تجزیہ/ عرفان علی

پاکستان کے سیاستدانوں کے لئے تاریخ کا سبق!!!

خبر کا کوڈ: 1234584 خدمت: مقالات
عرفان علی

ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کی وجہ سے پاکستان ایک اور مرتبہ دنیا کی توجہ کا مرکز بن رہا ہے۔ نواز حکومت کے آغاز سے اب تک ایسا محسوس ہورہا تھا کہ امریکا پاکستانی معاملات سے لاتعلق ہے لیکن پاکستان کے بارے میں رواں برس دو کتابوں کی اشاعت کے بعد سے امریکا کی دلچسپی قابل ذکر ہے۔

پاکستانی کالم نگار عرفان علی نے تسنیم نیوز کو ارسال کئے گئے مقالے میں مملکت خداداد پاکستان کے گزشتہ سیاستدانوں کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے ان سے سبق حاصل کرنے کی تاکید کی ہے۔ 

ملک میں جاری سیاسی کشیدگی سے قطع نظر آغاز اس نکتے سے کہ پاکستان ایک اور مرتبہ دنیا کی توجہ کا مرکز بن رہا ہے۔ نواز حکومت کے آغاز سے اب تک ایسا محسوس ہورہا تھا کہ امریکا پاکستانی معاملات سے لاتعلق ہے لیکن پاکستان کے بارے میں رواں برس دو کتابوں کی اشاعت کے بعد سے میں امریکا کی دلچسپی کے بارے میں اپنی رائے بدلنے پر مجبور ہوا ہوں۔

کارنیگی انڈوومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے نیوکلیئر ایشو پر مشہور اسکالر جارج پرکووچ اور ٹوبی ڈالٹن نے مشترکہ طور پر جو کتاب لکھی اس کا عنوان ہے ’’ناٹ وار ناٹ پیس: موٹیویٹنگ پاکستان ٹو پریوینٹ کراس بارڈر ٹیرر ازم‘‘ یہ عنوان ہی ظاہر کررہا ہے کہ پاکستان کے مقابلے میں بھارت کا ساتھ دیا جارہا ہے۔

دوسری کتاب کا عنوان ہے ’’ پاکستان ایٹ دی کراس روڈ۔۔۔ ڈومیسٹک ڈائنامکس اینڈ ایکسٹرنل پریشر۔‘‘ انٹرنیشنل سطح کے اسکالر کرسٹوف جیفرلوٹ نے یہ کتاب ایڈٹ کی ہے۔ اس میں پاکستان کے بارے میں جو دنیا بھر میں رائے پائی جاتی ہے اس کا تذکرہ بھی شامل ہے۔ یعنی کیا پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے؟ یا گیریسن ریاست ہے کہ جہاں فوجیوں کو ریاستی امور میں اہمیت اور مرکزیت حاصل ہوتی ہے یا جس کا مقصد و ہدف فوجی اہداف کی تکمیل ہو۔

تیسری رائے quasi-failedریاست یعنی تقریباً ناکام ریاست۔ اس کے علاوہ دو اور آراء کے مطابق کیا پاکستان ایک کلائنٹ اسٹیٹ ہے یعنی کسی دوسرے کے حکم کی تعمیل کرنے والی یا pivotal ریاست ہے یعنی ایسے محور پر گردش کرتا رہا ہے جس سے دنیا کے دیگر ممالک فوائد سمیٹتے رہے ہیں؟

پاکستان کی جمہوریت یا سیاسی حالات پر بات کرنے سے پہلے مذکورہ بالا نکتے کو بھی یاد رکھنا چاہئے یعنی پاکستان کو دنیا میں کس نوعیت کی ریاست کہا جاتا ہے، در حقیقت پاکستان بیک وقت ان ساری خصوصیات کا حامل رہا ہے جو دنیا کے امور کے ماہرین نے بیان کی ہیں۔

اس کے بعد یہ نکتہ کہ پاکستان میں جمہوریت ہے تو کونسی قسم کی جمہوریت ہے؟ آئیان ٹالبوٹ، برٹش ایسوسی ایشن فار ساؤتھ ایشین اسٹڈیز کے صدر، یونیورسٹی آف ساؤتھمپٹن کے ڈیپارٹمنٹ آف ہسٹری کے چیئرمین اور رائل ہسٹاریکل سوسائٹی کے فیلو ہیں جنہوں نے’’ پاکستان، ایک جدید تاریخ‘‘ کے عنوان سے کتاب لکھی۔

اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس نے سال 2015ء میں ’’اے ہسٹری آف پاکستان‘‘ کے عنوان سے پاکستان کی تاریخ پر ایک کتاب مرتب کی جس میں ٹالبوٹ صاحب کا ایک مقالہ بعنوان ’’ڈیموکریٹک چینج‘‘ موجود ہے۔

ان کی نظر میں پاکستان کی سیاست کو سمجھنے کے لئے اس کی نو آبادیاتی میراث کو سمجھنا ہوگا۔ وہ کہتے ہیں کہ 1947تا1958 پاکستان میں صوبوں کی حد تک پروسیجرل ڈیموکریسی تھی یعنی ایسی جمہوریت جس میں الیکشن تو ہوتے ہیں لیکن جس میں شہریوں کا اثر و رسوخ لبرل ڈیموکریسی کی نسبت بہت کم ہوتا ہے البتہ انہوں نے پروسیجرل کے مقابلے میں سوشل ڈیموکریسی کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ حالانکہ اگر اس اصطلاح کا اطلاق اگر امریکا پر کیا جائے تو وہاں بھی پروسیجرل ڈیموکریسی ہی نظرآتی ہے۔

ٹالبوٹ کہتے ہیں کہ پاکستان کی پارلیمانی سیاست کا پہلا عشرہ نفرت انگیز ناکامی پر مبنی تھا۔ اس میں سربراہ مملکت کے ہاتھوں مرکزی و صوبائی حکومتوں کو تحلیل کرنے کی روایت قائم کردی گئی۔ 1954ء میں سپریم کورٹ نے گورنر جنرل غلام محمد کے ہاتھوں آئین ساز اسمبلی کی برطرفی کو نظریہ ضرورت کے تحت جائز قرار دے دیا تھا جس کی وجہ سے ملک کی تاریخ کا رخ مڑگیا اور 1970ء تک عام انتخابات کا انتظار کرنا پڑا جس کی وجہ سے پارلیمانی نظام کی جڑیں گہری نہ ہوسکیں، وزیراعظم تیزی سے تبدیل کئے جاتے رہے۔ طاقت کا منبع کراچی کے سیاسی مرکز سے تبدیل ہوکر راولپنڈی آرمی ہیڈکوارٹر منتقل ہوگیا۔ آئینی اور صوبائی بحران نے صوبوں اور مرکز کے درمیان کشیدگی پیدا کردی اور دیگر صوبوں میں پنجاب اور مرکز کو ایک سمجھا جانے لگا۔

پاکستانی سیاست کی تاریخ لکھنے والوں میں ایک محترم نام ڈاکٹر صفدر محمود صاحب کا بھی ہے۔ انہوں نے’’مسلم لیگ دور حکومت ‘‘ کے عنوان سے اپنی کتاب میں لکھا کہ گورنر جنرل غلام محمد اور خواجہ ناظم الدین میں اختلافات کی کئی اور وجوہ تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ غلام محمد کو خواجہ صاحب کی آئینی تجاویز ناپسند تھیں اور ان کا خیال تھا کہ ان کی بنیاد پر بہت جلد آئین بن جائے گا کیونکہ دستور ساز اسمبلی میں مسلم لیگ اکثریت میں ہے اور اس آئین کے بننے کے بعد گورنر جنرل کے بہت سے اختیارات ختم ہوجانے تھے۔ چنانچہ گورنر جنرل نے آئین کا راستہ روکنے کے لئے وزیراعظم کو ہی رخصت کردیا۔

دوسری وجہ یہ تھی کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خواجہ صاحب موثر وزیراعظم بن گئے تھے اور انہیں گورنر جنرل کی دخل اندازی پسند نہیں تھی جبکہ گورنر جنرل کابینہ کے اراکین اور مرکزی سیکرٹریوں کو بلا کر ہدایات جاری کرتے تھے۔

یہ ایک جھلک ہے اس دور کی لیکن سب سے زیادہ اہم نکتہ صفدر محمود صاحب نے جو بیان کیا وہ یہ ہے کہ ’’غلام محمد نے سیاسی رہنماؤں کے نفاق سے فائدہ اٹھاکر خواجہ ناظم الدین کو برطرف کردیا اور اپنی حیثیت مضبوط کرلی۔‘‘
طول تاریخ میں پاکستان کے سیاسی رہنماؤں کے اس نفاق نے ہی فوجی آمروں کے اقتدار پر قبضہ جمانے کی راہ ہموار کی اور اس کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔

یہ ناچیز پاکستان سیاست کا گذشتہ ستائیس سال سے چشم دید گواہ ہے، اس پر کافی کچھ لکھ چکا ہے جو اردو، انگریزی اور سندھی ذرایع ابلاغ میں شایع ہوچکا ہے۔ خاص طور پر الیکشن اور انتخابی سیاست وغیرہ میرا پسندیدہ موضوع رہا ہے۔

1990ء کا پورا عشرہ، اس کے بعد کی دہائی اور اس عشرے کے یہ چھ سال، اس دوران حالات حاضرہ پر میری تیار کردہ خبریں، تجزیے و تبصرے پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ریکارڈ کا وہ حصہ ہیں کہ جو پاکستان پر لکھنے والے سیاسی محققین کی تحقیق میں  sourceکے طور پر استعمال ہوں گے۔ بہت سے اسکالرز اور بعض تھنک ٹینکس نے ان سے استفادہ بھی کیا ہے۔

پاکستان کی سیاسی حقیقت سمجھنے کے لئے سوال یہ کیا جانا چاہیے کہ کیا بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی سیاسی روش ایسی نہ تھی کہ تیسری قوت ٹیک اوور نہ کرتی۔ اس دوران صدر غلام اسحاق خان اور ان کے بعد فاروق لغاری آٹھویں آئینی ترمیم کا استعمال کیا کرتے تھے۔

جنرل ضیاء کا اقتدار پر قبضہ کیسے ہوا؟ کیا پی این اے کی تحریک امریکی سی آئی اے کے وہیل جام آپریشن پر عمل پیرا نہیں تھی؟ سیاستدان بعد میں کہتے تھے کہ ہم تو بھٹو سے مفاہمت کے نزدیک پہنچ چکے تھے لیکن مذاکرات کی جو کامیابی انہیں نظر آرہی تھی، وہ ان کی ڈوریں ہلانے والوں کو ان سے پہلے معلوم تھی اور استعمال ہونے والوں اور استعمال کرنے والوں میں یہی فرق ہوتا ہے کہ اول الذکر لکیر کا فقیر ہوتا ہے۔

پرویز مشرف کے ٹیک اوور سے پہلے تقریباً سارے سیاستدان سڑکوں پر تھے۔ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس المعروف جی ڈی اے روزانہ ریلیاں و مظاہرے برپا کرتا تھا۔ بالآخر پرویز مشرف کے آنے پر مٹھائیاں بانٹنے والے بھی سیاستدان تھے اور بھٹو کی موت پر خوشیاں منانے والے بھی سیاستدان تھے۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ کسی ادارے کے غیر آئینی اقدامات کی حمایت کی جائے لیکن تاریخ کا ناقابل فراموش سبق یہ ہے کہ اپنی غلطیوں سے سبق سیکھا جائے۔

آج پھر صورتحال وہیں ہے جہاں غلام محمد، جنرل ایوب، جنرل ضیاء اور جنرل پرویز مشرف نے سیاسی رہنماؤں کے نفاق کا فائدہ اٹھایا تھا۔ کیا عمران خان ریٹائرڈ ایئر مارشل اصغر خان اور پی این اے کی تحریک بننا چاہتے ہیں کہ استعمال ہوجائیں اور کوئی اور آکر اقتدار کے مزے لوٹے؟

مخدوم جاوید ہاشمی نے 2014ء کے دھرنے کے وقت بھی ایک بیان دے کر رخ بدل دیا تھا۔ اس مرتبہ انہوں نے کہا ہے کہ عمران خان کو چلانے والی قوتیں ملک سے باہر بیٹھی ہیں اور عمران خان کو ایک گھنٹہ پہلے بھی معلوم نہیں ہوتا کہ حکومت سے منوانا کیا ہے؟

ٹھیک ہے کہ مالی بدعنوانی کا احتساب ہو۔ مطالبہ بھی درست ہے لیکن کیا اپوزیشن کے سیاستدان خود تاحال کسی سنگل پوائنٹ ایجنڈا پر ایک ہوئے ہیں؟ عمران خان، شیخ رشید و طاہر القادری سڑکوں پر ہیں۔ جماعت اسلامی ان سے دور ہے جبکہ کرپشن کے خلاف وہ بھی احتجاج کررہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا احتجاج بھی عجیب و غریب سست روی کا شکار ہے۔ ایسی صورتحال میں نواز شریف، ان کے خاندان اور ان کی حکومت کے خلاف احتساب کا میکنزم کیسے طے ہوپائے گا۔

پارلیمنٹ میں اکثریت نواز لیگ کی ہے، پارلیمنٹ سے بل کیوں کر منظور ہو سکے گا؟

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق قومی اسمبلی کی کل 342 نشستوں میں نواز لیگ 188 ووٹ کی حامل ہے۔ یعنی سادہ اکثریت سے چند ووٹ زیادہ ہی ہیں۔ آصف زرداری اور بلاول کی پی پی پی قومی اسمبلی میں 46 اراکین رکھتی ہے جبکہ عمران خان کی جماعت کے 33 اراکین ہیں۔

اگر نواز لیگ کے اتحادی فضل الرحمان، محمود اچکزئی، نیشنل پارٹی اور دیگر اتحادی ان کا ساتھ چھوڑ بھی دیں تب بھی نواز لیگ کے خلاف ان کے مخالفین قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت بھی نہیں رکھتے۔

یعنی یہ کہ پانامہ پیپرز لیکس میں وزیر اعظم اور ان کے اہل خانہ کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کی تحقیقات کے لئے قانون سازی کا کوئی مسودہ قومی اسمبلی سے منظور نہیں کروایا جاسکتا۔ آئینی و قانونی طور پر اس محاذ پر نواز لیگ کا پلڑا بھاری ہے۔

پی پی پی نے جو مجوزہ قانونی بل جمع کروایا ہے وہ بھی منظور نہیں ہوسکتا خواہ نواز لیگ کی اتحادی جماعتوں کے اراکین بھی پی پی پی کے مجوزہ بل کے حق میں ووٹ دیں اور عمران خان کی جماعت بھی ان کی حمایت کرے تب بھی ان سب کی مجموعی قوت کمزور ہے۔

لائن آف کنٹرول کی کشیدہ صورتحال اور سی پیک کو لاحق خطرات وہ دو وجوہات ہیں جس کی بنیاد پر عمران خان اور حکومت دونوں کو ہی تحمل کا مظاہرہ کرنے کا سوچنا چاہئے۔ داخلی بحران و متشدد سیاست سے پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر تنہائی میں اضافہ ہی ہونا ہے۔ سرمایہ کاری پہلے ہی کم ہوچکی، اب وہ بالکل ختم ہوکر رہ جائے گی۔

ایجی ٹیشن کی سیاست سے اور سیاسی لچک نہ دکھانے سے حکومت اور عمران خان دونوں ہی اس حادثے کے ذمے دار قرار پائیں گے کہ جو ان کی غلط روش سے کسی بھی وقت رونما ہوسکتا ہے۔ پاکستان کے بارے میں کلائنٹ ریاست، گیریسن ریاست جیسی اصطلاحات استعمال کرنے والوں کو تقویت ملے گی اور اس سے ملک عالمی سطح پر بدنام ہوگا۔

کلائنٹ ریاست پر حیران لوگ یہ دیکھیں کہ پاکستان کی مقتدر شخصیات اور اداروں نے امریکا اور سعودی عرب کے بین الاقوامی مسائل میں جو کردار ادا کیا، یہ اصطلاح وہاں سے سامنے آئی۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان ایک فلاحی ریاست بنے۔ علامہ اقبال اور محمد علی جناح کے خوابوں کی تعبیر بنے۔ قرآن سے متصادم قوانین نہ بنیں۔ حکمران عملی رول ماڈل ہوں۔ احتساب سب کا ہو بلا تفریق و بلا امتیاز ہو۔ کھوکھلے نعروں اور زندہ باد مردہ باد، میں مسلمان تو کافر کی سیاست کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ ملک کے وسائل کی عادلانہ تقسیم ہونی چاہئے۔ عوام کی ٹیکسوں کے بوجھ تلے دفنانے سے گریز کرنا چاہئے۔ اہلیت کی بنیاد پر روزگار فراہم کیا جائے۔ ملک بھر میں ترقیاتی کام ہوں۔ تعلیمی ادارے، صحت کی سہولیات کے مراکز ہر ضلع و تحصیل کے ساتھ گاؤں میں بھی ہوں۔ سیکیورٹی ادارے بے لگام نہ ہوں۔ پرائیویٹ ملیشیا کسی طور برداشت نہ کی جائے چہ جائیکہ انہیں اسٹرٹیجک اثاثے کہہ کر سرپرستی کی جائے۔ عمران خان اور نواز شریف سمیت سبھی سیاستدان بنیادی انسانی حقوق سمیت ان تمام ایشوز پر توجہ فرمائیں اور اسی کے لئے کوشاں رہیں ورنہ تاریخ کی عدالت میں سبھی مجرم گردانے جائیں گے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری