ترک بغاوت کی رات ایران کی فوجی تیاریوں کی کچھ ان کہی باتیں/ ہم نے داعش کا کام سرحد سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر تمام کیا لیکن اعلان نہیں کیا


ترک بغاوت کی رات ایران کی فوجی تیاریوں کی کچھ ان کہی باتیں/ ہم نے داعش کا کام سرحد سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر تمام کیا لیکن اعلان نہیں کیا

سپریم لیڈر کے سینئر مشیر اور ایران کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے سابق سربراہ جنرل حسن فیروزآبادی کا تسنیم کے ساتھ دلچسپ اور تفصیلی انٹرویو کا پہلا حصہ قارئین و صارفین کے پیش خدمت ہے۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: جنرل حسن فیروز آبادی 1951 کومشہد میں میں پیدا ہوئے اور اپنی تعلیم کو پی ایچ ڈی تک اسی شہر میں جاری رکھا اور مشہد کے میڈیکل سائنس یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی میڈیکل کی ڈگری حاصل کی۔

ایران کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے سابق سربراہ جنرل فیروزآبادی 1985 سے دفاعی امور میں وزیراعظم کے نائب مقرر کئے گئے تھے اور اس کے بعد بھی مسلح افواج میں بہت اہم پوسٹوں پر فائز رہے ہیں۔

1989 میں ایران عراق جنگ کے خاتمے کے بعد وہ میجر جنرل کے عہدے پر فائز ہوگئے اور سپریم لیڈر کے حکم سے اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کا سربراہ مقرر ہوئے۔

جنرل حسن فیروزآبادی فی الحال بقیه‌الله الاعظم میڈکل سائنس یونیورسٹی کے رکن اور قومی دفاع کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے تعلیمی اسسٹنٹ ہیں جو عربی اور انگریزی زبانوں پر بھی مکمل عبور رکھتے ہیں۔

جنرل حسن فیروزآبادی جولائی 2016 کو ایران کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کی سربراہی سے ریٹائر ہوئے ہیں اور اس وقت سپریم کمانڈر ان چیف کے سینئر فوجی مشیر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

انٹر ویو کا پہلا حصہ ترکی میں حالیہ بغاوت اور اسی طرح ایران کو داعش کا سامنا جیسے موضوعات سے متعلق ہے۔

تسنیم: جناب ڈاکٹر آپ کے مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کی سربراہی کی مدت کے  اواخر میں پیش آنے والے  واقعات میں سے ایک ایران کے شمالی ہمسائے ترکی میں فوجی بغاوت تھی، اور اس ملک میں فوجی بغاوت ایران کے شمال مغربی حصوں کو بھی متاثر کر سکتی تھی۔ ترکی میں فوجی بغاوت کی رات ہم ہ ایرانی مسلح افواج کی پوزیشن کو جاننا چاہیں گے، کہا گیا تھا کہ اس دن ترکی کے ساتھ سرحد پر ایران کے جنگی طیارے صبح تک گشت کر تے رہے؟ کیا اس رات سیکورٹی سروسز نے بغاوت پر نظر رکھی ہوئی تھی؟ اس رات کا ماجرا کیا تھا؟

جنرل فیروزآبادی: دیکھئے بنیادی طور پر ہماری مسلح افواج کے جنرل اسٹاف میں ایک طریقہ موجود ہے، جوں ہی کسی سرحد پر کشیدگی وجود میں آتی ہے ہم فوری طور پر فوجی ہیڈ کوارٹر، سپاہ ہیڈ کوارٹر، پولیس مراکز اور علاقائی فوج اور پولیس کے کمانڈروں کو ہنگامی حالت کا اعلان کر تے ہیں۔

تسنیم: اب آئیں دوبارہ ترکی کے موضوع کی طرف، آپ نے فرمایا کہ تمام اداروں اور فوجیوں کو الرٹ کر دیا گیا تھا؟

جنرل فیروز آبادی: الرٹ کرنا تو فیصلہ کن تھا ہی، یہ کام انجام پاچکا تھا اور نگرانی بھی کرنی تھی لیکن ہم اس طرف سے کسی خطرے کو محسوس نہیں کر رہے تھے، صرف ایک خطرہ تھا کہ کہیں ان کے جنگی طیارے غلطی سے ایران میں داخل نہ ہو جائیں یا ہمارے ملک کی طرف فرار کر کے آجائیں۔ یہ ایسے خطرات تھے کہ ہم نہیں کہہ سکتے تھے کہ لڑالی وہاں ترکی میں ہے اور ہم اس سے کوئی واسطہ نہیں۔

اس لئے سرحد پر فوج اور بیک اپ یونٹس ان حالات میں جو دیکھ بھال کر سکتے تھے اسی کے مطابق پوری ہوشیاری کے ساتھ تعینات تھے۔

 

تسنیم: صرف ملک کے شمال مغرب میں یہ الرٹ جاری کیا گیا تھا؟

جنرل فیروز آبادی: نہیں، بلکہ ملک کے زیادہ تر حصوں میں افواج کو چوکس کر دیا گیا تھا۔ دفاعی پوزیشن سرحدی پوزیشن سے مختلف ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ حشرات کی حرکتوں پر بھی نظر رکھنی پڑتی ہے۔ ترکی میں فوجی بغاوت ہمارے لئے خطرہ نہیں تھی۔ لیکن ہمارے اقدامات وہاں کے منفی اثرات کو ایران منتقل ہونے سے روکنے کے لئے تھے اور ایسا ہوسکتا تھا۔

تسنیم: جیسا کہ آپ نے خود ذکر کیا کہ ترکی بغاوت کا خطرہ ایران منتقل نہ ہو اور سرحدوں تک نہ پہنچے تو کیا آپ سرحد پار بھی کوئی پیش گوئی کر چکے تھے؟

جنرل فیروز آبادی: ہم نے اس پار ترکی میں نہ کوئی پیش گوئی کی تھی اور نہ کریں گے۔ ہم ترکی کی سرحدوں کو محفوظ تسلیم کرتے ہیں اور وہاں سے متعلق مسائل سیکیورٹی سطح پر ترتیب دیئے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب سے ترکی اور کردوں کے درمیان جنگ شروع ہوئی ہے، ہم نے کبھی بھی ترکی کے اندر کسی قسم کے اقدامات نہیں کئے ہیں۔ ہم صرف اپنے ملک کی سرحدوں کی ہی دیکھ بھال کرتے آئے ہیں تاکہ سرحد پار سے کوئی منفی اثرات ہماری طرف نہ آئے کیونکہ ہم اپنے لوگوں کی سلامتی کے بارے میں غور کرتے ہیں نہ یہ کہ ہم ترکی میں کوئی مداخلت کریں۔

ترکی کے پاس ایک مضبوط نظام ہے۔ ہمیں صرف ترکی کے اندر سے ایذا رسانی کی دھمکیوں کا سامنا ہے اور وہ بھی کچھ ذیلی گروہوں کی طرف سے، البتہ یہ خطرات فی الحال خاموش ہیں۔

جب بھی ترک نظام فعال ہے علاقے کو محفوظ بنانے کے قابل ہے اور یہ ہمارے لئے بھی محفوظ ہے لیکن جب یہ علاقہ ترکی کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے تو بعض شرپسند گروہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ایذا رسانی کے اقدامات پہ اتر آتے ہیں۔ ایسی صورت میں پھر ہم سرگرم ہو جاتے ہیں اور بارڈر پہ مزاحمت کا سبب بن جاتے ہیں۔

تسنیم: ترک ذرائع ابلاغ میں یہ تجزیہ متعارف کروایا گیا تھا کہ اردوغان کا ملک چھوڑ کر ایران آنے کا امکان ہے یا یہ کہ اگر بغاوت کامیاب ہوگئی تو ایران کی طرف راہ فرار اختیارت کرے گا، اس وجہ سے ایرانی جنگی جہازوں نے اس رات صبح تک پروازیں کیں؟

جنرل فیروز آبادی: نہیں ایسا نہیں تھا، یہ حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔

تسنیم: ہمارا دوسرا سوال داعش کے بارے میں ہے۔ اگر یاد ہو بعض مسائل کو اٹھایا گیا تھا کہ داعش ایران کی سرحد سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اُس وقت کسی ایرانی کمانڈر نے اعلان کیا تھا کہ ہمارا داعش کے ساتھ ریڈ لائن سرحد پار 40 کلومیٹر ہوسکتا ہے اور اگر وہ قریب ہوگئے تو ہم ان کو نشانہ بنائیں گے۔ بعد میں یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ داعش ایران کے قریب آگئی ہے لیکن اسلامی جمہوریہ نے جو کہا تھا اس کے برعکس کوئی اقدام نہیں کیا۔

اس کے علاوہ بعض عربی ذرائع ابلاغ نے یہ پروپگنڈا کیا تھا کہ ایران داعش کا مقابلہ کرنے کے لئے عراق میں فوجی مرکز کا حامل ہے۔ ہم اس کے صحت اور سقم سے متعلق آپ سے سوال کرنا چاہیں گے؟

جنرل فیروز آبادی: وہ مرکز تکفیریوں کے ابھرنے سے پہلے کی بات ہے، قصہ بھی یہی تھا کہ کسی بھی فوجی سسٹم کی فارن انٹیلی جنس بھی ہوتی ہے، وہ انٹیلی جنس گشت کرتی ہے اور مورد ہدف علاقے سے دشمن کی تفصیلات کو جمع کرتی ہے۔

ہمین کیسے پتہ چلے کہ داعشی کیا کر رہے ہیں؟ یا امریکی داعش کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟ جو کچھ ہم مسلسل فاش کر رہے ہیں وہ ان ہی  جمع کی گئی تفصیلات سے ہی کر رہے ہیں۔

البتہ یہ تفصیلات ہیلی کاپٹر یا کسی فوجی ذریعے سے حاصل نہیں کی جاتیں۔ بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے مداخلت کی تھی، نہیں ایسا بھی نہیں ہوا تھا اور کوئی حادثہ پیش نہیں آیا تھا۔

یہ جو کہا گیا کہ خانقین کے علاقے میں داعشی عناصر دیکھے گئے، وہ کوئی کاروائی والے نہیں تھے۔ کیا کوئی اکیلا 40 کلومیٹر تک سرحد کے قریب آجائے تو گولی ماری جاتی ہے؟ ایرانی بارڈر سیکیورٹی فورسز صرف جنگی ساز وسامان کے ساتھ سرحد کے قریب آنے والے گروہوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ ہم نے داعش کو سرحد سے 40کلومیٹر کے فاصلے پر نشانہ بنایا ہے اور اس کو وہ خود صحیح طریقے سے جانتے ہیں۔ ہماری بہت سی کارروائیاں ذرائع ابلاغ کے ذریعے نشر نہیں ہوتیں۔ ابھی وہ سمجھ گئے ہیں کہ اگر دوبارہ قریب آنے کی کوشش کی تو ہم پھر ان کو نشانہ بنائیں گے۔

تسنیم: داعش کے ساتھ کوئی تصادم ہوا تھا؟

جنرل فیروز آبادی: دیکھئے داعشیوں نے عراق کے شمال میں ٹھکانے بنائے تھے اور بغداد کے قریب تک پہنچ گئے تھے، انہوں نے مشرق، مغرب اور شمال کی جانب سے بغداد کو محاصر کر لیا تھا جبکہ مشرق کی جانب ایران کی سرحد تھی۔ سڑکیں اور بغداد کے مشرقی شہروں کا بیک سائڈ ایران سے 40 کلومیٹر پر تھا اور وہ جملہ بھی اسی لئے تھا کہ اگر داعش ایران کی سرحد کے 40 کلومیٹر پر آگئی تو سبق سکھائیں گے اور یہ کا ہم نے کیا یعنی وہ کسی بھی نیت سے سرحد کے نزدیک آئے، ہم نے انہیں 40 کلومیٹر پر نشانہ بنایا۔

تسنیم: خبروں میں اس کا اعلان نہیں کیا گیا؟

جنرل فیروز آبادی: بہت سی چیزوں کا نہیں بتایا گیا ہے لیکن وہ جانتے ہیں کہ ہم نے ان کو سبق سکھایا ہے۔

داعش کے ساتھ ہماری 40کلومیٹر کی ریڈ لائن اسی طرح مسلسل قائم ہے۔

میں ان کامیابیوں کو خدا کے معجزات میں سے سمجھتا ہوں۔ اپنی سیکیورٹی فورسز اور سپاہ پاسداران کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کیوںکہ جس داعشی نے بھی بارڈر کراس کرنے کی کوشش کی ہے وہ وہیں پہ ڈھیر ہوگیا ہے یا یہاں تک کہ ملک کے اندر نفوذ کرنے کی صورت میں بھی ان کی نشاندہی کر کے نابود کر دیا گیا ہے۔ یہ سارا خداوند متعال کا لطف و کرم ہے کہ داعشی فکر کے عناصر کسی بھی وقت اسلامی جمہوریہ ایران کی آنکھوں سے بچ کے نہیں نکل سکیں ہیں۔

داعشی عناصر جہاں کہیں بھی ہیں، ہماری نظروں کے نیچے ہیں اور داعش کے مقابلے میں آج تک کسی قسم کی انٹیلی جنس شکست سے دوچار نہیں ہوئے ہیں۔

اہم ترین انٹرویو خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری