تسنیم کی خصوصی رپورٹ/

نو منتخب امریکی صدر اور پاکستانی سیاستدان

خبر کا کوڈ: 1236981 خدمت: پاکستان
ٹرمپ

ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے پر پاکستان کے مختلف سیاستدانوں نے اپنا اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر متوقع طور پر امریکی صدر بننے پر دنیا بھر کی اہم سیاسی، سماجی اور عسکری شخصیات کی جانب سے مختلف رد عمل سامنے آ رہے ہیں۔

اس سلسلے میں پاکستانی سیاستدانوں کا موقف قارئین کے پیش خدمت ہے۔

صدر ممنون حسین: ڈونلڈ ٹرمپ دنیا میں امن و استحکام کیلئے بھرپور کردار ادا کریں گے اور ان کے دور صدارت میں پاک امریکہ تعلقات مزید وسعت اختیار کریں گے۔


وزیراعظم محمد نواز شریف: ڈونلڈ ٹرمپ کا انتخاب امریکی عوام اور ان کی جمہوریت آزادی انسانی حقوق اور آزادانہ معیشت کے نظریات پر پختہ یقین کی فتح ہے۔ یہ امریکی عوام کا ان کی قیادت اور نظریے پر اعتماد ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان آزادی، جمہوریت، باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی اسٹریٹجک شراکت داری ہے، دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط اشتراک عمل خطے کے وسیع تر امن و سلامتی اور استحکام کے فروغ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ امید ہے کہ دونوں ممالک کے روابط اور تعلقات مزید گہرے اور مضبوط ہوں گے اور دونوں ممالک کے عوام کی خواہشات پر پورے اتریں گے۔
 

وزیر خزانہ اسحاق ڈار: پاکستان اور امریکہ پرانے دوست ہیں، پاکستان اور امریکہ کا تعلق آزادی، جمہوریت، انسانی حقوق اور عوام کی طاقت پر یقین کے اصولوں پر مبنی ہے۔ امریکہ پاکستان کا دوسرا بڑا شراکت دار ہے اور امریکہ پاکستانی برآمدات کے لئے ایک بڑی مارکیٹ ہے۔ پاکستان امریکہ کے ساتھ تجارتی اور معاشی تعلقات بڑھانے کا خواہاں ہے۔ خطے میں امن، استحکام کے لئے پاکستان اور امریکہ کا تعاون جاری رہے گا۔


مشیر خارجہ سرتاج عزیز: نئی امریکی انتظامیہ سے بھر پور تعاون جاری رکھیں گے،  کوشش ہوگی کہ امریکہ سے اقتصادی تعلقات مزید مستحکم ہوں۔ اسٹریٹجک مذاکرات کو موثر بنانے کی کوشش کریں گے۔ امید ہے کہ نئی قیادت مسئلہ کشمیر کے حل میں کردار ادا کرے گی۔

سابق صدر زرداری: کسی بھی قسم کا عدم اعتماد دونوں ممالک کے درمیان اچھے تعلقات میں حائل نہیں ہوگا۔ انتہا پسندی اور دہشتگردی کے خلاف لڑنے کے لئے متحد ہو کر عالمی سطح پر ایک دوسرے سے تعاون کی ضرورت ہے۔
 

بلاول بھٹو زرداری: عوام بینظیر کا پاکستان بنانے میں میری اور نئی پیپلزپارٹی کی مدد کریں۔ امریکہ میں بھی صنفی امتیاز زندہ ہے۔ اگر پاکستانی چاہتے ہیں 2018 کے انتخابات میں ٹرمپ جیسی چال کا شکار نہ ہوں، تو میری حمایت کریں۔
 

اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ: ٹرمپ کی کامیابی کے بعد پوری دنیا میں بڑی تبدیلی آئے گی۔
 

شیری رحمن: ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی حیران کن ہے۔ وہ ہندوؤں کے بھرپور حمایتی ہیں اس صورت میں پاکستان کو خارجہ پالیسی کے حوالے سے خود کو مستحکم رکھنا ہوگا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت پر ہمیں اتنا پریشان نہیں ہونا چاہیے، نائن الیون کے بعد امریکہ بہت تبدیل ہو گیا ہے۔ امریکی الیکشن خوف کی بنیاد پر جیتا گیا ہے، اہم ریاستوں میں خواتین نے ہیلری کو ووٹ نہیں دیا۔
 

امیر جماعت اسلامی سراج الحق: ہم امید رکھتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ الیکشن جیتنے کے بعد اپنی قومی و بین الاقوامی ذمہ داریوں کے سبب اپنی فکر میں تبدیلی پیدا کریں گے اور ایک ذمہ دار امریکی صدر ہونے کا ثبوت دیں گے۔
 

سابق صدر مشرف: امید ہے کہ ٹرمپ دنیا میں امن اور استحکام لانے کی کوشش کریں گے اور پاکستان بھارت تنازعات کے حل کیلئے کردار ادا کریں گے۔
 

جبکہ پاکستان میں تعینات امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی سے پاکستان کے حوالے سے امریکی پالیسی میں تبدیلی نہیں آئے گی۔

پاکستان اور امریکہ تجارتی شراکت دار ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات صرف ایک شعبے تک محدود نہیں، اس لئے ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی سے پاکستان کےحوالے سے امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری