تجزیہ/ قادر خان افغان

امریکہ کے جنگی جرائم کا احتساب کون کرے گا؟ / تصاویر

خبر کا کوڈ: 1231805 خدمت: مقالات
امریکی جرائم

امریکہ جہاں انسانی حقوق کا سب سے بڑا چیمپئن بننے کا دعویٰ کرتا ہے، وہاں اس کے مکروہ چہرے سے ابلیسیت کا نقاب، عام معصوم شہریوں پر بمباریوں اور بے قصور انسانوں پر طاقت کے استعمال سے اتر جاتا ہے۔

خبررساں ادارے تسنیم کو ارسال کئے گئے مقالے میں پاکستانی تجزیہ کار قادر خان افغان کا کہنا ہے کہ امریکہ دنیا کا تھانے دار بنا ہوا ہے۔ اپنی جارحانہ پالیسیوں اور دنیا پر قبضے کی خواہش نے امریکہ نے مسلم دنیا میں انتشار پیدا کیا ہوا ہے۔

امریکہ جہاں انسانی حقوق کا سب سے بڑا چیمپئن بننے کا دعویٰ کرتا ہے، وہاں اس کے مکروہ چہرے سے ابلیسیت کا نقاب، عام معصوم شہریوں پر بمباریوں اور بے قصور انسانوں پر طاقت کے استعمال سے اتر جاتا ہے۔

امریکہ ایک نام نہاد سپرپاور کی حیثیت میں مسلسل جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے لیکن اس کے خون آشام دہانے میں لگام ڈالنے کا وقت آچکا ہے۔

یوں تو امریکی جنگی جرائم کی ایک طویل ترین فہرست ہے، جو لکھنے بیٹھیں تو کتابیں کم پڑ جائیں۔

یہاں صرف افغانستان میں امریکہ کے جنگی جرائم کا پردہ چاک کرنے کیلئے رواں سال کے کچھ واقعات کا تذکرہ کرنا چاہوں، یہ واقعات ہم سب مسلمانوں کے لئے لمحہ فکر ہے کہ امریکہ کے منہ پر لگے انسانی خون پینے کی اس عادت کو کس طرح ختم کیا جاسکے۔

اسلامی ممالک اپنی مخصوص ڈگر پر گامزن ہیں، او آئی سی بس ایک نام کا اتحاد بن کر رہ گیا ہے، جس کا کوئی کام نہیں، سوائے نمود و نمائش کے۔

امریکہ عام شہریوں میں معصوم بچوں، بزرگوں اور خواتین، اسپتالوں، مذہبی تہواروں یا شادی کی تقاریب ہوں، مسلسل سفاکیت سے انسانیت کو نشانہ بنا رہا ہے، اس حوالے سے کچھ واقعات لکھتے وقت دل پھٹ جاتا ہے اور مسلمانوں کی بے بسی و عرب ممالک کی بے حسی پر دل خون کے آنسو روتا ہے۔

پاکستان کے بردار ملک افغانستان میں گذشتہ دنوں یکے بعد دیگر دو واقعات ایسے ہوئے جو عالمی برادری کیلئے بھی لمحہ فکر ہیں۔

امریکی افواج کی سپیشل فورسزنے افغان طالبان کے مرکز "برکند باری" پر چھاپہ مارا، لیکن وہ ناکام ہو گیا۔ الٹا افغان طالبان کے ہاتھوں 15 امریکی ہلاک ہوگئے۔ جبکہ امریکیوں نے دو فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ امریکی اپنی افواج کی ناکامی چھپانے کیلئے اس طرح کی تردید جاری کرتا رہتا ہے۔

امریکہ نے اپنی ناکامی پر غضب ناک ہو کر عام شہریوں پر بمباری کی جس میں 50 سے زیادہ گھر تباہ، 60 سے زیادہ عام شہری جاں بحق ہوگئے۔

افغان حکومت نے اس موقع پر خاموشی اختیار کی، جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ امریکی بربریت نے عام شہریوں کو نقصان پہنچایا ہے۔

اسی واقعے سے قبل چار دن قبل صوبہ ارزگان کے مرکز ترین کوٹ سے ملحق درویشان کے علاقے میں بھی غضب کی بمباری میں بچوں اور بزرگ افراد سمیت 30 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ یہ بمباری اس وقت کی گئی، جب واقعے سے صرف ایک دن قبل درویشان فوجی یونٹ کے تمام اہل کاروں نے افغان طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے۔ جب کہ یہ مرکز افغان طالبان کے قبضے میں آگیا تھا۔ جب افغان طالبان نے فوجی عملے اور وہاں سے ملنے والے اسلحے کو محفوظ مقام پر منتقل کیا توعام شہری صبح اس مرکز کو دیکھنے کے لیے جمع تھے، جو امریکی طیاروں کا نشانہ بن گئے۔

اسی طرح درویشان کے سانحے سے صرف 2 دن قبل امریکی غاصبوں نے نائٹ آپریشن کے دوران صوبہ ننگرہار کے ضلع شیرزاد کے علاقے مرکی خیل میں چھاپے کے بعد علاقے پر شدید بمباری کی، جس میں عینی شاہدین کے مطابق، 30 افراد جو عام شہری تھے، جاں بحق اور زخمی ہوئے۔

اسی طرح کوسہ قلعہ کے علاقے میں فوجیوں نے شادی کی مراسم کو مارٹرتوپوں سے نشانہ بنایا، جس سے 13 خواتین اور بچے جاں بحق، جبکہ 25 مزید زخمی ہوئے۔

انتہائی افسوس کی بات ہے کہ مذکورہ چاروں سانحات کے بارے میں ابھی تک انسانی حقوق کی نام نہاد تنظیموں نے کوئی مذمتی بیان جاری نہیں کیا۔

معلوم نہیں کہ اس کے بعد وہ کس منہ سے افغانستان میں انسانی حقوق کی حفاظت کا نعرہ لگائیں گے؟

عوام خون میں لت پت ہیں۔ گھر ویران ہو رہے ہیں۔ خواتین، بچے اور بوڑھے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ کئی ایک تو نکال لیے گئے ہیں، جب کہ بہت سے اب بھی منوں مٹی تلے دفن ہیں۔ باپ کو بیٹے کی خبر نہیں۔ بیوی کو شوہر کا علم نہیں۔ بہن کو بھائی کا پتا نہیں۔ بالکل قیامت کا منظر ہے۔

آہوں اور سسکیوں کی بہتات نے ہر طرف صف ماتم بچھا دی ہے، لیکن انسانی حقوق کا ٹھیکے دار اور آزادی اظہار رائے کا دعوے دار دجالی میڈیا اب بھی امریکی جارحیت پسندوں کے بیانات کا منتظر ہے کہ ان کے منہ سے غلامی کی آلودگی میں لتھڑے ہوئے الفاظ نکلیں، تاکہ وہی اس واقعے کی حقیقی تصویر کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کر دیں۔ چاہے وہ حقائق کو کسی بھی طرح مسخ کیوں نہ کر دیں۔

عوام خون میں لت پت ہیں۔ گھر ویران ہو رہے ہیں۔ خواتین، بچے اور بوڑھے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ کئی ایک تو نکال لیے گئے ہیں، جب کہ بہت سے اب بھی منوں مٹی تلے دفن ہیں۔ باپ کو بیٹے کی خبر نہیں۔ بیوی کو شوہر کا علم نہیں۔ بہن کو بھائی کا پتا نہیں۔ بالکل قیامت کا منظر ہے۔

آہوں اور سسکیوں کی بہتات نے ہر طرف صف ماتم بچھا دی ہے، لیکن انسانی حقوق کا ٹھیکے دار اور آزادی اظہار رائے کا دعوے دار دجالی میڈیا اب بھی امریکی جارحیت پسندوں کے بیانات کا منتظر ہے کہ ان کے منہ سے غلامی کی آلودگی میں لتھڑے ہوئے الفاظ نکلیں، تاکہ وہی اس واقعے کی حقیقی تصویر کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کر دیں۔ چاہے وہ حقائق کو کسی بھی طرح مسخ کیوں نہ کر دیں۔

امریکہ کی جانب سے ایک ہفتے میں مسلسل یہ چوتھا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے صوبہ ننگرہار ضلع شیرزاد، ارزگان کے درویشان کے علاقے، قندوز ضلع چاردرہ، قندہار ضلع میوند، لغمان ضلع علیشنگ، فاریاب ضلع غورماچ، ہلمند ضلع ناد علی، خوست علیشیر، پکتیکا بانجو کے علاقے، زرمت شاہیکوٹ کے علاقے، پروان ضلع سیاگرد اور ملک کے مختلف علاقوں میں امریکی افواج نے اسی نوعیت کی وحشت اور بربریت کی ہے۔

استعماری اور امریکی فوجوں نے اپنی وحشت گردی میں 17 فروری کو صوبہ میدان میں سویڈن رفاہی ادارے کے ہسپتال پر حملہ کیا اور چار مریضوں کو بیرون نکال کر اندھیرے میں خنجروں اور چاقوؤں سے نہایت سفاکیت سے قتل کردیا۔

تعلیم کے بجائے اسکول فوجی مراکز اور چوکیوں میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ رواں سال 17 اگست کو انسانی حقوق کی تنظیم نے اپنی رپورٹ میں بھی تصدیق کی کہ کابل انتظامیہ اسکولوں کو فوجی مراکز اور چوکیوں کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔

صوبہ ارزگان کے صدر مقام ترینکوٹ شہر کے درویشان کے علاقے میں واقع فوجی مرکز اور آس پاس علاقوں پر صلیبی طیارو ں نے اتوار کے روز 30 اکتوبر 2016ء دوپہر کے وقت بے دریغ بمباری کی، جس کے نتیجے میں 30 نہتے عوام جن میں اکثریت بوڑھوں اور بچوں کی ہے، جاں بحق و زخمی ہوئے۔

صوبہ ننگرہار کے ضلع اچین کے شڈل بازار میں اتحادی کفار کے ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں 27 شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اس علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص فریضہ حج کی ادائیگی کے بعد گھر پہنچے تھے اور ان کے عزیز واقارب ان کو مبارک باد دینے کے لیے ان کے گھر میں جمع تھے جہاں وہ ڈرون حملے کا نشانہ بنے۔

رواں سال امریکی افواج کے مختلف حملوں میں جاں بحق ہونے والے عام شہریوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔

یہاں صرف چند واقعات نقل کیے جاتے ہیں:

7 اپریل کو صوبہ پکتیکا کے ضلع گومل میں امریکی افواج کے ایک ڈرون حملے میں قبائلی عمائدین سمیت 19 شہری جاں بحق ہوئے۔ مقامی افراد کے مطابق، حملے کا نشانہ بننے والے افراد تین گاڑیوں میں دو قبائل کے درمیان تصفیہ کرنے جارہے تھے کہ راستے میں ان پر حملہ ہوا۔

7 اپریل کو ہی صوبہ ننگرہار کے ضلع پچیرا گام کے پچیر مارکیٹ کے قریب امریکی فوجیوں نے عام شہریوں کی ایک گاڑی کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا۔ اس حملے میں ایک دینی عالم مولوی عبدالسلام اور پیر قمرالدین جاں بحق جبکہ تین افراد زخمی ہوئے۔

6 مئی کو صوبہ قندہار کے ضلع ازری اور حصارک کے درمیان سپاندوکس کے علاقے میں امریکی ڈروں حملے میں 11 شہری بے گناہ جاں بحق ہوئے۔ صوبائی کونسل میں ازری کے رکن عبدالولی وکیل نے اس واقعے کی تصدیق کی اور کہا کہ اس حملے میں طالبان اور عام شہری دونوں نشانہ بنے ہیں۔

12 جون کو میدان وردگ کے ضلع سید آباد کے علاقے اتڑی میں امریکی جارحیت پسندوں کے ڈرون حملے میں ایک خانہ بدوش عبداللہ جاں بحق ہوا۔

19 جولائی کو صوبہ ننگرہار کے ضلع شیرزاد کے علاقے طوطو میں ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک عام شہری عبدالکبیر جاں بحق ہوا۔

12 اگست کو صوبہ پکتیکا کے ضلع خوشامند کے علاقے میناری میں امریکہ کے وحشیانہ ڈرون حملے میں 13 شہری جاں بحق ہوئے۔ یہ حملہ ایک مقامی ڈاکٹر وریشمن کے گھر پر ہوا جس میں ڈاکٹر سمیت ان کے خاندان کے تیرہ افراد جاں بحق ہو ئے۔

یہ تمام مسلمانوں کے لئے مقام عبرت ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے امن قائم کے نام پر کس بربریت سے عام شہریوں کو تواتر کے ساتھ نشانہ بنا رہی ہے اور امت مسلمہ امریکی مظالم پر خاموش بیٹھے ہیں۔

امریکہ نے خود ساختہ قوانین کے تحت تمام اسلامی ممالک کو اپنا غلام بنانے کی روش جاری رکھی ہے، ترقی پذیر ممالک کی مجبوریاں تو سمجھ میں آتی ہیں کہ کرپٹ سیاست دانوں کے ہاتھوں عوام امریکی مالیاتی اداروں کے ہاتھوں غلامی کی زنجیروں میں جکڑی جا رہی ہے، لیکن وہ ممالک جو مال و دولت سے مالا مال ہیں، کیا ان کے دلوں، کانوں، آنکھوں اور زبانوں پر مہر لگ چکی ہے۔ یہ ہمیں سوچنا سمجھنا ہوگا کہ ایسا کیوں ہے؟

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری