رکن اسلامی نظریاتی کونسل اور رہنما ملی یکجہتی کونسل کے ساتھ تسنیم کی بات چیت؛

امت مسلمہ کے درمیان مشترکات بے انتہا زیادہ جبکہ اختلافات نہایت کم ہیں

خبر کا کوڈ: 1232975 خدمت: انٹرویو
علامہ امین شہیدی

رکن اسلامی نظریاتی کونسل اور رہنما ملی یکجہتی کونسل نے تاکید کی ہے کہ امت مسلمہ کے درمیان مشترکات بے انتہا زیادہ جبکہ اختلافات نہایت کم ہیں۔ اگر ہم فقہی اور تاریخی مشترکات کو جمع کرنا شروع کر دیں تو نوے پچانوے فیصد مشترکات ہیں جن میں اہل بیت علیھم السلام سے عشق سرفہرست ہے اور اس بارے میں کسی مسلک میں فرق نہیں پایا جاتا۔

خبررساں ادارے تسنیم کو دئے گئے رکن اسلامی نظریاتی کونسل اور رہنما ملی یکجہتی کونسل علامہ امین شہیدی کے انٹرویو کا متن درج ذیل ہے۔

تسنیم نیوز: مظلوم یمنی عوام کے خلاف آل سعود جھوٹا اور گھناؤنا پروپیگنڈا کر ر ہے ہیں، اس سلسلہ میں دفاع حرمین کی آڑ میں مسلمانوں کا خون بہانے کی کھلی چھوٹ لینے کی کوشش بھی کی جارہی ہے، کیا کہیں گے؟

علامہ امین شہیدی: سعودیوں نے گزشتہ ڈیڑھ سالوں کے دوران جھوٹ کے علاوہ کچھ نہیں کہا، حریت پسند عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے، دفاع حرمین کے نام پر لوگوں کے پاکیزہ جذبات کا استحصال کرنے کی کوشش کی گئی، تاکہ سعودیوں کے اپنے مقاصد اور اہداف پورے ہو سکیں۔ جس کے لئے آل سعود نے ہمیشہ حرم خدا اور حرم نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو استعمال کیا، اب اس کی انتہاء ہو گئی ہے، کنگ عبدالعزیز ایئرپورٹ کی طرف جنگ کے دوران جب ایک دو راکٹ برسائے گئے، اب ظاہر ہے اس جنگ میں سعودی عرب نے یمن کا تیا پانچہ کر دیا ہے، اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے، بےگناہ انسانوں کے خون کی نہریں بہا دی ہیں۔ ایسے میں اگر کنگ عبدالعزیز ایئرپورٹ کی جانب دو چار راکٹ فائر ہوتے ہیں، تو پھر اس کو حرم پر حملے کا نام دیکر استحصال کرنا اور امت مسلمہ کے جذبات کو یمنی مسلمانوں کے خلاف ابھارنا، یہ اس جرم سے بھی بڑا جرم ہے جس کا سعودی اس وقت ارتکاب کر رہے ہیں۔ اس لئے امت مسلمہ تک یہ پیغام پہنچنا چاہیے کہ سعودی یہودیوں کا تسلسل ہیں۔

صہیونی اہداف کی تکمیل کا ذریعہ ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کے پاکیزہ جذبات کو ہمیشہ اللہ کے دین کے خلاف ابھارا ہے اور دین کی قدروں کی دھجیاں اڑائی ہیں۔ جس کا ایک نمونہ یمن میں نظر آتا ہے، ایک شام میں۔ پاکستان میں بھی دہشت گردی، فرقہ واریت اور شدت پسندی کے علم بردار اور اس کو فروغ دینے کے پیچھے سعودیہ کا ہاتھ ہے۔ سعودیوں کا ریال اور سعودیوں کی توانائیاں ہیں۔ اس حوالے سے امت مسلمہ کو آگاہ اور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سعودی پروپیگنڈا مہم سے انہیں آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسے پروپیگنڈے میں نہ آئیں جس سے آپ مظلوم ہی کو کٹہرے میں کھڑا کر دیں۔ یہ یزید ابن معاویہ کی اسی روش پر عمل کر رہے ہیں، جس پر اس نے کربلا کے اس معرکے کے بعد عمل کیا اور مظلوموں کو خارجی قرار دیکر لوگوں کے جذبات کا استحصال کرنے کی کوشش کی، اور پھر جب لوگوں کو پتہ چلا کہ یہ آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے تو ان کے جذبات تبدیل ہو گئے۔ آج بھی اسی روش سے استفادہ کیا جارہا ہے۔ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم عالمی اور لوکل میڈیا کے ذریعے سے امت مسلمہ تک حقائق پہنچائیں اور ان بھیانک جرائم سے پردہ ہٹائیں تاکہ پتہ چلے کہ آل سعود کس قدر نجس اور انتہا درجے کے مہلک ہیں عالم اسلام کے اتحاد اور بھائی چارے کی فضا کے لئے۔

تسنیم نیوز: امت مسلمہ کے مابین اتحاد ویگانگت کے لئے کیا اقدامات اٹھائے جائیں؟

علامہ امین شہیدی: دیکھیں امت مسلمہ کے درمیان مشترکات بے انتہا زیادہ ہیں۔ اختلافات بے انتہا کم ہیں۔ اگر ہم فقہی اور تاریخی مشترکات کو جمع کرنا شروع کر دیں تو نوے پچانوے فیصد مشترکات ہیں۔ اہل بیت علیھم السلام انہیں مشترکات میں سے ہیں، جن سے متعلق کسی مسلک میں فرق نہیں ہے۔ ناصبیوں اور خارجیوں کی بات الگ ہے جو لوگ ناصبی نہیں ہیں، وہ اہل بیت علیھم السلام سے عشق کرتے ہیں۔ دیوبندی ہیں تو عشق کرتے ہیں، سنی ہیں تو اہل بیت سے عشق کرتے ہیں، شیعہ ہیں تو عشق کرتے ہیں۔ اہل بیت کے پروگراموں میں تمام مسالک اکٹھے ہوتے ہیں جو مثال ہے کہ امت مسلمہ یکجا ہو سکتی ہے  اور مثبت اور تعمیری پیغام جا سکتا ہے۔

تسنیم نیوز: اربعین حسینی کے عظیم الشان اجتماع کے لئے پوری دنیا سے آزاد لوگ کربلا کا رخ کر رہے ہیں، کیا وجہ ہے کہ عالمی میڈیا اس بڑے ایونٹ کو نظر انداز کرتا چلا آیا ہے؟

علامہ امین شہیدی: برملا اعتراف کرتا ہوں کہ یہ ہماری کمزوری ہے کہ ہم اربعین حسینی کے اتنے بڑے ایونٹ کو دنیا کے سامنے پیش کرنے سے قاصر رہے ہیں۔ یہ دنیا کا وہ واحد ایونٹ ہے جس میں لوگ اپنی تمام تر مشکلات کو بھلا کر اپنے عشق و محبت کے ساتھ کربلا کو رخ کرتے ہیں۔ داعش، القاعدہ، النصرہ اور دیگر خطرات کے باوجود بے خطر آتش نمرود میں کود پڑتے ہیں۔ اس ایونٹ کو بیان کرنا ہمارے معاشرے کی اور ہماری ذمہ داری ہے۔ لوگوں کو بتایا جائے کہ امام حسین علیہ السلام کا عشق معاشرے میں کیا تبدیلیاں لا سکتا ہے۔ اگر کسی تک امام حسین علیہ السلام کے عشق کا تقدس اور احترام پہنچ جائے، آپ علیہ السلام کے خون کا پیغام پہنچ جائے تو ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ حسین سے عشق کرتے ہوئے اس راہ پر چل نہ نکلے۔ اڑھائی سے پونے تین کروڑ کا اجتماع کربلا کی سرزمین میں پیدل چلنے والوں کا ہوتا ہے۔  یہ اپنی نوعیت کا دنیا کا سب سے بڑا، سب سے زیادہ منفرد، پرمعنی اور پیغام رکھنے والا اجتما ع ہے۔

میڈیا کو اس جانب متوجہ کرنا ہماری ذمہ داری بنتی ہے۔ میڈیا کو راغب کیا جائے کہ وہ وہاں جائیں کلپس بنائیں تاکہ امام حسین علیہ السلام کے پیغام کو عالم انسانیت تک پہنچایا جا سکے اور عالم انسانیت کو حسینیت سے جوڑا جا سکے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری