان کہنا تھا کہ توسیع اور ترقی کے تمام مراحل طے کرنے کے بعد گیس کا ایک بڑا حصہ LNG میں تبدیل کیا جائےگا۔

انہوں نے مزید کہا: ہندوستانی کمپنی ONGC کے ساتھ معاہدہ خارج از امکان نہیں ہے کیونکہ طرفین گیس فیلڈ کی توسیع کے معاہدے کے بارے میں سنجیدگی سے مذاکرات کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ایران کے وزیر پیٹرولیم بیژن زنگنہ نے اعلان کیا تھا کہ ہندوستانی کمپنی کی طرف سے دی گئی تجاویز ایران کے لئے قابل قبول نہیں ہیں۔

ایران حکومتی اہلکار کا کہنا ہے کہ ہم اس سے زیادہ ہندوستانی کمپنی کا انتظار نہیں کرسکتے، اگر بھارتی کمپنی ONGC اپنے تہران دورے کے دوران مالی مشکلات اور اختلافات کا اذالہ نہ کیا تو ہم کوئی دوسرا فیصلہ کریں گے۔

خلیج فارس میں ایرانی ہائیڈرو کاربن کا شعبہ کہ جس میں بینالود گیس فیلڈ اور فرزاد B شامل ہیں، کی توسیع اور ترقی  ایک ہندوستانی کمپنی ONGC کو سونپی گئی تھی جس کا باقاعدہ معاہدہ 2002ء میں ہوا تھا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری